آصف کو چین میں بھی چین نہیں
ابھی کوئی دس منٹ پہلے کی بات ہے کہ کمپیوٹر پر آصف خان کا نام نمایاں ہوا اور پھر دوسری طرف سے حسب دستور وہی شناسا سے الفاظ تھے کہ ‘‘سر جی کیا حال ہیں‘‘۔ ان الفاظ کے بعد یہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ دوسری طرف کون ہے۔ پہلے بھی میں اپنے کالموں میں اس آصف خان کا ذکر ملتان کے قیام کے حوالے سے کر چکا ہوں۔ یہ اس حوالے سے بے کار انسان ہے کہ ایک ایسے آدمی کی عزت کرتا ہے جس نے اسے صرف چند ماہ ریڈیو اکیڈمی میں پڑھایا ہے اور جو اسے صرف دعاؤں یا چند اشعار کے اور کچھ نہیں دے سکتا۔ اس دور میں جب ماں باپ اولاد سے بھی بلا مفاد پیار نہ کرتے ہوں یہ مجھ جیسے خالی ہاتھ اور سیف لسان انسان سے پیار کرتا ہے۔ ہاں تو آصف خان اس بار ملتان سے نہیں بلکہ چین سے بات کر رہا ہے۔ وہ وہاں ریڈیو کے ایک سیمینار میں ریڈیو پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہے۔ میں ریڈیو پاکستان میں لوگوں کو باہر کے ممالک میں بھجوانے کے معیار سے بخوبی واقف ہوں لیکن شاید آصف کے معاملے میں فیصلہ اچھا ہوا ہے۔ وہ وہاں ریڈیو پاکستان کی سچی اور حقیقی نمائیندگی کرے گا اور مجھے یقین ہے کہ واپسی پر اپنے تجربات تصاویر سمیت القمر کے لیئے بھی لکھے گا۔
آصف میاں خوب انجوائے کرؤ اس موقع کو۔ دل بھر کر چین کو دیکھو اور یہ تجربات ڈائری میں لکھ ڈالو۔
میری طرف سے چو چین چی چان شی شی شان شو۔






























