قہرِ خداوندی
یہ ملت باہم صرفِ پیکار ہے
جبھی کارگر حر بہِ اغیار ہے
مسلماں بھی کہنا انہیں عار ہے
شاہ مکار ہے ، فرد فجار ہے
ہے احکامِ قر آں سے انکار بھی
ا با بیلیں آئیں یہ انظار بھی
خفا رب ہے ہم سے اور بیزار بھی
ہے قہرِ خدا ہم پہ ادبار بھی
نہیں بگڑی اپنی کسی سے بنے گی
دعاؤں سے ٹالیں بلا کب ٹلے گی
ہے کب ساکھ پہلے، گریگی ہے گریگی
کہ یہ قوم باہم جب تک لڑے گی
یہ اس کا جہاں تو سدا سے ہے چلتا
جو کر تا ہے محنت تو دہقاں ہے پھلتا
نہیں حکم بن پھول کوئی ہے کھلتا
وہ کاہش بنا دن نہیں ہے بدلتا
کرے قوم توبہ اورروئے جو بھل بھل
وہ افزوں کرے پھر تو درجات پل پل
مچا ئے جہاں میں یہ پہلی سی ہل چل
پھر کر دے گا وہ دور ساری ہی کل کل
جو بیعت یزیدی کہیں کر رہے ہیں
جہنم کے ایندھن ہیں جو بن رہے ہیں






























