Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

میں سابقہ تحریریں July, 2007

سیاسی کشمکش

جنابِ بش وہاں بیٹھے ہیں ، شوشہ چھوڑ دیتے ہیں
بلا ؤں کاوہ رخ یو ں اہلِ بش سے موڑدیتے ہیں
یقیں اب بھی کریں ان کا تو تف، اہلِ بصیرت پر
جو وعدہ رات کو کرتے ہیں ،دن کو توڑ دیتے ہیں

تبصرہ جات

پاکستان ؛ آئین مملکت کی دھجیاں اُڑنے والی ہیں

پاکستان کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف اور خود ساختہ جلاوطن سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے درمیان ابو ظہبی میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے اب مستقبل قریب میں یہ دونوں نام نہاد رہنما “ سانجھے اقتدار “ کا جو منصوبہ بنانے اور جس پر عمل کرنے والے ہیں اس کے تحت بے نظیر بھٹو کو تیسری بار وزارت عظمی ٰ کا عہدہ سنبھالنے کا موقع مہیا کرنے کے لیے پاکستان کی آئین میں تبدیلی کرنا لازمی ہو گا ۔ بدیگر الفاظ ‘ فوجی آمر اور کرپٹ سیاستدان ‘ دونوں نے اپنے مفادات کے لیے “ آئین مملکت “ کو بھینٹ چڑھانے کا ارداہ کر لیا ہے ۔ اور اس کا ثبوت صدر جنرل مشرف کے ڈھنڈورچیوں کے بیانات سے ملتا ہے ۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا کہ موجودہ اسمبلیاں آئین میں ترمیم کرکے بے نظیر بھٹو کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم کی
راہ ہموار کریں گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے ‘ بی بی سی کی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعاون کرنے پر آمادگی کے بعد آئین میں بہ آسانی ترمیم کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ حمکراں جماعت اور پاکستان پیپلز پارٹی کو موجودہ اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے اور وہ جب چاہیں آئین میں ترمیم کر سکتے ہیں۔ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے تسلیم کیا کہ موجودہ آئین کے تحت بے نظیر بھٹو تیسری مرتبہ وزیر اعظم نہیں بن سکتیں۔ البتہ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے موجودہ اسمبلیوں کو ہی آئین میں ترمیم کرکے اس روکاوٹ کو دور کرنا ہوگا۔

کون نہیں جانتا کہ بینظیر بھٹو کو دو بار وزارت عظمیٰ کی کرسی سے کس طرح ذلیل و خوار ہو کرنیچے اترنا پڑا اور پھر وہ اب تک اپنے خلاف لگائے گئے سرکاری الزامات کا سامنا کرنے کی بجائے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ اور یہی نہیں مشرف حکومت خود بینظیر اور ان کے شوہر مسٹر ٹن پرسنٹ کے خلاف متعدد مقدمات پر قوم کے خزانے سے لاکھوں روپے صرف کر چکی ہے اور بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف ماضی قریب میں ایکدوسرے کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کرتے چلے ہیں وہ ان کے ایکدوسرے کے خلاف سیاسی و معاندانہ رویے کی عکاسی کے لیے کافی ہے

آثار بتاتے ہیں اس طرح کے حالات میں یہ دونوں نام نہاد رہنما‘ پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کو ایک بار پھر “ بیو قوف “ بناتے اور دھوکا دیتے ہوئے انہیں حقیقی جمہوریت سے دور کر دیں گے لیکن ہے کوئی جو صدر جنرل مشرف سے یہ پوچھے کہ تم جو آئین مملکت کی وفاداری کا دم بھرتے ہو اب اپنے مفادات کے لیے ایک مسترد شدہ کرپٹ سیاستدان کو تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنانے کے لیے اسی آئین کو تبدیل کرنے کے درپے کیوں ہو اور اس مکروہ کام کی تکمیل کے لیے موجودہ اسمبلی سے حمایت کے لیے “ سیاسی بھیک “ کیوں مانگنے والے ہو۔

پاکستان میں ہر کوئی آئین کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے اور یہ جنرل صدر اور کرپٹ سیاستدان اپنے اپنے مفاد کے لیے اس میں تبدیلیاں کرنے کے درپے ہیں۔

پاکستان میں اب صرف سن انیس سو تہتر کا “ آئین مملکت “ ہی قومی ایکتا کی ایسی دستاویز باقی رہ گئی ہے جس پر اب تک سبھی سیاسی جماعتیں متفق ہیں لیکن ملک کے فوجی آمروں نے ترمیمات کے ذریعے اس کا بھی حلیہ بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ہر فرد اس آئین کی اصلی صورت میں بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے ۔

ابھی حال ہی میں ایک زبردست جد و جہد کے بعد اپنے عہدے پر با عزت بحال ہونے والے ملک کے چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری نے کہا ہے کہ “ اب یہ وقت ہے کہ ملک کی قسمت کو “ غیر آئینی اور ماورائے آئین اقدام “ کی بھینٹ نہ چڑھنے دیا جائے ۔“
اب دیکھنا یہ ہے کہ جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان طے پانیوالی ڈیل کے نتیجے میں بینظیر بھٹو کو تیسری بار ملک کی وزیر اعظم بنانے کے لیے غیر آئینی طریقوں سے ‘ آئین مملکت میں کی جانےوالی تبدیلی پر پاکستان کے عوام کیا کہیں گے اور خود سپریم کورٹ اس “ فوجی و سول “ سیاسی سودے بازی کے پس منظر میں “ آئین کی بالا دستی “ کے لیے کیا اقدام لےگی ؟

