مفاہمت
بشر ، بشر ہے کہے التجا کے لہجے میں
ہو دھیمی بات مگر مصطفیٰ کے لہجے میں
فلک نے اس کو ہمیشہ ہی سر نگوں دیکھا
جو بار ،بار ہے بولا ، خدا کے لہجے میں
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
بشر ، بشر ہے کہے التجا کے لہجے میں
ہو دھیمی بات مگر مصطفیٰ کے لہجے میں
فلک نے اس کو ہمیشہ ہی سر نگوں دیکھا
جو بار ،بار ہے بولا ، خدا کے لہجے میں
اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک
خاور کھوکھر
نے لکھا؛
September 11, 2007 at 7:01 am
بہت اچهے شعر هیں
انسان کو انسان هی رهنا چاهیے