اتحاد کی دھوم ہے
جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے منقسم اتحادی پلیٹ فارم کو ایک کئے جانے کی آجکل پُر اسرار کوششیں کی جا رہی ہیں۔اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے سید علی گیلانی کو ،ایسا لگتا ہے کہ ،سائڈ لاین کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،اس حوالے سے چند سطور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتحاد کی دھوم ہے
اب کے اپنے شہر میں،اتحاد کی دھوم ہے
ہوگیا ہے فیصلہ،محفلوں کی دھوم ہے
ہوگئے ہیں ایک سب منحرف جو ہوگئے
نیلامی قومی وقار ہم کو اب معلوم ہے
ایک ہونے سے ہمیشہ بنتا نہیں خورشید مبین
ہم کو تاروں کا چمکنا رات میں معلوم ہے
صورت خورشید پانے کے لئے مت بھولئے
لازم ہے تاروں کی تپش،یکرخی بھی ملزوم ہے
اتحاد کا شور و غل ،غالب سماعت پر جو ہے
اجتماع کے نام پر،ہوتی سودا گری معلوم ہے
خالد بتائے کون یہ اصلیت قائدین
ہے بکاو سب مصنفین،اور قوم بھی معصوم ہے































راشد سہیل
نے لکھا؛
January 22, 2008 at 12:01 pm
یہ لیڈر اور مصنفین جہاں بھی ہوں ایسے ہی ہوتے ہیں. نظم اچھی ہے
نگھت نسیم
نے لکھا؛
January 27, 2008 at 10:35 am
راشد سہیل جی ایسا نہیں ھے بلکہ جہاں بھی بے صمیر مصنفین اور لیڈر ھو نگے وھاں وھاں ایسا ھو گا
خالد
نے لکھا؛
January 27, 2008 at 10:40 am
نگہت جی اآپ صحیح کہتی ہیں،تبصرے کے لئے شکریہ۔نظم یاد کیجئے گا،ہاہااہاہ