شہیدِبینظیر کا پیغام
اپنی روش سدا سے جہاں جی حضور ہے
کیا ہو رہا ہے ملک میں کس کو شعور ہے
قاتل کے وا سطے تو جہنم ضرور ہے
وہ جنت میں جا بسی ہے جو جنت کی حور ہے
دے کر گئی ہے قوم کو وہ ایک ہی پیام
آگے بڑھے چلو ابھی منزل تو دور ہے
فرعون کے لیئے ہیں محلا ت بن رہے
پس کر بنا ہے سر مہ ، وہ غربا کا طور ہے
جا بر کے و اسطے ہے معین عمر ضرور
پھر رو ند تا خدا وہ سرِ پر غرور ہے
کو ئی مٹا سکے گا نہیں دین ِ یہ خدا
گر ایسی سو چ ہے ، تو وہ ذہنی فتور ہے
میں حق پرست شمس ہوں ، کہتا ہوں سچ سدا
عادت میری بری ہے یہ میرا قصور ہے































ماوراء
نے لکھا؛
December 30, 2007 at 5:21 am
بہت خوب شمس صاحب۔ کیا یہ نظم آپ کی لکھی ہوئی ہے؟ اگر ہاں۔۔تو کیا اس کو میں اپنے بلاگ پر آپ کے نام سے پوسٹ کر سکتی ہوں؟