Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

شہادتِ بے نظیر

shamsبی بی کا قتل اصل میں قتلِ جمہو ر ہے
قا تل ہے اس کا کون یہ ظاہر ، ظہور ہے
سب جا نتے تو ہیں مگر پہچا نتے نہیں
ہم میں کا کوئی شخص جو شاطر مشہور ہے

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

7 تبصرے »

  1. تانیا رحمان نے لکھا؛

    December 28, 2007 at 3:09 am

    بی بی کے قتل پیر دل بہت اداس ھے ، اس لیئے کہ بی بی کہو بھت بیدردی سے ما را ، اللھ اپنا رحم کرے

  2. نگھت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    December 28, 2007 at 6:42 am

    jo khoon main nahlaya gia ho us ko kon dafn ker sekta hay —–aur kaha koi keray ga—kis dil sy , kis dil main aur kis kis k dil main———- !!!!!!

  3. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    December 29, 2007 at 8:33 pm

    جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی دینا اور لینا خدا کا کام ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔جو کیسی کو زندگی دے نیں سکتا ۔۔۔۔۔اس کو زندگی لینے کا بھی کوئی حق نھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  4. ماوراء NORWAY نے لکھا؛

    December 30, 2007 at 5:24 am

    بہت خوب شمس صاحب۔ آخری جملے میں “کا“ لفظ اضافی معلوم ہوتا ہے۔

    بے نظیر کی اس ناگہانی موت پر تو واقعی سبھی افسردہ ہیں۔

  5. فرحت حسین ISLAMIC REPUBLIC OF IRAN نے لکھا؛

    December 30, 2007 at 8:58 pm

    سلام
    افسوس ہے کہ ہماری ملکی قوت اتنی ضعیف پڑگئی ہے کہ دہشت گرد جہاں چاہیں دہشت گردی کرتے ہیں اور ہم یہ سنتے چلے آرہے ہیں کہ خودکش دہماکون کا مقابلہ تو امریکہ بھی نہیں کرسکتا. حالانکہ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے 95 فیصد ممالک میں اس طرح کا ایک حملہ بھی نہیں ہوا ہے جبکہ کئی ممالک ٹارگٹ بھی ہیں. اس وقت کورم ایجنسی میں دہشت گردوں کی مقامی آبادی کے خلاف جنگ میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور 50 روز سے سڑکیں بند ہیں، کھانے پینے کی اشیاء کا خاتمہ ہوچکا ہے اور لوگ انسانی سانحے (Humanitarian Tragedy) کا انتظار کررہے ہیں. کورم ایجنسی کی عوام پاکستان کے محافظ ہیں مگر پاکستان ان کو تحفظ نہیں دیتا. اس وقت لوئر کرم کے علاقوں بالش خیل، علی زئی، انجیرئی، جلامئی اور علیزئی جبکہ اپر کرم کے علاقوں پیواڑ اور کنج علیزئی کے علاقوں میں طالبان اور مقامی دہشت گرد بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آٹھ روز پہلے دوبارہ شروع ہونے والی اس تشدد کے مختلف واقعات میں اب تک پچاس سے زائد افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ مجموعی طورپر سولہ نومبر سے شروع لڑائی میں دونوں طرف سے تین سو کے قریب افراد لقمه اجل بن چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد پانچ سو سے زائد بتائی جارہی ہے۔ جن کے علاج معالجے کے لئے کوئی سہولت نہیں ہے.
    دریں اثناء پارہ چنار میں گزشتہ 44دنوں سے کرفیو بدستور نافذ ہے اورگزشتہ سات دنوں سے کرفیو میں کسی قسم کی نرمی نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ شدید مشکلات سے دوچارہیں، تمام سڑکیں ، تعلیمی ادارے، سرکاری نیم سرکاری دفاتراور بینک گزشتہ ڈیڑہ ماہ سے بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جبکہ ذرائع آمدورفت کے تمام راستے بند ہونے سے پشاوراورپارہ چنار کے درمیان ٹریفک کا سلسلہ بند پڑا ہے۔ علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادوایات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں شدید سردی اور پہاڑوں برف بھاری کے باعث لوگ کئی قسم کے بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ پارا چنار کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ سر درد کی گولیاں خریدنے کےلیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
    روزنامہ جنگ کے مطابق کرم ایجنسی میں جھڑپوں کی دوران 13طالبان سمیت 15افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور لڑائی میں تازہ دم طالبان کی مسلسل آمد نے صورتحال کومزید ابترکردیا ہے جبکہ لڑائی میں میزائل، مارٹر توپ، راکٹ لانچروں اور مشین گنوں کا آزادانہ استعمال ہورہا ہے نیزعلاقہ جلامئے اورعلیزئی میں تازہ جھڑپوں میں مزید 13 طالبان ہلاک ہوگئے۔
    مقامی لوگوں کے مطابق ہزاروں طالبان ہر روز سرحد پار کرکے مقامی آبادیوں پر حملے کررہے ہیں اور وزیرستان اور ٹل کے علاقوں سے بهی کثیر تعداد میں مقامی طالبان کورم ایجنسی میں داخل ہورہے ہیں.
    لہذا ہماری درخواست ہے کہ بے نظیر بهٹو کا افسوسناک قتل پاراچنار مین انسانی بحران کی خبروں کے پس پرده جانے کا باعث نہ بنایا جائے.

  6. آویز جرمنی نے لکھا؛

    December 30, 2007 at 10:30 pm

    بچپن میں جب کبھی سالوں سال بعد لال رنگ کی آندھی آتی تو دادی مرحوم کہتی تھیں کہ کہیں کوئی قتل ہو گیا ہے ۔اب آئے دن قتل ؟۔قاتلوں نےآندھی ہی کو قتل کر دیا کہ کوئی نشان ہی باقی نہ رہے۔ یہ آندھی تو مظلوم عوام کی ماں اور لیڈر تھی ۔بے نظیر کے شہید ہونے کے بعد محسوس ہوا کہ ہم یتیم ہوگئے ۔

  7. جاوید روز خان (بونیر) PAKISTAN نے لکھا؛

    December 31, 2007 at 6:45 pm

    بے نظیر کی اس ناگہانی موت پر تو واقعی سبھی افسردہ ہیں۔

    پیارے بھائیوں کہے تو کیا کہے۔ دنیا ایک لیڈر سے محروم ھوچکی ھے جس کا صدمہ ہر ایک پر ہے، اچھا جب گورنمنٹ یہ کھ رھی ہے کہ ھم نے بیت ا للہ محسود کی گفتگو ریکارڈ کیا ھے جب بی بی مرحومہ پر فائرنگ ھورھی تھی تو اُس کافر کے بچے کو کیو نھیں پکڑے جب اسلام کے خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مسلمان غورت پر گولیاں برسارہے تھے کیو کہاجس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے ساری انسانیت کو قتل کی تھی محالف قاتل پارٹی۔ بی بی کے قتل یر دل بہت اداس ھے
    اس غم میں ھئم سب پھٹان بھائی آپ کے ہاں غم میں برابر کے شریک ھے۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو