سرطان اور کم عمری میں سگریٹ نوشی
بہت دنوں سے کچھ نہیں لکھا اور اس کے لیئے کوئی بہانہ تراشنے کی ضرورت ہر گز نہیں۔ بہت سی وجوہات ہیں لیکن یہ سب وجوہات ایسی ہی ہیں جو کسی کو بھی درپیش ہو سکتی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ اب جو لکھنے بیٹھا ہوں اور ایک اہم موضوع پر۔
مطالعے کے دوران ایک بات سامنے آئی اور سوچا کہ اسے کیوں نہ آپ سب کے ساتھ شیئر کر لیا جائے؟
سگریٹ نوشی سے متعلق ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے کہا ہے کہ وہ خواتین جو کم عمری میں ہی سگریٹ نوشی شروع کر دیتی ہیں، انکے چھاتی کے سرطان(کینسر) میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہیں۔
کینیڈا میں ہونے والی اس تحقیق کے مطابق وہ نوجوان لڑکیاں جو سن بلوغت کو پہنچنے کے بعد پانچ برس کے عرصے میں سگریٹ نوشی شروع کرتی ہیں ان میں چھاتی کے کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات، سگریٹ نوشی نہ کرنے والی خواتین کے مقابلے میں ستر فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی نو خواتین میں سے ایک کو زندگی میں کسی بھی وقت چھاتی کے کینسر کا خطرہ لاحق ہے۔سائنسدانوں نے کہا کہ وہ خواتین جو کم عمری سے ہی سگریٹ نوشی کرتی آئی ہیں اور زندگی کے کسی مرحلے پر حاملہ بھی رہ چکی ہیں، ایسی خواتین کا چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ ایسی خواتین جن کے ہاں بچوں کی پیدائش نہیں ہوئی ہوتی لیکن وہ روزانہ بیس یا زیادہ سگریٹ پیتی ہیں، ایسی خواتین کو بھی چھاتی کے کینسر کا خطرہ دوسری خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔






























