جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
ھمدانی صاحب؛آپ کے کالم کے حوالے سے عرض کرؤں کہ ‘‘آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا‘‘ کہ سیاست معاویہ اور سیاست کرکٹ میں چولی دامن کا ساتھ ہے(چولی کے پیچھے کیاہے چولی کے پیچھے) یعنی میرا مطلب ہے کہ ابن الوقتی اپنی معراج پر ہے جس کو چاہے آپ ‘‘خلیفہ ‘‘ یعنی رہنما مقرر کر دیجئے۔ نہ معیار کی قید نی علم و عمل کی پابندی۔
‘‘جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے‘‘۔ وطن مالوف اور کرکٹ کی باگ انکے ہاتھ ہے‘‘جو نہیں جانتے دوا کیا ہے‘‘۔
اوپننگ کا مسلہ بھی پاکستان اور کرکٹ کا کچھ مختلف نہیں اور نہ رہبانِ ملت کا۔ OPENING PAIR یعنی قائد اعظم اور قائد ملت جم کے بیٹنگ نہ کر پائے اور اسی طرح نہ ہی ہماری کرکٹ ٹیم کو یہ نعمت خداوندی میسر آ سکی۔
مسلہ انتخاب عالم کا نہیں بلکہ انتخاب کا ہے اور سیاسی اصطلاح میں انتخابات کا ہے۔ نہ تو انتخاب کرنے والے معتبر و مجتحد نہ منتخب ہونے والے قابل و اکمل۔
بقول فراق۔۔۔‘‘بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی‘‘
محسن بھائی کا پچھلے دنوں انتقال ہوا انکے ایک قطعے پر بات ختم کرتے ہیں۔
اس حادثہ ء وقت کو کیا نام دیا جائے
میخواروں کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
مختصر یہ کہ جامَ کرکٹ اور ظرفِ وطن نا اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔
فقیرِ ہیوسٹن
سید جاوید زیدی






























