Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

ائے خدا تیرے گھر میں بھی کوئی محفوظ نہیں۔

ھم اپنے بزرگوں سے سنتے تھے ۔کہ جب کبھی کوئی آفت یا بیماری شہروں میں پھلتی تھی۔تو ہر ہاتھ دعا کے لیے اٹھتا تھا۔اورلبوں پر ایک ہی دعا ہوتی تھی۔کہ یا اللہ سب کی خیر کر۔اس کے لیے کسی کا کوئی اپنا ہونا ضروری نہیں تھا جب کوئی مسافر رستہ بھول جاتا۔ تو وہ مسجد کو سب سے ذیادہ محفوظ ٹھکانا سمجتا ۔اندھی اور طوفان سے بچنے کے لیے جو پناہگاہ ذہین میں آتی وہ خدا کا گھر ہی تو ھے۔
اور جب اس کو لگتا کہ اس کی دعا قبول نہیں ہو رہی یا اس کی دعا میں اثر نہیں رہا۔تووہ مسجد کا یعنی خدا کے گھر کا رخ کرتا۔چاہیے نماز کا ٹائم نہ بھی ہو۔
اور رو رو کر فریاد کرتا اپنی امت یا نگہانی آفت سے چھٹکارہ پانے کے لیے کہیں کہیں گھنٹے مسجد میں گزار دیتااس امید کے ساتھ کہ اپنے ربّ کے در بر سوالی بن کر آیا ھے اس کے ذیادہ قریب ھے اس کی فریاد راہگاں نہیں جائے گی۔اور آج جب میں اپنے،، آج،، پر نظر دوڑاتی ہوںہ تو لوگوں کو اپنی دعا کے اثر کی بجاے اپنی جان کی فکرلاحق ھے ۔وہ کیسے ابنے خدا کے حضور پورے خضوع وخشوع کے ساتھ سجدہ کرے گا۔ جب کۃ اسے اپنے اردگرد موت دھماکے کی صورت میں نظر آتی ہو گی اور آج اسی گھر میں اپنے فرایض ادا کرتے ہوے اس کی جان کو خطرہ ہے۔وہ اپنی نماز کے دورن سوچتا ہو گا کہ وھ نماز پوری کر پائے گا بھی کے نہیں
۔اور دوسری نماز نصیب بھئ ھو گی کے نہیں ۔
۔اسلامی جموریہ پاکستان کی مسجد میں ایک مسلمان کی جان محفوظ نیں توباقی کچھ کہنا بے کار ہے۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

3 تبصرے »

  1. صفدر ہمدانی نے لکھا؛

    January 22, 2008 at 4:15 pm

    جن معاشروں سے عدل ختم ہو جائے وہاں دعائیں بے اثر ہو جاتی ہیں لیکن پھر بھی ہمار یہ شعر ایک روشنی ہے.
    کیا خبر کون سے لمحے میں دعائیں ہوں قبول
    آسمانوں کی طرف ہاتھ اٹھائے رکھو

  2. ارشد نذیر ساحل بارسلونا SPAIN نے لکھا؛

    January 23, 2008 at 2:47 am

    جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
    یس دور کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہو گی
    اے خدا ہماری دعاوں کو قبول فرما،ہمارے ملک پاکستان کے حا لات تھیک فرما آمیں

  3. نگھت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    January 27, 2008 at 9:52 am

    یہی تو سوچنے کی بات ھے ک جنہے مسجد میں بھی پناہ نا ملے ان کے لیے کس کو سوچنا ھے اور کہاں تک سوچنا ھے۔۔۔۔بات زاتیات سے نکل کر اجتماعی ھو گئ ھے۔۔۔۔۔۔۔بے عمل لوگوں کے انجام اِس کے علاوہ ھو بھی کیا سکتے ھیں۔۔۔۔۔دکھ اجتماعی ھو تو دعا بھی اجتماعی ھونی چاھیے۔۔۔۔لیکن یہ بھی یاد رھے کے بے عمل کی دعامیں کتنی سچائ اور کتنی لگن ھو سکتی ھے۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو