Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

خواتیں کا حملہ۔

یہ خبر ابھی ابھی نظروں سے گزری۔صبح سے قطار میں لگی خواتیں کو یوٹیلٹی سٹور کے عملے نے آٹا نا دینے کی نوید سنائی جبکہ سٹور میں آٹا موجود تھا۔تو خواتیں آپے سے باہر  ہو گیں۔ غصے میں انھوں نے پتھرو کیا اور آگ لگانے کی کوشش کی۔عملے کو جان کے لالے پڑ گے اور وہ بزدل مرد حضرات سٹور کو تالہ لگا کر بھاگ کھڑے ہوے۔مجھے اس خبر سے دلی خوشی ہوئی۔کہ ھماری خواتیں کو اپنے حق کے لے کم ازکم آواز اٹھانی تو آگی۔چاہے وہ آٹے کے لے ہی سہی۔تھانے میں کوئی انصاف پسند آفسر ہوا تو اس کو سب سے پہلے سٹور کے عملے کو حوالات کی سیر کروانی چاہے۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

7 تبصرے »

  1. مسافز BAHRAIN نے لکھا؛

    January 19, 2008 at 11:23 pm

    (: بہت خوب لکھا ھے تانیہ۔

  2. آویز جرمنی نے لکھا؛

    January 20, 2008 at 12:53 am

    حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں ہم کوعدل ہر گز ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔
    غصہ تو ویسے بھی حرام ہے ۔
    ہماری عورتوں کو چولھے میں اور خاندانوں میں آگ لگانی تو بہت آتی ہے ۔اب گھروں سے باہر نکل کر سٹوروں کو آگ لگانا کوئی بہادری یا عقل مندی نہیں اور نہ ہی اس کی حمایت کرنی چاہیے ۔آج سٹوروں کو آگ لگا نا سیکھیں گی کل کو دھماکےبھی کریں گی ۔
    پھر ہم سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے کہ دھماکے اور دہشت گرد ختم نہیں ہوتے ۔
    عورت ہو یا مرد سٹور میں آٹا نے ملنے پر ایسے دکاندار کی فورا ہی پولیس میں رپورٹ درج کروانی چاہیے ۔لا قانونیت کی حمایت ہر گز نہیں کرنی چاہیے۔ چاہے کوئی ہو ۔یہ ہی عدل کا تقاضہ ہے اور ہم نے یہ سیکھنا ہے اور دوسروں کو بھی یہ ہی سیکھانا ہے ۔

  3. نگھت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    January 20, 2008 at 5:00 am

    آویز کو بس وھی لکھنا ھوتا ھے جس سے کوئ بھی متفق نا ھو ۔۔خواتین کے سلسلے میں اگر آپ کا تجربہ اچھا نہیں ھے تو تانیہ کا کیا قصور۔۔۔۔

  4. مسافز BAHRAIN نے لکھا؛

    January 20, 2008 at 1:06 pm

    آویز جرمنی نے تبصرہ کیا

    حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں ہم کوعدل ہر گز ہاتھ سے نہیں چھوڑنا

    جناب عدل اور ظلم میں مشرق و مغرب کا فرق ھے۔ آٹا ھوتے ھوئے نہ بیچنا اور کہنا کہ آٹا نہیں ھے یہ عوام کے ساتھ “عدل“ ھے یا ظلم؟

    آگے جناب فرماتے ھیں “ غصہ تو ویسے بھی حرام ہے ۔ “

    جنابِ عالی، غصہ بےشک حرام ھے۔ لیکن اِسلام میں یہ تعلیم بھی دی گئ ھے کہ ظلم کو ھاتھ سے روکو جو اُنھوں نے کیا، اگر ظلم کو ھاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے اُسے برا کھو جو ھم کر رھے ھیں، اگر بیان کردہ دونو صورتیں نہ ھو سکیں تو ظلم کو دل میں برا کہا جائے جوکہ آپ کو کرنا چاہئے۔

    پھر جناب نے کہا “ ہماری عورتوں کو چولھے میں اور خاندانوں میں آگ لگانی تو بہت آتی ہے ۔اب گھروں سے باہر نکل کر سٹوروں کو آگ لگانا کوئی بہادری یا عقل مندی نہیں اور نہ ہی اس کی حمایت کرنی چاہیے ۔آج سٹوروں کو آگ لگا نا سیکھیں گی کل کو دھماکےبھی کریں گی“

    بیٹی خدا کی رحمت ھے ، ھمارا دین یہی سکھاتا ھے ھمے آویز جرمنی جی؟ یہی سمجھاتے رہے سب پیغمبر انسانوں کو۔

    حیرت ھوتی ھے مجھے اِتنی گری ھوئی الزام تراش سوچ کے ھاتھ کہاں قلم آکئی ! رحم خدایا۔

  5. علی شاہ نے لکھا؛

    January 20, 2008 at 10:30 pm

    اور آپ خواتین و حضرات زرا یہ بھی سوچیں کہ ابیبٹ آباد کی شدید سردی اور بارش، اور غریب عورتیں سارا دن قطار میں کھڑی رہیں۔ کیا انھوں نے پوری بوری خود کھانی تھی؟ جی نہیں بلکہ اپے شوہروں اور بچوں کو کھلانی تھی۔ حالانکہ یہ آدمی کا فرض بنتا ہے۔ مگر عورت ماں ہے اور ماں تو اپنے بچوں کیلئے موت سے بھی لڑ جاتی ہے تو اسٹور کا عملہ کیا چیز۔ جب معصوم بچے بھوک سے بلبلا رہے ہوں تو کوئ قاعدہ قانون یاد نہیں رہتا۔

    ہم ملک سے باہر بیٹھ کر، بھرے پیٹ قاعدہ قانون کی بات کر سکتے ھیں مگر پاکستان کی اس ماں سے بھی تو کوئ زرا پوچھے جو ہر روز غربت کی آگ میں جلتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ماں تجھے سلام

  6. تانیا رھمان نے لکھا؛

    January 23, 2008 at 1:01 am

    آویز جی اپ کے تبصرے پر بس یہی کہوں گی۔جرمنی میں رہ کر بھی پاکستانی خواتیں کو غلام کیوں دیکھنا چاہتے ہیں۔

  7. رضاعلی خان SAUDI ARABIA نے لکھا؛

    January 24, 2008 at 5:11 am

    محترمہ تانیہ رحمان ہم سمجھتےھیں کہ یہ پہلی بار عورتین اپنے حق میں نہی بولی یہ تو صدیوں سے چلا آرھاھے.فرق اتنا ہے کہ یہ گھر کے باھر ھوا. مظلوم شوہر برداشت کرتے آرھے ھیں.آخر کب تک شوہر حضرات اگے بھاگتے رھینگے

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو