حاکم خود اپنے عہدِحکومت میں مر گیا
مجھ جیسے قلم کار جو نثر اور نظم دونوں اصناف میں ما فی الضمیر بیان کرتے ہیں ان دونوں اصناف کو عزیز بھی رکھتے ہیں لیکن کبھی کبھی یوں بھی توہوتا ہے نا کہ موضوع اپنے لیئے ہیئت خود ہی منتخب کر لیتا ہے۔آج بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے اور خیال نے شعر کا جامہ ہی پسند کیا ہے۔
دکھ تو نہیں کہ تنہا مسافت میں مر گیا
اچھا ہوا میںتیری رفاقت میں مر گیا
حاکم خود اپنے عہدِحکومت میں مر گیا
زندہ وہی رہا جو بغاوت میں مر گیا
کچھ نفرتوں کی نذر ہوا میرا یہ وجود
باقی جو بچ گیا تھا محبت میں مر گیا
مجھ کو کبھی حصار میں کب لے سکا کوئی
میں اس لئے بس اپنی حراست میں مر گیا
اب تو یہ بات تم کو بہت ناگوار ہے
لیکن اگر کبھی میں حقیقت میں مر گیا
اُس کی محبتوں کا رضیؔ ذکر کیا کروں
اتنا سکوں ملا کہ اذیت میں مر گیا































نویدصدیقی
نے لکھا؛
March 29, 2007 at 4:41 am
سلام۔بہت خوب کہا آپ نے۔اس صورتِ حال پر اس سے جامع تبصرہ ممکن نہیں۔
waqar masood khan
نے لکھا؛
April 1, 2007 at 6:41 pm
Razi bhai,
Alqamar per aap bhi blog likhtay heink, maloom na tha, aaj achanaknazarparee aur saath mein aap ki itni dilkash ghazal, buhut accha laga, umeed he aap ki pur lutf nasar aur khubsoorat nazmein/ghazlein ab yehan bhi parhnay ko miltee rehain gee, ghazal buhut acchi lagee,
wassalam
waqar masood khan