حامد ظہور کا ظہور
لیجئے ان محترم کے بارے میں تٍفصیل سے بعد میں لکھیں گے۔ تعارف کے طور پر انکی نظم پڑھ لیجئے۔
حامد ظہور کا ظہور ہم پر اپنے عزیز شاگرد اور نہایت پیارے دوست آصف خان کی وساطت سے ہوا جو ان دنوں چین میں چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ اور یہ حامد میاں بھی ان دنوں چین میں ہی ظہور کیئے ہوئے ہیں۔ یہ ان کا اجمالی تعارف ہے۔۔۔
حامد ظہور ۔بیجنگ۔چین
باقی باتیں بعد میں ہوں گی آج صرف انکی یہ نظم جس کاعنوان بھی بلا عنوان ہے۔
بلا عنوان
یہ احساس تفاخر ہے
کہ جو اندر کہیں رستے بنائے جا رہا ہے
اور جڑیں دل میں کسی خود رو جڑی بوٹی کی صورت پھیلنے کو ہیں
یہ دیکھو ہم پرندوں کی طرح اڑنے لگے ہیں
اس قدر اونچا۔۔۔۔۔۔۔
کہ تم کو ڈھونڈنا ہو توہمیں جھکنا پڑے اتنا۔۔۔۔۔
یہ آنکھیں اس زمیں سے پار ہو جائیں
مگر تم سے نہ ٹکرائیں
دعا مانگو
کہ چابک کی طرح دل پر برستے پل جو تھم جائیں ۔۔۔۔کہ ہم مر جائیں
تو احساس میں ٹھہرا تفاخر ختم ہو جائے
دعا مانگو
ہمیں اچھا لگے گا تم اگر ہم سے بہت آگے نکل جاؤ
نکل جاؤ کہ اس سے قبل چابک کی طرح دل پر برستے پل۔۔۔
ہماری ہجرتیں آسان کر جائیں۔۔۔
نکل کر تم سے آگے ہم۔۔۔
تمہیں حیران کر جائیں۔۔۔






























