پاکستان ؛ آئین مملکت کی دھجیاں اُڑنے والی ہیں
پاکستان کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف اور خود ساختہ جلاوطن سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے درمیان ابو ظہبی میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے اب مستقبل قریب میں یہ دونوں نام نہاد رہنما “ سانجھے اقتدار “ کا جو منصوبہ بنانے اور جس پر عمل کرنے والے ہیں اس کے تحت بے نظیر بھٹو کو تیسری بار وزارت عظمی ٰ کا عہدہ سنبھالنے کا موقع مہیا کرنے کے لیے پاکستان کی آئین میں تبدیلی کرنا لازمی ہو گا ۔ بدیگر الفاظ ‘ فوجی آمر اور کرپٹ سیاستدان ‘ دونوں نے اپنے مفادات کے لیے “ آئین مملکت “ کو بھینٹ چڑھانے کا ارداہ کر لیا ہے ۔ اور اس کا ثبوت صدر جنرل مشرف کے ڈھنڈورچیوں کے بیانات سے ملتا ہے ۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا کہ موجودہ اسمبلیاں آئین میں ترمیم کرکے بے نظیر بھٹو کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم کی
راہ ہموار کریں گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے ‘ بی بی سی کی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعاون کرنے پر آمادگی کے بعد آئین میں بہ آسانی ترمیم کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ حمکراں جماعت اور پاکستان پیپلز پارٹی کو موجودہ اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے اور وہ جب چاہیں آئین میں ترمیم کر سکتے ہیں۔ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے تسلیم کیا کہ موجودہ آئین کے تحت بے نظیر بھٹو تیسری مرتبہ وزیر اعظم نہیں بن سکتیں۔ البتہ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے موجودہ اسمبلیوں کو ہی آئین میں ترمیم کرکے اس روکاوٹ کو دور کرنا ہوگا۔
کون نہیں جانتا کہ بینظیر بھٹو کو دو بار وزارت عظمیٰ کی کرسی سے کس طرح ذلیل و خوار ہو کرنیچے اترنا پڑا اور پھر وہ اب تک اپنے خلاف لگائے گئے سرکاری الزامات کا سامنا کرنے کی بجائے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ اور یہی نہیں مشرف حکومت خود بینظیر اور ان کے شوہر مسٹر ٹن پرسنٹ کے خلاف متعدد مقدمات پر قوم کے خزانے سے لاکھوں روپے صرف کر چکی ہے اور بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف ماضی قریب میں ایکدوسرے کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کرتے چلے ہیں وہ ان کے ایکدوسرے کے خلاف سیاسی و معاندانہ رویے کی عکاسی کے لیے کافی ہے
آثار بتاتے ہیں اس طرح کے حالات میں یہ دونوں نام نہاد رہنما‘ پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کو ایک بار پھر “ بیو قوف “ بناتے اور دھوکا دیتے ہوئے انہیں حقیقی جمہوریت سے دور کر دیں گے لیکن ہے کوئی جو صدر جنرل مشرف سے یہ پوچھے کہ تم جو آئین مملکت کی وفاداری کا دم بھرتے ہو اب اپنے مفادات کے لیے ایک مسترد شدہ کرپٹ سیاستدان کو تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنانے کے لیے اسی آئین کو تبدیل کرنے کے درپے کیوں ہو اور اس مکروہ کام کی تکمیل کے لیے موجودہ اسمبلی سے حمایت کے لیے “ سیاسی بھیک “ کیوں مانگنے والے ہو۔
پاکستان میں ہر کوئی آئین کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے اور یہ جنرل صدر اور کرپٹ سیاستدان اپنے اپنے مفاد کے لیے اس میں تبدیلیاں کرنے کے درپے ہیں۔
پاکستان میں اب صرف سن انیس سو تہتر کا “ آئین مملکت “ ہی قومی ایکتا کی ایسی دستاویز باقی رہ گئی ہے جس پر اب تک سبھی سیاسی جماعتیں متفق ہیں لیکن ملک کے فوجی آمروں نے ترمیمات کے ذریعے اس کا بھی حلیہ بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ہر فرد اس آئین کی اصلی صورت میں بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے ۔
ابھی حال ہی میں ایک زبردست جد و جہد کے بعد اپنے عہدے پر با عزت بحال ہونے والے ملک کے چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری نے کہا ہے کہ “ اب یہ وقت ہے کہ ملک کی قسمت کو “ غیر آئینی اور ماورائے آئین اقدام “ کی بھینٹ نہ چڑھنے دیا جائے ۔“
اب دیکھنا یہ ہے کہ جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان طے پانیوالی ڈیل کے نتیجے میں بینظیر بھٹو کو تیسری بار ملک کی وزیر اعظم بنانے کے لیے غیر آئینی طریقوں سے ‘ آئین مملکت میں کی جانےوالی تبدیلی پر پاکستان کے عوام کیا کہیں گے اور خود سپریم کورٹ اس “ فوجی و سول “ سیاسی سودے بازی کے پس منظر میں “ آئین کی بالا دستی “ کے لیے کیا اقدام لےگی ؟






























