اک شرارتی تحریر’ شاید آپ اتفاق کریں
صاحبو ! سماں بھی کیسے کیسے رنگ دکھاتا ہے ۔ ایک دور تھا کہ ہندوستان کا ہر نیتا پاکستان کا دشمن اول سمجھا جاتا تھا اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب ہندوستان کی سینا نے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ کر کے نوے ہزار پاکستانی سینکوں کو قیدی بنا لیا اور دینا کے نقشے پر بنگلہ دیش نامی ایک نئے ملک کا اضافہ کردیا۔ خیر یہ تو برسوں پہلے کی باتیں ہیں اب ان کا دُھرانا کیا ۔ اب دونوں دیشوں کے بیچ “ مونچھ مروڑی “ کے باوجود ‘ ایک دوسرے کے لیے نیک آشاؤں کا کھلے بندوں اظہار ہی نہیں کیا جارہا بلکہ ایک دوسرے کے عوام ایک دوسرے کے قریب ہوتے جا رہے ہیں اور گزرے سمے کی کڑواہٹوں کو بھول جانا چاہتے ہیں ۔
پاکستان و ہندوستان کے لوگوں کی طرح شاید ان دونوں دیشوں کے نیتاؤں کو بھی کچھ ہوش آگیا ہے اور وہ ایک دوسرے کے حالات کو سمجھنے اور جاننے لگے ہیں ۔اس کی تازہ مثال ہندوستان کے پردھان منتری سردار منموہن سنگھ جی کا وہ تازہ بھاشن ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی دیش پاکستان جاکر صدر مشرف کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرناچاہتے اور جنرل مشرف کے لیے کوئی “ پیچیدگی “ نہیں پیدا کرنا چاہتے ۔“
سردار جی کا یہ بھاشن ان کی اس قلبی خواہش کا اظہار ہی سہی جو وہ صدر ضنرل مشرف کی خیر خواہی کے لیے رکھتے ہیں لیکن ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پردھان منتری سردار منموہن سنگھ جی نے یہ اندازہ کیسے لگا لیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو پہلے ہی مشکلیں درپیش ہیں نیز یہ کہ سردار جی کے پاکستان جانے سے جنرل مشرف کے لیے پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی ۔
ہمارے خیال میں سردار جی نے یہ بھاشن داغ کر دراصل خود کو درپیش مشکالات اور ان پیچیدگیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے جو گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام اور جموں و کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوجیوں کےپہرے کیوجہ سے خود انھیں گھیرے ہوئے ہیں ۔
صدر مشرف تو جنرل کی وردی پہنے آج بھی ویسے ہی کڑکڑا رہے ہیں جیسے ہمیشہ تھے ۔ملک کے چیف جسٹس کو برطرف کردینا ‘ ملکی میڈیا پر اپنے آہنی پنجے کی گرفت مضبوط کرتے ہوئے ‘ اس کا منہ بند کرادینا ‘ عوامی اجتجاجی مظاہروں کے دوران لٹھ بردرار پولیس اور رینجرز کے ہاتھوں لوگوں کی پٹوائی کرانا ‘ کراچی میں سڑکوں پر خون بہانا ‘ یہ تو معمولی کام ہیں بلوچستان اور صوبہ سرحد میں آئے روز اپنے ہی لوگوں کو فوج کے ہاتھوں مروا دینا اور انہیں پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کردینا ‘ شاید پرھان منتری سردار منوہن سنگھ جی کو نظر نہیں آیا ‘ اگر وہ سب کچھ جانتے ہوتے تو ہرگز ایسا بھاشن کبھی نہ دیتے ۔ ایک فرد واحد جو چودہ کروڑ عوام کو “ نکیل ڈالے“ ہوئے “ بھالو “ کی طرح نچا رہا ہو اور “ چنے چبوا رہا ہو “ ہماری سمجھ سے باہر ہے وہ ایسی کن مشکلات میں پھنسا ہوسکتا ہے اور کون سے پیچیدگیاں اسے گھرے ہوئے ہو سکتی ہیں جو پردھان منتری منموہن سنگھ کے پاکستان جانے سے اور بڑھ جائیں گی ۔ ہماری نظر میں تو یہی وہ وقت ہے جب پردھان منتری منموہن سنگھ جی کو پاکستان کو دورہ کرنا چاہیےتھا ۔ پاکستان کے عوام کا رجحان اور ساری دلچسپی سردار جی کی شخصیت کی طرف مبذول ہو جاتی اور اگر وہ صدر جنرل مشرف کے پیچھے پڑے ہی ہوئے ہیں تو ان کے ہجوم اور غیض و غضب میں کچھ تو کمی ہوتے ۔ لوگ مشرف کا پیچھا چھوڑ کر پردھان منتری منوہن سنگھ جی کے درشنوں کے لیے ان کے گرد اکٹھے ہوجاتے آخر امام کعبہ بھی تو یہی کرنے پاکستان آئے تھے ۔ مانا کہ سردار منوہن سنگھ امام کعبہ کا ہرگز درجہ نہیں رکھتے لیکن وہ ہیں تو اسی دھرتی کے “ پوت “ اور یہ شرف تو امام کعبہ کو بھی حاصل نہیں ۔
ہماری رائے میں اب بھی کچھ نہیں بگڑا لیکن ایک بات ہمیں کھٹکتی ضرور ہے کہ منوہن سنگھ جی نے پاکستان جانے کے امکان کو صرف اس لیے رد کردیا ہے کہ وہ صدر جنرل مشرف کی مشکلوں کو بڑھاوا نہیں دینا چاہتے بدیگر الفاظ انہیں اُن مشکلات کا کوئی احساس نہیں جو صدر جنرل مشرف کی وجہ سے پاکستانی عوام کو درپیش ہیں ۔ اس تناظر میں ہم اپنے منموہنے سردار جی سے یہی کہہ سکتے ہیں کہ پردھان منتری سردار منموہن سنگھ جی اگر آپ پاکستان نہیں جا سکتے تو اس سے پہلے کہ پاکستانی عوام مشرف کی مشکیں باندھ دیں ‘ کم سے کم آپ صدر جنرل پرویز مشرف کو تو اپنے ہاں بلوا سکتے ہیں ۔ بلوا لیجئے نا انھیں اپنے ہاں اور الاٹ کر دیجئے انھیں ان کی وہ حویلی جو پرانی دھلی میں اب بھی موجود ہے اور مشرف جہاں پیدا ہوئے تھے ۔ اگر آپ یہ احسان کردیں تو ہم سمجھیں گے کہ آپ واقعی میں پاکستان اور اس کے لوگوں کے ہمدرد ہیں اور صدر جنرل مشرف بھی شاید خوش ہو جائیں کہ “ پہنچی وہیں پہ خاک ‘ جہاں کا خمیر تھا ! اور ہاں جہاں تک آپ کے پاکستان جانے کو تعلق ہے تو اسے مشرف کی مشکلات سے نتھی نہ کریں آپ تو جانے ہی ہیں کہ پاکستانی عوام آپ کے کتنے مداح ہیں انہوں نے تو آپ کے آبائی پنڈ میں اپنے سکول کو بھی آپ ہی کا نام دے دیا ہے اور اس کا درجہ بھی بڑھا دیا ہے اور آپ بھی یہ بات کیسے بھول سکتے ہیں کہ آپ گو واں نہیں تو وان سے نکالے ہوئے تو ہیں!!






























