Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

یوم مادر اور کراچی کی نوحہ کناں مائیں

تیرہ مئی کو دنیا بھر میں یوم مادر منایا جاتاہے اس دن دنیا بھر کی عورتوں کو ان کے پیارے تحائف پیش کرتے ہییں۔لیکن یہ پاکستان اور پاکستانیوں کی روایت رہی ہے کہ یہ ہر اس دن کو انوکھے انداز سے منانے کے طریقہ پر عمل کرتے ہییں جس سے دنیا میں ان کی انفرادیت کی مثالیں دی جاسکیں۔تیرہ مئی کا دن بھی پاکستان کی ماوں کےلیے ایک انوکھے تحفے کی صورت میں طلوع ہوا ہے ۔تیرہ مئی کا روز یوم مادر اور کراچی کی نوحہ کناں ماوں کو لاشوں کے تحائف پیش کرنے والے اس انوکھے طریقہ ہائے تحائف اور انوکھے انداز میں منائے جانے والے یوم کو پوری دنیا نے دیکھا ہے کہ چالیس کے قریب ماوں کی گود خالی ہوگئی کئی بچے اپنی ماوں کے سروں کو باپ کے سائے سے مرحوم دیکھ کر اس یوم کو منائے جارہے ہیں کتنی بہنیں اپنے بیٹوں کی جان کی حفاظت کی دعا کے ساتھ اپنی ماوں کو تسلیاں دے رہی ہیں کہ ان کے بیٹے ان کے لیے تحائف لینے گئے اور اپنی جان کا تحفہ لاش کی صورت میں ان کو دے جارہے ہیں۔کتنے بچے اس آس میں دروازے کی راہ تک رہے تھے کہ ان کے باپ ان کی مان کے لیے کوئی تحفہ لے کر نمودار ہونگے لیکن سفید کفن میں لپٹی لاشیں ان کے لیے زندگی بھر کے بھاری بوجھ کا تحفہ لے کر نمودار ہوا۔کراچی کی مائیں نوحہ کناں ہیں کہ ان کو یوم مادر پر اتنا عظیم تحفہ دیا گیا کہ روح تک کانپ جائے اور شاباش تو ان کے لیے ہے جو اپنی کرسی اور اپنی انا کی آبیاری کی خاطر لاشوں سے بھرے صندوق تحائف کی شکل میں عوام کو تقسیم کررہے ہیں ۔ماں آہ آج پھر کسی کا لال بلاوجہ موت کا شکار ہوا اور کسی ماں کی گود خالی کر گیا تو کسی گھرانے کا جوان زندگی کے بوجھ سے آزاد ہوکر ہمیشہ کے لیے اپنے لواحقین کو دردناک عذاب کے لیے منوں مٹی تلے سو گیا۔ماوں کو یہ عظیم تحائف بخشنے والے چیف اپنے اپنے شیشے کے گھروں میں لاشوں کے تحائف دینے پر ایک دوسرے کا شکریہ ادا کررہے ہیں اور لعنت ہے ان کی سوچ پر کہ اس عظیم سانحہ پر بھی دکھ محسوس کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزام عائد کرکے بری الذمہ ہونے کے راستے تلاش کررہے ہیں۔ کیاان ماوں کے درد کو کوئی بانٹ سکے گا جن کی پوری کمائی ان کا واحد سہارا ہے ؟کیا ان بچوں کو زندگی کی گاڑی کھینچنے کی خاطر محنت مزدوری کرنے سے کوئی روک سکے گا جن کے ابھی عمریں سکول جانے اور اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ کھیل کود کی ہیں؟کیا ان معصوم بہنوں کو کوئی برائی کے راستے پر جانے سے روک سکے گا جن کے عزیز غیرت مند بھائی اپنی بہنوں کو باعزت رخصت کرنے کی خاطر دن رات محنت مزدوری سے جہیز بنانے کی خاطر اپنے آرام کو حرام کیے ہوئے تھے؟کیا ان بیواوں کو کوئی طعنوں سے روک سکے گا جو ان کو شوہر کی موت کے بعد بچوںاور گھر کی گاڑی کو چلانے کی خاطر گھر کی دہلیز سے پار جانے پر مجبور کرسکا؟کیا حکمرانوں اور سیاسی مداری گروں کی چالیں جاننے کی خاطر عوام کو حقیقی شعور سے کوئی آشنا ہونے کی سعی کرسکے گا؟کیا عوام کو سچ دکھائے جانے اور سچ جاننے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دورکرسکے گا؟کیاحکمرانوں کی مائیں اپنی بیٹوں کی سیاسی دکان کو چمکانے کے لیے ان کی راہ رکاوٹ بن جائیں گی تاکہ یوم مادر پر کسی ماں کی گود خالی نہ ہوسکے؟کیا  ایک ماں دوسری ماں کا دکھ دیکھ کر انقلاب برپا کرسکے گی؟کیاماوں نے ایسے بچوں کوجنم دینا چھوڑ دیاہے جن سے پاکستان کے عوام کی قسمت بدل سکے گی؟کیاماوں کو رلانے والے کو ایک ماں کے ہاتھوں ہی سزا سنائی جاسکے گی؟کیا کسی ماں کے لال کی بلاوجہ موت کا ذمہ دار کسی حاکم کو ٹھرایا جاسکے گا؟کیا ان سوالات کا کہیں خاتمہ ہوسکے گا؟نہیں کیونکہ ہم ایک ملک کے اندر معاشرتی حیوانیت کے شکار ہیں اور حیوانیت کا تقاضہ انسانیت کو ختم کرنا ہے یہ ہی ایک معاشرتی حیوان کی جبلت ہے۔افسوس کے ہم اسلام کے پیروکار انسانیت کا سبق دینے والے معاشرتی حیوانیت کا عملی ثبوت دے رہے ہیں کیا یہ ہی اسلام ہے کہ اپنی ماوں کو ایسے عظیم تحفے دو کہ پوری دنیا اس کی مثال دے؟

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

1 Comment »

  1. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    May 13, 2007 at 8:51 pm

    برادرم سکندر چوہان
    اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ ہم سب کو قلم کی عزت اور حُرمت کا خیال رکھنا ہے اور ہم سب کو اس موضوع پر لکھنا چاہیئے۔
    آپ نے جس طرح اس موضوع کو چھیڑا ہے وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔آپ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ‘‘ماؤں کو یہ عظیم تحائف بخشنے والے چیف اپنے اپنے شیشے کے گھروں میں لاشوں کے تحائف دینے پر ایک دوسرے کا شکریہ ادا کررہے ہیں اور لعنت ہے ان کی سوچ پر کہ اس عظیم سانحہ پر بھی دکھ محسوس کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزام عائد کرکے بری الذمہ ہونے کے راستے تلاش کررہے ہیں‘‘۔
    اللہ آپ کو اور آپ کے قلم کو سلامت رکھے۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو