ترنگے سے محبت یا ثا نیہ کی چال
ونیہ مرزا جو بھارت کی ٹینس کی کھلاڑی ہیں ائے دن کسی نہ کسی وجہ ثا ے خبروں میں ان رہتی ہیں بھارتی ٹیم کی حوصلہ افزائی ۔یاپھر کسی خاص وخاص کھلاڑی یوراج سنگھ کے پیجھے ۔یہ گاتی ہوئی سات سمندر پار میں تیرے پیچھے پیچھے اسڑیلیا آگی۔اور یا پھر بابری مسجد میں ماڈلنگ کرتی ہوئی مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتی ہیں ۔ویسے کھیل تو وہ اپنی عوام سے بھی رہی ہیں ٹینس کے بال کی طرح۔سونیہ کے کھیل کے دوران بھارت کے ترنگے کی کسی نے بےعزتی کردی تو سونیہ بی بی نے اپنی عوام کے جذبات کو گرم ہونے سے بچالیا یہ کہہ کر کہ وہ ترنگے کی بےعزتی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتی۔ سو وہ ٹینس کھیلنا چھوڑ دیں گی۔ ویسے سونیہ جی دل تو نہیں کر رہا جی لگانے کو۔اپ ٹینس کم اور لوگوں سے ذیادہ کھیلتی ہیں۔ ۔بچاری بھارتی عوام۔سونیہ کی ڈبل چال نہ سمجھ سکی۔۔































صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
January 26, 2008 at 3:33 am
تانیا جی جو بات آپکی ہمیں اچھی لگتی ہے وہ یہ کہ آپ ہر موضوع پر لکھ رہی ہیں. اللہ آپکے قلم کی رفتار کو اسی طرح رکھے. ویسے یہ بتائیں کہ ڈاکٹر نگہت سمیت یہ باقی دوستوں کو کیا ہوا.
بلاگ کا صفحہ تو خاصا سونا سونا ہے.کیا دوست تھک گئے؟
علئ شاھ پاک
نے لکھا؛
January 26, 2008 at 3:41 am
Ab tak wahi Nasha-e -pazerai hai
teray Alfaz mai Aaweg bari ghehrai hai…
رضاعلی خان
نے لکھا؛
January 26, 2008 at 8:02 pm
تانیہ جی اب انڈیا کی غریب عوام اب کس کس چال کو سمجھے سیاسی چالیں،فلمی چالیں،ماڈل چالیں(catwalk)اور اوپر سے ثانیہ مرزا کی سنگل بھی نھی ڈبل چال۔ویسے یاد آیا انڈیا دیش مہان چالوں کی وجہ سے تو ھوا ھے
محب علوی
نے لکھا؛
January 27, 2008 at 2:25 am
ثانیہ مرزا کافی چالباز محسوس ہوتی ہے.
خاک نشین نے لکھا؛
January 27, 2008 at 2:59 am
تانیا جی سب عوام بھولے ہئ ہوتے ہیں،استحصال کا کوہی مذہب،ملت ،اخلاق اور قانون نہیں ہوتا
صفدر جی سے سوال ہے بی بی سی کے ضیا اور جنرل مش کے سوال جواب کا القمر میں زکر نہیں؟
نگھت نسیم
نے لکھا؛
January 27, 2008 at 8:10 am
مجھے آج تک کوئ پاکستانی ایسا نہی ملا جو چالبازی سے ھی اپنے جھنڈے کی لاج رکھتا ھو یا محبت رکھتا ھو ۔۔۔آپ سب کو حیرت شاید اسی بات کی ھو رھی ھے جب کہ میں خوش ھوں کہ ثانیہ نے بڑی چالبازی سے پاکِستانیوں کو آینہ دیکھانے کی جو کوشش کی ھے اُس میں وہ کامیاب نظر آتی ھے۔۔۔۔
نگھت نسیم
نے لکھا؛
January 27, 2008 at 8:12 am
مجھے آج تک کوئ پاکستانی ایسا نہی ملا جو چالبازی سے ھی اپنے جھنڈے کی لاج رکھتا ھو یا محبت رکھتا ھو ۔۔۔آپ سب کو حیرت شاید اسی بات کی ھو رھی ھے جب کہ میں خوش ھوں کہ ثانیہ مرزا نے بڑی چالبازی سے پاکِستانیوں کو آینہ دیکھانے کی جو کوشش کی ھے اُس میں وہ کامیاب نظر آتی ھے۔۔۔۔
محب علوی
نے لکھا؛
January 27, 2008 at 2:28 pm
نگہت آپ کتنے پاکستانیوںسے ملی ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
سولہ کروڑ ساٹھ لاکھ پاکستان مقیم پاکستانی اور ستر لاکھ بیرون ملک پاکستانیوں سے ملاقات ہو چکی آپ کی جو اتنے دعوی سے بات کر رہی ہیں اور ثانیہ مرزا کے آئینے کیا صرف پاکستان کے لیے ہی رہ گئے ہیں پہلے وہ خود تو آئینہ دیکھ لے پھر کسی اور کو آئینہ دکھانے کا سوچے بھی.