تبصرہ جات

ترقی پسندی

لکھا یہ ہے کہ جو بے لوث مر جا ئیں شہادت ہے
یہاں یہ ہے کہ پیسے لے کے لڑتے ہیں تو عظمت ہے
زمانے نے بدل ڈالیں ہیں کل قدریں تو کیا کہیئے
ہر اک ہی بات الٹی ہے ہر اک ہی شہ میں ندرت ہے

تبصرہ جات

چیف جسٹس کی بحالی مشرف اس کو بھی کیش کریں گئے

صدائے آدم                سکندرریاض چوہان ایتھنز یونان

جب سے جناب چیف جسٹس صاحب کی بحالی ہوئی ہے ہر طرف عوام سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کی جیت کے نعرے بلند ہورہے ہیں ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس تاریخی فیصلے نا صرف سولہ کروڑ عوام کو ایک بہترین خوشی کا تحفہ دیاہے بلکہ انصا ف کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کو خانہ جنگی جیسی صورت حال سے بھی بچا لیاہے۔یہ تمام کی تمام باتیں خدشات ،تحفظات،تاریخی فیصلے اس کے نیک وبد عوامل اپنی جگہ لیکن ایک اہم نکتہ صدر پرویز مشرف سے بھی منسلک ہے اور وہ نکتہ ہے وردی نما جمہوریت اور اپنی صدارت کومضبوط کرنے کے لیے اس ایشو کواپنے حق میں استعمال کرنا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس پر ردعمل میں خاموشی جو ایک نئی منصوبہ بندی کا اشارہ ہے۔بات ذرا وضاحت سے اس طرح پیش کی جاسکتی ہے کہ لال مسجد کا اپریشن،وزیرستان میں جاری اپریشن سے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ بھی واضح کرنا کہ ملک میں مکمل جمہوریت ہے اور اس کی بڑی مثال چیف جسٹس کی بحالی پر حکومت کا اطمنان اور صبر ہے جو ظاہر کرتاہے کہ ملک میں ہر ادارہ آزاد ہے؟اور مکمل سیاسی آزادی ہے؟اور عدالتیں مکمل آزاد اور خود مختار ہیں؟
ان ایشوز پر کام کرکے مشرف صاحب اپنی کرسی اور وردی دونوں کوتحفظ عوام سے ہمدردری اور بین الاقوامی طاقتوں سے اندرونی مضبوطی حاصل کرسکتے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائیں کہ مشرف ان کے لیے پاکستان میں ناگزیر ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حکومت کی خاموشی اور چیف جسٹس کے موضوع پر ان کی گفتگو سے پرہیزکسی بڑے ایشو کو کیش کرانے کا عندیہ دے رہی ہے۔آنے والا وقت کیا کروٹ لیتاہے او ر اس کے کیا عوامل ظاہر ہوتے ہیں اس کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔لیکن یہ ضرور ہے کہ پاکستان میں ایسے حالات کو ضرور پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے مشرف صاحب کی امریکہ بہادر اور بین الاقوامی طاقتوںمیں ان کی موجودہ حثیت کو برقرار رکھنے میں مدد لی جاسکے؟
اس بارے میں اپنے قارئین کی رائے کا بھی ضرور منتظر رہوں گا کہ ان کا نکتہ نظر اس پر کیاہے

 

تبصرہ جات

چیف جسٹس کی بحالی

جو بھی آج خوش ہیںوہ شاد کام زندہ باد
شامل جو جہد میں تھے وکلا تمام زندہ باد
ہم تو کہیں گے جیت کو ، عوام کی فتح !
سولہ کروڑ جیت گئے ہیں، عوام زندہ باد

Comments off

قتلِ مومن کے لیئے،

سر اکابر کے سبھی غیر کے آگے خم ہیں
کس کو گنوائیں ابھی ڈھیر جو سارے غم ہیں
مت بلا ئیں کسی اور کو منت کشِاحسان بنیں
قتلِ مومن کے لیئے، اپنے ہی بھائی کم ہیں!

تبصرہ جات (2)

ساتھ حقیقت کا دینا چاہئے

عمران چوہدری یوں تو عرصے سے القمر آن لائن کے بلجیم کے لیئے بیورو چیف کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں لیکن ایک خاموش بیورو چیف تھے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

قصہ ایک کرسی کا۔

جو بھی لایا اسے کرسی پہ وہ خود خوار ہو ا
جس نے اچھا کبھی بولا تھا شرمسار ہوا
نقص کر سی کا دکھے ہے کہ فرشتہ تھا کبھی
جا کے بیٹھا جو وہاں پر تو ستم شعار ہوا

تبصرہ جات

جہادِلال مسجد

وہ سرخ رو ہوئے ہیں ،اس تازہ جہاد سے
رکھتے ہیں جوکہ کام بس ً آشیر باد ً سے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (5)

آپ کے لیئے تازہ قطعہ

shamsلیجیئے آپ کے لیئے آج کا تازہ قطعہ پیش خدمت ہے۔پسند آئے تو میری خوش قسمتی »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات