ایک خبر بلا تبصرہ
تین اپریل کو جب چیف جسٹس افتخار چوہدری کو سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش کیا گیا تو سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر نعرہ بازی جاری تھی اور عمارت کے اندر بھی ایک غیر معمولی واقعہ اسوقت سامنے آیا ۔ عمارت کے اندر لاہور ہائی کورٹ کے ایک وکیل ریٹائرڈ کرنل انورآفریدی نے احتجاج کے طور پر اپنے وہ سارے تمغے واپس کردیئے جو ان کو فوج کی نوکری کے دوران ملے تھے۔ انور آفریدی اپنے ساتھ وہ سب تمغے لیکر آئے تھے اور انہوں نے ہوا میں لہراتے ہوئے یہ سب تمغے پھینک دیئے اور اعلان کیا کہ پاکستان میں عدلیہ کی مکمل آزادی اور جمہوریت کی بحالی تک وہ اپنے نام کے ساتھ کرنل کالفظ بھی استعمال نہیں کریں گے۔































نصر ملک ۔
نے لکھا؛
April 3, 2007 at 11:54 pm
آفرین ہے لاہور ہائی کورٹ کے ایک وکیل ریٹائرڈ کرنل انورآفریدی پر کہ انہوں نے احتجاج کے طور پر اپنے وہ سارے تمغے واپس کردیئے جو ان کو فوج کی نوکری کے دوران ملے تھے۔ ریٹائرڈ کرنل انور آفریدی نے تو کارنامہ کردکھایا اور اس فرد واحد کا یہ کارنامہ “ریکارڈ “ پر بھی آچکا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ “ حاضر سروس “ اور دوسرے ریٹائرڈ کرنل ‘ میجر ‘ بر گیڈیئر اور جنرل جو ابھی تک اپنی نام نہاد فتوحات اور نمایاں کارکردگیوں کے تمغے سجائے ہوئے ہیں ان کے ضمیر کہاں سو چکے ہیں ؟ سرکاری مراعات و انعامات کے طور پر یہ کرنل جرنل ملک کے آدھے رقبے کو جس طرح اپنے نام آلاٹ کر چکے ہیں اس کا حساب کون دے گا ۔ اور یہ جو فوجی ٹیکسٹایل ملیں ہیں ‘ فوجی فانڈیشن اور فوجی شوگر ملیں ہیں اور کیڈت کالجز ہیں ان پر فوجیوں کے قبضے اور ان کے خاندانوں کو نسل در نسل پاکستان پر حکمرانی کے لیے تیار کئے جانے کاسلسلہ کب ختم ہو گا؟
ہمارے پیارے صفدر ھمٰدانی صاحب ! کیا یہ ممکن نہیں کہ 1971 کے بعد سے اب تک جن جن نیازیوں ‘ آفریدیوں ‘ چوھدریوں اور انہی کی طرح کے دوسرے نام نہاد فاتح فوجیوں کو جو تمغے اور مراعات و انعامات کے طور پرزمینیں دی گئی ہیں بحق قوم و وطن ضبط کر لی جائیں؟ کیا کہیں گئے ہمارے دیگر قارئین بیچ اس معاملے کے !!