دیرکتنی لگتی ہے؟
آج کی بھاگتی دوڑتی زندگی میں ہر فرد واقعی مصروف ہے یا مصروف دکھائی دیتا ہے۔جسے دیکھئے ۔۔۔کہیں نہ کہیں جلدازجلد پہنچنے کی دھن میں سرگرداں ہے۔چاہے اس دھن میں اس کا نقصان ہی کیوں نہ ہو جائے۔پیدل ہو،سوار ہو،مرد ہو چاہے عورت۔۔نقصان کے بعد بھی کم ایسے ہوں گے جو آئندہ تیزرفتاری سے پرہیز کی کوشش کرتے ہوںگے۔ابھی کل ہی کی بات ہے کہ سبزچارے سے لدی بیل گاڑی 20 فٹ چوڑی سڑک کو اس خوب صورتی سے گھیرے رینگ رہی تھی کہ کسی سائیڈ سے پیدل گزرنے کی گنجائش بھی نہ رہی تھی۔دونوں جانب سے پیدل چلنے والے،سائیکل اورموٹرسائیکل سوار بے چینی سے کبھی اِدھر کبھی اُدھر لپکتے مگر جگہ نہ پا کر پھر سست رفتاری سے بیل گاڑی کے پیچھے گھسٹنے لگتے۔ مختلف النوع آوازے اور ہارن تسلسل سے گونج رہے تھے۔۔۔مگر بیل یا اس کے مالک کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔اگر وہ کچھ سن بھی رہے تھے تب بھی ان کے سامنے سے رش کی کیفیت انھیں کم رفتاری پر قائم رکھے ہوئے تھی۔اچانک دائیں جانب چند لمحوں کے لئے کچھ خلا سا ابھرا۔ ایک سائیکل سوار نے اس خلا سے فائدہ اٹھا کر دوسری سمت نکلنے کی کوشش کی ہی تھی کہ بیل گاڑی پر لدے سبزچارے کی زد میں آ گیا۔سائیکل سوار نے فوراً بریک لگائی اور زمین پر پیر ٹکا کر کھڑا ہو گیا۔لیکن روکے جانے کے باوجود اس کی سائیکل کا اگلا پہیہ لپیٹ میں آگیا کہ سائیکل پچھلے پہیے پر کھڑی ہو گئی اور اس کا اگلا پہیہ آسمان کی طرف اٹھ گیا۔سائیکل کے پیچھے دھرا سامان الٹ گیا۔روٹیاں بکھر گئیں اور بڑی سی کیتلی سے حلیم کی اچھی خاصی مقدار بہہ نکلی۔روزی کمانے کے لئے جلدی کی کوشش میں بے چارہ، سائیکل پر حلیم روٹی بیچنے والا سارا سامان ضائع کر بیٹھا۔بیل گاڑی والا پلٹ کر دیکھے بنا اپنی راہ پر مڑ گیا۔سائیکل والا بے چارگی سے دیکھتا رہ گیا۔لوگ اس سائیکل سوار کے گرد جمع ہو گئے ۔ظاہر ہے وہ اس نقصان پر سوائے افسوس کے کر بھی کیا سکتے تھے؟یہاں تو بات مالی نقصان پر ٹل گئی ۔بسا اوقات نوبت جانی نقصان تک بھی پہنچ جاتی ہے۔چند دن پہلے اسی طرح ایک سائیکل سوار روڈعبور کر کے دوسری سمت تقریباً پہنچ ہی چکا تھا کہ سفید رنگ کی ایک کار شمال کی جانب سے اڑتی ہوئی سی آئی ۔سائیکل سوار کو دیکھتے ہی کار والے نے شایدزبردست قسم کی بریک لگائی۔پہیوں کی رگڑ سے چرچراہٹ کی تیزآواز پیدا ہوئی۔آتے جاتے لوگ یک دم متوجہ ہوئے۔انھوں نے دیکھا کہ کار تھمنے سے پہلے سائیکل کے اگلے حصے سے ٹکرائی۔سائیکل سوار جھٹکے سے کار کے اگلے حصے پرآ پڑا اور خالصتاً فلمی انداز میں دوتین مرتبہ اسی طرح اچھلا،گرا اور کار کے رکتے ہی سڑک پر یوگا سٹائل میں بیٹھ گیا۔آس پاس سے لوگ دوڑے۔ کسی نے بغلوں میں ہاتھ ڈالا،کسی نے کمر کو سہارا دے کر اسے اٹھایا۔سائیکل سوار اگرچہ محفوظ تھا مگراچانک حادثے کے زیرِ اثرسکتے کی سی کیفیت میں تھا۔قریب ہی ایک حجام کی دکان میں اسے بٹھا کر پانی پلایا گیا۔ہوش بجا اور حواس ٹھکانے پر آئے تو کار کی طرف دھیان گیا۔مگر کار والا اس وقفے کو غنیمت جان کریا سائیکل سوار کو بظاہر ٹھیک پاکر کھسک گیا۔سائیکل ۔۔۔جس کا اگلا پہیہ ٹیڑھا ہو چکا تھا ،البتہ کنارے پر دھری تھی۔ان حادثات کو جنھیں نتائج کے اعتبار سے معمولی کہا جاسکتا ہے،بہت سے راہ چلتوں اور دکان داروں نے دیکھا لیکن یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ کتنوں نے اس سے سبق حاصل کیا؟قصور سائیکل سواروں کا تھا کہ وہ گنجائش نہ ہونے کے باوجوددوسری طرف جانکلنے کی کوشش میں یامصروف ترین روڈ کو چیونٹی کی رفتار سے پار کرنے کی جلدی میں تھے۔غلطی بیل گاڑی اور کار والے کی بھی تھی کہ اسے اس قدر چارا لاد کر سڑک گھیر کر نہیں چلنا چاہیئے تھایا اتنی تیزی سے کراسنگ نہیں کرنی چاہیئے تھی اور اگر کوئی حادثہ سرزد ہو گیا تھا تو کسی ردِعمل سے ڈرے بغیر۔۔۔ سائیکل سواروں کی خیریت دریافت کرنی چاہیئے تھی یا کم ازکم سائیکل سواروں کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ہی کر دینی چاہیئے تھی۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ہم طاقت،خوف یا جدید دور کی تیزرفتاری کے زعم میں نامعلوم کیوں۔۔اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں فراموش کرتے جا رہے ہیں؟حالاں کہ رک کر مزاج پرسی کرنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟






