ویسے آپ کا تعلق کس ملک سے ہے ؟
نگھت نسیم
نے لکھا؛
January 27, 2008 at 2:56 pm
محب علی مجھے خوشی ھوئ کہ آپ نے اُسی ردِ عمل کا اظہار کیا جو احسن تھا اور میری خواھش بھی ۔۔کبھی کبھی ایسے ھی جگانا پڑتا ھے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
January 27, 2008 at 4:25 pm
نگت جی یہاں میں بھی کچھ عرض کرنا چاہوں گی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ھم اپنے جھنڈے سے دل سے محبت کرتے ہیں ۔ جس کے لیے ھم کو چالبازی کی کوئی ضرورت نہیں۔اور جن کو نہیں تو ان کے لیے اپ کوئی بھی چال چل جاہیں ان کی ذات کو کوئی فرق نہیں پڑنا۔
نگھت نسیم
نے لکھا؛
January 27, 2008 at 4:31 pm
بے شک سچ کہا تانیا ۔۔۔۔
نگھت نسیم
نے لکھا؛
January 27, 2008 at 5:06 pm
اظہار سے فرق پڑتا ھے تانیہ جی چاھےجسطرح بھی اور جیسے بھی کیا جائے ورنہ آپ نے بھی اتنا بڑا بلاگ نا لکھا ھوتا۔۔۔۔ مجھے افسوس ھے کہ ھم اپنے لیے جو سوچ رہیے ھیں وھی جب ثانیہ مرذا کرتی ھے تو چالبازی کیوں سمجھی جاتی ھے۔۔۔آسے ترنگے سے کیوں محبت نہیں ھو سکتی۔۔۔۔الحمدواللہ جھنڈے کی شان بھی سمجھتی ھوں اور آس کی آن کو نبھانا بھی جانتی ھوں۔۔۔۔۔لیکن مجھے دوسرا کوئی کہیں کسی ملک میں اپنے جھنڈے کے لیئے کچھ کریں وہ کبھی چالباز نہیں لگا ،کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔چاھے وہ کتنا ھی بڑا چالباز ھو ،کیوں کہ جسطرح ھم سوچتے ھیں باقی سب کو بھی اجازت دیجیئے کہ وہ بھی اپنی حُب الوطنی کا اظہار کر سکے۔۔۔۔۔
رضاعلی خان
نے لکھا؛
January 27, 2008 at 6:03 pm
محترم محب علی ہانڈی کو چکھنے کے لیے پوری کو نہی کھاتے۔کسی بھی قوم کو جا ننے کے لیے سب سے ملنا ضروری نہی۔اور پھر ان کو جاننا جو ھم میں سے ھوں۔پنجابی میں اک مشہور کہاوت ھے کہ گھر دے بال دے دند نہی گندے سال یاد ھوندے نے۔معذرت کے ساتھ اگر کچھ غلط کہا ہو میں نے
چیچوں ملیانوی نے لکھا؛
January 28, 2008 at 12:47 am
سلام مسنون
یہ بلاگ ایک متعصبانہ سوچ کی مظہر ہے . ثانیہ مرزا، اور اس جیسے تمام دیگر ہندوستانی مسلمان اپنی مذہبی شناخت کے علاوہ اپنی قومی شناخت کو سب سے اہم تصور کرتے ہیں. یہ ایک ایسا سچ ہے جو پاکستانی مسلمانوں کو ان سے ذاتی طور پر ملے بغیر سمجھ میں نہیں آسکتا. پاکستانی کی ہر شعبہ میں پہ در پہ ناکامیوں کے بعد آج شاید ہی کوئی ہندوستانی مسلمان، کشمیریوں کے علاوہ، اب پاکستان کو ایک نظریاتی کامیابی کے بطور نہیں دیکھتا.
محمد ہارون عباس قمر
نے لکھا؛
January 29, 2008 at 9:49 am
اسے متعصبانہ سوچ تو نہیں خیر، کچھ اور کہا جا سکتا ہے. ہر آدمی کا سوچنے کا اپنا زاویہ ہے.بہرحال آپ کی یہ بات ٹھیک ہے. کہ تمام ہندوستانی مسلمان اپنی مذہبی شناخت کے علاوہ اپنی قومی شناخت کو سب سے اہم تصور کرتے ہیں. اور واقعی یہ ایک ایسا سچ ہے جو پاکستانی مسلمانوں کو ان سے ذاتی طور پر ملے بغیر سمجھ میں نہیں آسکتا.
چیچوں ملیانوی نے لکھا؛
January 29, 2008 at 1:27 pm
متعصبانہ سوچ کا مطلب منفی سوچ نہیں، بلکہ کسی خاص طرف چھکاؤ ہونا ہے. ان معنوں میں یہ ملاحظہ تحریر کیا گیا تھا. دراصل پاکستانی مسلمانوں کے ذہنوں میں کہیں نہ کہیں اب تک قیام پاکستان کی وجوہات جاگزیں رہتی ہیں. مگر ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوؤں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوتا ہے، اور وہ ایسا صرف ہندوستانی قومیت کے ساتھ اظہارِیکجہتی کرکے ہی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں. دلچسپی رکھنے والے قارئین جناب قمر علی عباسی کی “دلی دور ہے” پڑھیں تو ذہن کی کھڑکیاں کھل جائیں گی
محب علوی
نے لکھا؛
January 30, 2008 at 9:08 pm
رضاعلی خان
ہر مثال ہر جگہ نہیں دی جا سکتی مثلا میں دو ہندوستانیوں سے ملوں اور وہ دونوں مجرم ہوں تو آپ کی مثال کی روشنی میں تمام ہندوستانیوں کو مجھے مجرم سمجھنا چاہیے کیونکہ میں نے ہانڈی کے دو دانے چکھ لیے ہیں.
چیچوں ملیانوی
ہمیں نظریاتی طور پر کامیاب دیکھنے کے لیے ماشاءللہ ہندوستان میں ہندو خود ہی وہ سامان مہیا کر دیتے ہیں کہ کسی اور ثبوت کی ضرورت ہی نہیں رہتی .
گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام یاد ہے نہ آپ کو ، ابھی زیادہ پرانی بات تو نہیں ؟؟؟؟