سارا جھگڑا کمبل کا۔۔۔
ہمیں کل ایک مبا حثہ میں مقربِ خاص،جناب شیخ رشید کو سننے کا اتفاق ہوا وہ بہت اعتماد سے فر مارہے تھے کہ جو ابھی پاکستانی سمندر میں جوار بھا ٹا آیا ہوا ہے، وہ اگست تک جا ری رہے گا اور اس کے بعد حا لات پر سکون ہو جا ئیں گے۔یہ بات اتنے وثوق سے دو ہی آدمی کہہ سکتے ہیں۔ یا تو وہ جن کی پہو نچ شاہی ہی نہیں بلکہ شہنشاہی رازوں تک ہو۔ یا پھر وہ روشن ضمیر ہوں ۔ہم کوان کی پہلی حیثیت میں تو با لکل شک نہیں اور رہی دوسری صورت، چو نکہ وہ مجرد بھی ہیں اور کچھ مجرد روشن ضمیر بھی ہو گزرے ہیں لہذا اس صفت کو بھی زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔اوریہ تسلیم کرنے میں بھی ہمیں عار نہیں ہے۔ کہ پاکستان میں ہنگامے شروع ہو نے سے پہلے۔ یہ خبریں بھی آئیں تھیںکہ جنر ل مشرف صاحب نے ساری شر طین تو شہنشاہ کی مان لی ہیں ،مگر ایک پر ان کی کچھ ان بن ہے۔ کہ ایران پر حملہ کے خلاف پاکستان کی سر زمین استمال کر نے کی وہ اجا زت نہیں دے رہے ہیں؟ کیونکہ کہ یہ ان کی مجبوری کہہ لیں ،یا دانشمندی کہ اس سے انکا حلقہِ انتخاب دو دھڑوں میں بٹ جانے کا خد شہ ہے۔ جیسا مشرقی پاکستان کی جنگ کے وقت ہوا تھا۔ اور یہ بھی ہم نے ایک امریکن اخبا ر میں پڑھا تھا کہ ایران پر حملہ کا وقت اگست میں کہیں پوشیدہ ہے!اور اب ہما رے دوستِمحترم صفدر ھمٰدانی صاحب نے ایک کالم میں اس خدشہ کا اظہارکر کے چونکا دیا ہے کہ یہ شہنشاہی وزیروں اور جنرلوں کی پاکستان کی طرف یلغار اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر اس کا سرا رشید صا حب کے سکون سے جا ملتا ہے۔کیو نکہ ہمارے یہاں کو ئی تحریک شہنشاہ ِوقت کی مرضی کے بغیر نہیں چلتی ۔ہر تحریک ریموٹ کنٹرول ہو تی ہے۔اس لیئے اسکاسو ئچ دکھا ئی نہیں دیتا۔صرف شور اور دھماکے سنا ئی دیتے ہیں۔ جناب چیف جسٹس کے رتھ میں خدا نہ کر ے وہ بیل جتے ہوں ،جن کا ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں ہو ۔ لہذاہمارا عوام کو مشورہ ہے کہ وہ اگست سے پہلے، تحریک کو اپنے ہا تھ میں لے لیں تا کہ تحریک محفو ظ رہے۔ کیو نکہ مہرے تو کچھ خریدے ہو ئے ہیں ہی جو ہم میں شامل بھی ہیں، مزید بھی خرید ے جا سکتے ہی۔ لیکن پندرہ کروڑ عوام نہیں ۔ورنہ ایران کے ساتھ تو اللہ ہے جو بھی اللہ کی طرف بڑھنے کی کو شش کر تا ہے تو حدیثِ قدسی کے مطابق ً وہ اس کے ہاتھ اورپا ؤں بن جا تا ہے ًلہذا ہم دیکھ چکے ہیں کہ اسلامی انقلاب کے بعد اللہ نے ہر مو قعہ پر اس کی مدد فر مائی ہے اورانشا اللہ آئندہ بھی مدد فر ما ئے گا۔ لیکن ہم جو الٹی سمت چل رہے ہیں، یا ہمیں سات سال سے چلا نے کی کو شش کی جا رہی ہے ۔اگر یہ موقع کھو دیا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہماری گر دن میں کسی پیر تسمہ پا کی گرفت ہمیشہ کے لیئے اور سخت ہو جا ئے گی اور ہماری نصرت اس لیئے نہیں کی جا ئیگی کے ہم اللہ سے دور جا رہے ہیں۔نیز ہمیںتکڑیوںمیں بانٹ دیا گیا ہے ۔اس وقت سب بڑی ضرورت اللہ کی طرف پھر سے رجوع کر نا ہے اور تمام پر پیگنڈوں کے با وجود، عصبیتوں سے بلند رہنا اسوقت جہاد عظیم ہے۔ اگر یہ بات سچ ہے کہ یہ سب ایران کی طرف پیش قدمی کا پیش خیمہ ہے توپھر یہ جھگڑا ملا جی کاکمبل کہیں ثابت نہ ہو ۔جوکہ کبھی ملا نصیر الدین صاحب کو پیش آیا تھا ۔ کہ کچھ لوگوں کی منہ اندھیرے گلی میں لڑنے کی آواز نے ملا جی کی بیوی کی نیند خراب کردی، بیوی نے کہا کیسی مرد ہو! باہر جاکر دیکھو کیا ہورہا ۔ملا جی کا ارادہ تو نہ تھا، مگر انہوں نے مردانگی کو چیلینج کر دیا تھا، مجبورا ً جا نا پڑا دیکھا کہ دو آدمی گتھم گتھا ہیںیہ بیچ بچاؤ میں لگے اور اپنے کمبل سے غافل ہوگئے ، موقعہ پاکر ان میں سے ایک ملا جی کا کمبل لے اڑا ۔ ملا جی کے سردی سے دانت بجنے لگے۔ وہ سردی سے بچنے کے لیئے گھر کی طرف بھاگے ۔بیوی صاحبہ خبر کی منتظر تھیں کہ جلد از جلد محلہ والیوں کو فراہم کر سکیں، جیسے کہ اکثر خواتین کرتی ہیں۔لہذاملا جی کی ہئیتِ کذائی دیکھے بغیر پوچھ بیٹھیں کہ وہ مردوئے کیوں لڑ رہے تھے؟ملا جی بیوی پرتپے ہوئے تو پہلے تھے ۔جھنجلا کرکہنے لگے میرے کمبل کے لیئے۔






























