نوشتہ دیوار کو آپ پڑھ سکتے ہیں
پاکستان کے شہر راولپنڈی میں جو کچھ ہوا اسکی تفصیل لکھنا اب بیکار ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم نوشتہ دیوار نہیں پڑھ سکتے۔کیسا انسان کُش کھیل ہے یہ سیاست ہمارے ملک میں۔ دوسرے ملک بھی تو ہیں جہاں حکومت،حاکم اور حذب مخالف موجود ہے وہاں اتنے تواتر اور اتنی شدت سے یہ سب کچھ کیوں نہیں ہوتا۔میرا آج بھی یہ ایمان ہے کہ پاکستان کی تقدیر کو صرف اور صرف عوام بدلیں گے ،کوئی فوجی،کوئی وڈیرہ،کوئی صنعت کار کوئی ملک سے بھگوڑا سیاستدان نہیں۔ اب یہ عوام کب جاگیں گے اس کے لیئے کتنے وقت کا انتظار کرنا ہو گا؟































تانیا رحمان نے لکھا؛
December 28, 2007 at 6:22 pm
safder je jab tak hum khud kuch nahi keryin gaye baher sey koi nahi aye ga jo aye ga tu woh bas jaan layne k liye ,hum apni aankin khoolna he nahi chahtay ,aur ager galti sey khool bhi jayin tab hum apni amlaak ko tahbaho barbad kertay hain aur phir aik laambi neend soo jatay hain,