انسا نیت کا وعظ وہ فر ما رہے ہیں آج
خبر ہے کہ حکمراں مسلم لیگ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سر براہ جناب مشا ہد حسین صاحب نے یہ مطا لبہ کیا ہے کہ ایران ان پندرہ سیلرز اور میرینزکوانسا نیت کے نام پر رہا کر دے ۔اور بر طا نوی حکو مت کی غلط پالیسی کی سزا ان کی نہ دے۔خدا کاشکر ہے کہ ان کی زبان پرانسانیت کا نام آیا، یہ اچھی پیش رفت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اب وہ ہزاروں لو گ جو لا پتہ ہیں یا پا کستان کی جیلو ں میں یا ہما رے دوستوںں کی جیلو ں میں شک میںسالوں سے پڑے سڑ رہے ہیں ،جوبے گناہ ہیں ۔وہ جلد ہی رہا ہو جا ئیں گے۔ان میں شایدوہ بھی شامل ہو ںجو کل پر سوں صدر اور وزیرآعظم پر تنقید کر نے پر پا نچ سا ل کے لیئے جیل بھیجے گئے ہیں ۔ ہمیں یہ قانو ن عجیب لگا۔ کیو نکہ جس ملک کی ما ڈرن پا لیسی میں تو ہینِ رسالت جیسا قانو ن دقیا نو سیت کی دلیل سمجھا جا رہاہے ا ور اس کو دستور سے نکالنے کی
با تیں ہو رہی ہیں وہا ں ۔ انسا نو ں پر تنقید جرم بنا نے کا قانو ن تا زہ وارد ہے ۔ جبکہ خو د بر طا نیہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف با ت کر نے پر قانون مو جود ہے۔ ہمارا مشورہ انہیں یہ ہے کہ اس سلسلہ میں پا لیسی وضع کر نے سے پہلے فرانس کے ایک وزیر کا یہ بیا ن جو ضرورپڑھ لینا چا ہیئے کہ میں اس کے با وجود بھی اپنا کا رٹو ن بنو انا پسند کر تا ہو ں ،جبکہ میڈیا میرے ساتھ اکثرزیا دتی کر جا تی ہے۔ کیونکہ میں آزادی صحا فت کا علمبردار ہو ں لہذا میں کچھ نہیں کہتا ۔ خیروہ تو ہم بھی ہیں ؟
اب آتے ہیں ایران کو انسا نیت کے سبق پر۔ اچھا بات کہنا اچھی با ت ہے۔ مگر کہنے والے کو پہلے خو د عمل کر نا چا ہیئے۔ہم اتنا بتا دیں کہ کو ئی آزاد ملک اپنی ملکی حدود کی خلا ف ورزی کی اجا زت نہیں دیتا ۔اور ایسا جو کر تا ہے وہ کسی رحم کا مستحق نہیں ہو تا ۔ورنہ سر حدیں اور چا ر دیواریاں کھلو نابن جا ئیں ، چوراورطا قتور کھیلا کر یں ۔تا ریخ میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے فر عون کو جب ڈبو یا تھا، تووہ اکیلا نہیں تھا بلکہ پو ری قوم کو لے ڈو با تھا ۔ ہم اپنی با ت کو اپنے ہی اس شعر پر ختم کرتے ہیں ۔
جن کو پتہ نہیں ہے کہ انسا نیت ہے کیا






























