حوصلہ کون دے گا
سانس جیسے رُک سی رہی ہے۔کیاخبر کس کی نظر لگ گئی ہےہم کو۔یوں لگتا ہے جیسے صدمے سے مرجاؤں گی لیکن مجھے تو ابھی زندہ رہنا ہے۔بے نظیر کو ابھی نہیں جانا چاہیئے تھا ،ابھی تو ہمیں اس سے بہادری سے جینا سیکھنا تھا وہ بہادری جس بہادری سے اس نے جان دے دی
۔کرنا ہی تھا گر دفن مجھ کو۔۔۔۔کاہے کو پھر نہلایا گیا ہوں































صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
December 28, 2007 at 6:21 am
نگہت جی یہ صرف آپ ہی کا رد عمل نہیں ہم میں سے ایک غالب اکثریت کا ہے۔ مسلہ ایک فرد کا نہیں ملک و ملت کا ہے۔ میرے خیال میں اب یہ کہنا کہ ‘‘اللہ رحم کرے گا‘‘ گویا اللہ کے رحیم ہونے کا امتحان لینا ہے
عامر کیانی
نے لکھا؛
December 28, 2007 at 5:14 pm
کس منہ سے خدا سے کہیں کہ رحم کر۔ کیونکہ جو رحم نہیں کرتے وہ رحم کی توقع کس طرح کر سکتے ہیں ۔ قومی سطح پر ہمارا ٹالرینس لیول کس حد تک گر گیا ہے کہ ہم دوسروں کا اختلاف پرداشت نیہں کرتے اور دوسروں کی جان کے درپے رہتے ہیںخدا رحیم ہے لیکن ان لوگوں کے لیے جو اس کے درس رحمت سے واقف ہوں؟
تانیا رحمان نے لکھا؛
December 28, 2007 at 5:41 pm
lagta hai huamri maaon behaon betyon ki duaon main aser nahi raha,yah phir hum sab per boaht bari aazmash aagie hai,hum sey kon say asahy gunah sarzaad hoye jis ki huamre pakistan ko yah saaza mill rahe hai,ya Allah hum ko maaf farma,Ameen
اعجاز اظہر
نے لکھا؛
December 28, 2007 at 7:50 pm
salam , thxx so sweet of u for writing such a nice words yeh sadma jan lewa hai aisa surprise hai jo dimagh say yadasht kai alfaz ko mita day, aisa dhachka jo dil say hoslay ki har taqat ko khatum kar day , aisa dukh hai jo ankhoon say pani khushk kar day, aisa nuksan hai jo sab faidon pr bhari hai ……..she was a great woman , my salute for her!!!
محمد آفتاب
نے لکھا؛
December 28, 2007 at 8:07 pm
feeling very sad and distressed on unaspected assisination of one of the most elegant and intelligent lady of the world
سعدیہ سحر نے لکھا؛
December 29, 2007 at 8:44 pm
پاکستان میں کیا ھو رھا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کب تک جا ری رھے گا ۔۔۔۔۔۔خدارا اب کچھ اور نھیں۔۔۔۔۔۔اب تو آنکھو ں سے آنسو بھی سو کھ گٰیے ۔۔۔۔۔۔۔بھت سے لب ھنسنا بھول گئے ۔۔۔۔۔۔۔بھت سے گھروں عید پر بھی میں ماتم ھوتا ھے ۔۔۔۔۔حقیقی خوشی کا مزا کیا ھے ۔۔۔یہ آنسو بھری آنکھیں کیا جانیں۔
ءزیر راشد نے لکھا؛
December 31, 2007 at 3:50 am
Ay Watan Kese Ye Dhabay Darodewar Par Hain_Kis Shaqi K Ye Tamachay Tere Rukhsar Pe Hain
شبانہ حق
نے لکھا؛
January 1, 2008 at 2:51 pm
نگھت تم نے بھت اچھا لکھا ھے بڑا صدمہ ھے۔
جاوید روز خان چعرزئ کوٹ (بونیر)
نے لکھا؛
January 3, 2008 at 2:21 pm
کس منہ سے خدا سے کہیں کہ رحم کر۔ کیونکہ جو رحم نہیں کرتے وہ رحم کی توقع کس طرح کر سکتے ہیں ۔ قومی سطح پر ہمارا ٹالرینس لیول یعنی برداشت کی سطح کس حد تک گرگئی ہے کہ ہم دوسروں کا اختلاف پرداشت نیہں کرتے اور دوسروں کی جان کے درپے رہتے ہیں۔خدا رحیم ہے لیکن ان لوگوں کے لیے جو اس کے درس رحمت سانس جیسے رُک سی رہی ہے۔کیاخبر کس کی نظر لگ گئی ہےہم کو۔یوں لگتا ہے جیسے صدمے سے مرجاؤں گا، لیکن مجھے تو ابھی زندہ رہنا ہے۔بے نظیر کو ابھی نہیں جانا چاہیئے تھا ،ابھی تو ہمیں اس سے بہادری سے جینا سیکھنا تھا وہ بہادری جس بہادری سے اس نے جان دے دی۔