“۔۔۔۔۔۔ وہی۔۔۔۔۔ کل والی بات۔۔۔۔۔۔!“
حکومت نے پمرا آرڈینینس کے ذریعے الیکٹرانک میڈیا کا گلا دبانے کی کوشش کی لیکن صحافیوں اور حکومت کی محاذ آرائی کے بعد حکومت نے میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ لیکن چیف جسنٹس افتخار محمد چودھری کی فیصل آباد آمد کے موقع پر “حکومت کی طرف سے میڈیا کو دی گئی آزادی“ کے باوجود کیبل آپریٹرز اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے اور فیصل آباد سے شنید ہے کہ وہ مسلسل اپنی شرارتیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں گاوں کے دکاندار نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔ دکان کے باہر پنجرے میں بیٹھا وہ ہر آنے جانے والے کو حفظ مراتب کا خیال رکھتے ہوئے سلام کیا کرتا تھا۔ اسی محلے میں ایک بظاہر بہت ہی نیکوکار “پرہیزگار“ اور “عبادت گزار“ ایک مولوی صاحب بھی رہتے تھے۔ مولوی صاحب جب بھی دکاندار کے پاس سے گزرتے ، طوطے کی زبان سے گالیوں کا جیسے ایک طوفان ابل پڑتا۔ دکان کے تھڑے پر شغل کرتے ہوئے لوگ اور راہگیر مولوی صاحب پر ہنس پڑتے اور مولوی صاحب مارے شرمندگی کے تیزی سے دکان کے سامنے سے گزر جاتے۔ یہ بات تو عیاں تھی کہ طوطا بظاہر کسی قاعدے اور قانون کا پابند نہ تھا اس کی زبان پر جو سچی بات آتی وہ اگل دیتا۔ایک دن مولوی صاحب نے دکاندار سے شکایت کی اور اسے تنبیہ کی کہ اپنے طوطے کو سمجھاو، یہ روزانہ میری بے عزتی نہ کیا کرے۔ دکاندار نے علیحدگی میں طوطے کو پیار سے سمجھایا۔ اور کہا کہ آئندہ مولوی صاحب سے بدکلامی مت کرے۔ طوطے نے اپنی طرف سے دلائل دئے اور عرض کی کہ مالک! میں صرف اور صرف سچی اور حقیقت پر مبنی بات کرتا ہوں اس لئے میرے آزادی رائے کے حق کو سلب نہ کیا جائے۔ لیکن مالک نے اس کی ایک دلیل نہ مانی اور حکم دیا کہ آئندہ تم مولوی صاحب کے متعلق یاوہ گوئی نہیں کرو گے۔ بصورت دیگر تمہاری زبان کاٹ کر تمہاری گردن مروڑ دی جائے گی۔ طوطے کو بھی جان پیاری تھی۔ ہار مان لی۔ اگلے روز جب مولوی صاحب کا وہاں سے گزر ہوا۔ تو طوطا چیخ پڑا؛
“اوئے ! ۔۔۔۔۔ تیری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
مولوی صاحب رک گئے۔
طوطے نے گول گول آنکھیں مٹکائیں اور چہکا؛
“۔۔۔۔۔۔ وہی۔۔۔۔۔ کل والی بات۔۔۔۔۔۔!“































صفدر ھمدانی۔۔لندن
نے لکھا؛
June 16, 2007 at 7:52 pm
واہ جناب ہارون عباس صاحب
کمال کر دیا آپ نے
آپ لکھتے کم ہیں لیکن ستھرا لکھتے ہیں۔ مولوی اور طوطے کا رشتہ آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے اور ان دونوں کے درمیان میڈیا تو یوں ہی پس گیا ہے۔اپنے وزیر اطلاعات بھی تو اسی طوطے کی مانند ہیں۔
سلامت رہیں اور لکھتے رہیں۔