ایک تیر سے دو شکار
یہ کہاوت میں نے بچپن سے لیکر آج تک اہل عقل سے کئی بار سنی مگر اسکو پریکٹیکلی کبھی ہوتے نہیں دیکھا تھا مگر 2007کے آتے ہی یہ بات بھی پوری ہوگئی، اس تیر سے ہونیوالا پہلا شکار جنا ب چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری صاحب تھے جب کہ دوسرا شکا ر متحدہ قومی موومنٹ ہوئی۔تیر چلانے والے اور تھے اور چلوانے والے اور، اس تیر کے پیچھے جنکا ہاتھ تھا اُن پر کسی نے انگلی تک نہیں اُٹھائی وہ آج بھی بڑے معزز ہیں اور کل بھی وہ بڑے معزز لوگوں میں شمار تھے۔تیر چلوانے کا مشورہ جن نیک لوگوں کا تھا وہ تھے گجرات کے چوہدری برادران اور تیر جن نیک ہاتھوں نے چلا وہ نیک ہاتھ صدر پرویز مشرف کے تھے۔اَب آپ سوچ رہے ہوںگے کہ پہلے تیر کا چوہدری برادران سے بھلا کیا تعلق ، جناب بہت گہرا تعلق ہے، پنجاب حکومت چوہدر ی پرویز الہی صاحب کی انگلی پر ناچتی ہے۔ وہ ہوتا ہے پورے پنجاب میں جو چوہدری صاحب چاہتے ہیں۔ پنجاب میں موجودہ دورِ حکومت میں جتنے قتل، ڈاکے ، سڑیٹ کرائم ہوئے ہیں انکی مثال پچھلے 60سالوں میں نہیں ملتی۔اسی لیے تو ہر آئے روز کورٹ والا چوہدری گجرات والے چوہدری سے جواب مانگتا تھا۔ جوگجرات والے چوہدری کی شان کے خلاف تھا۔ بسنت کی اجازت جب کورٹ والے چوہدری نے نہیں دی تو بنا بتائے گجرات والے چوہدری نے بسنت کا اعلان کر دیا۔اس پر بھی کورٹ والے چوہدری کو رنج تھا مگر وہ کچھ کرنہیں سکتے تھے، لیکن اُن کے دل میں یہ بات ضرور تھی۔اس لیے گجرات والے چوہدری کورٹ والے چوہدری سے بھی جان چھڑانے کے فل موڈ میں تھے۔۔۔۔دوسرا تیر جسکا شکار MQMہوئی اُس کو چلانے کا مشورہ بھی گجرات والے چوہدریوں کا تھا اور چلانے والے ہاتھ صدر مشرف صاحب کے تھے۔پچھلے تین چار سال سے MQMنے اپنے آپ سے دہشت گردی کا لیبل ہٹوانے کیلئے بہت محنت کی۔اور اس میں سب سے زیادہ اُنکا ساتھ دیا جناب صدر مشرف صاحب نے ۔صدر صاحب کے آشیر باد کی وجہ سے MQMنے پورے پنجاب میں آفس کھو ل لئے ، پنجاب چوہدری صاحب کا تھا, ہے اور رہے گا ۔ اس لیے چوہدری صاحب کو صدر صاحب کا یہ آشیرباد بھی بہت گرآں گزار۔ جسکا تذکرہ اُنہوں نے کبھی ظاہراً نہیں کیا مگر اند ر اندر سے آگ کی چنگاری جلتی رہی۔جو بعد میں شعلہ بنی۔یہ ماننا پڑے گا کی چوہدری بہت عقل مند لوگ بنتے ہیں اس لیے تو لوگوں کے سر پنچ بھی اکثرچوہدری ہی ہوتے ہیں۔چوہدری صاحب یہ چاہتے تھے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔اس لئے انہوں نے اپنے نیک ارادے سے سب سے پہلے صدر صاحب کو چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف ریفرنس کا مشورہ دیا۔جس میں وہ بہت اچھی طرح کامیاب ہوئے۔اور آج وہ مشرف جو بلوچوں کو کہتا تھا ”میں تمھیں وہاں سے ماروں گا کہ تمھیں پتا بھی نہیں چلے گا” اُسی مشرف کی نیندیں اُڑ گئی ہیں۔صد ر صاحب نے ابھی تک پہلے جال سے پر نہیں چھڑوائے تھے کہ چوہدری صاحبان نے ایک اور پھندا تیار کیا یہ پھندا تھاMQMکے گلے میں ڈالنے کیلئے۔ اور اس بار صدر صاحب کو مشورہ دیا گیاکہ چیف جسٹس کراچی میں خطاب نہ کر سکیں۔کاش صدر صاحب نے اُسوقت چوہدری صاحب سے یہ پوچھا لیا ہوتا کہ جب چیف جسٹس لاہور آئے اُس وقت آپ نے یہ بات کیوں نہیں کی تھی۔صدر صاحب نے MQMکی رسی کچھ زیادہ ڈھیلی کر دی اور MQMوالے بھی بنا سوچے سمجھے اِس جال میں کود پڑے اور 40نہتے لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔اس کے بعد MQMکو پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا کی میڈیا نے سب سے بڑا دہشت گر کہا۔اور MQMکو پنجاب، سرحد اور بلوچستان سے کوچ کرنا پڑا۔بعض اوقات بڑے بڑے عقل مند ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں جنکا کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔ایسی ہی غلطی مشرف صاحب اورMQMنے کی جس کا پھندا اُن کے گلے میں پڑ گیا۔جو زندگی میں تو کیا مرنے کے بعد بھی نہیں نکل سکتا ۔۔یہ تھی ایک تیر سے دو شکار کھیلنے کی اصل کہانی۔۔۔۔






























