کینڈل لائٹ ڈنر
جب سے صدر پاکستان جناب پرویز مشرف نے مسند اقتدار سنبھالی ہے۔ پاکستان دن دوگنا اور رات چو گنا ترقی کر رہا ہے۔ پہلے سربراہان حکومت کو پاکستان کا خزانہ خالی کرنے کے علاوہ کوئی کام آتا ہی نہ تھا، لیکن ہمارے شوکت عزیز صاحب نے خزانے کو کھربوں ڈالروں سے لبالب بھر دیا۔
پاکستان کے ایک ذہین و فطین وزیر جناب عطاء الرحمن نے گاوں گاوں اور گوٹھ گوٹھ انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا جال بچھا دیا۔ پہلے صرف ای میل کی سہولت پاکستان کے چند بڑے شہروں تک ہی محدود تھی۔ اب پاکستان کے آٹھ سو شہروں تک انٹرنیٹ جال پھیلا ہوا ہے۔
پاکستان کی سولہ کروڑ آبادی میں آٹھ کروڑ کے قریب لوگوں کےپاس اب موبائل فون موجود ہے۔ اسلام آباد کی وسیع و عریض سڑکیں جو کبھی سنسان ہوتی تھیں، اب پورا دن وہاں ٹریفک جام رہتا ہے۔ اور اس کے لئے ضلعی حکومت کو اوور ہیڈ برج بنانا پڑ رہے ہیں۔
پاکستان میں متعدد نجی کمپنیاں بجلی پیدا کر رہی ہیں۔ لیکن چند عاقبت نا اندیش لوگوں کو یہ ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ چنانچہ وہ بحران بحران کا شور مچاتے رہتے ہیں، کبھی چینی کا، کبھی آٹے کا اور کبھی بجلی کا۔ اور اس طرح یہ لوگ عوام الناس کو میڈیا کے ذریعے گمراہ کر رہے ہیں۔ بہرحال ہمارے صدر نے ان لوگوں کا بڑا اچھا علاج تجویز کر دیا ہے کہ جہاں یہ لوگ اپنی اس طرح کی حرکتوں میں مصروف ہوں، انہیں “دو تین ٹِکا دینی چاہئیں“ ان لوگوں کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ صدر صاحب کے اقدامات کی بدولت پہلے صرف طبقہ اشرافیہ اور ایلیٹ کلاس لوگ ہی کینڈل لائٹ ڈنر کیا کرتے تھے، خدا مشرف صاحب کا بھلا کرے کہ انہوں نے امیر و غریب کے فرق کو مٹا دیا، اب ہم جیسے غریب غرباء بھی اس سعادت سے دن رات فیض یاب ہوتے ہیں۔































تانیہ رحمان نے لکھا؛
January 28, 2008 at 9:27 pm
بہت ہی خوب ہارون جی غریب کب سے ہاتھ میں موم بیتی لیے امیروں سےتھوڑی سی روشنی مانگ رہا ہے۔وہ بھی اپنے ہی ملک کے۔پڑوسی ملک کو تو چھوڑ ہی دیں۔
چیچوں ملیانوی نے لکھا؛
January 28, 2008 at 10:51 pm
سلام مسنون
میں ایک غریب جگہ ہی سے آپ سے مخاطب ہوں. اگرچہ آپ نے اچھی تحریر تخلیق کی ہے، مگر یہ ایک سرنگی نظر Tunnel Vision
چیچوں ملیانوی نے لکھا؛
January 29, 2008 at 1:14 pm
محترم محمد ہارون عباس قمر صاحب، سلام مسنون .. یہ آپ کی ایک عمدہ تحریر ہے. مگر یہ ایک مخصوص راویہء نظر ہے. جسے سرنگی نظر یا
نگہت نسیم
نے لکھا؛
January 29, 2008 at 4:07 pm
حارون کی بات ماننے میں عافیت ھے ورنہ دو تین ٹکانے کا رواج ھو چکا ھے پھر نا کہیے گا کہ خبر نا ھوئ اور ایک بات یہ بھی کہ ھر بات کی ایک حد ھوتی ھے آپ لوگ تو بس پیچھے ھی پڑ جاتے ھیں جب مٰش بٰش کہہ رھے ھیں کہ پاکستان میں کوئ بحران نہیں ھے تو نہیں ھے ۔آپ لوگ چین سے نا جیتے ھیں اور نا چین کی بانسری بجانے دیتے ھیں–حارون سچی سے کینڈل لائٹ ڈنر سب سے مہنگا ھے اب آپ سب نا شکری کریں تو حکومت کیا کرے وہ تو صرف اسباب ھی پیدا کر سکتی ھے اوروہ پوری لگن سے کر رھی ھے ۔
رضاعلی خان
نے لکھا؛
January 29, 2008 at 5:37 pm
گوڑا گوڑا کوا خلح بہ د خواگہ ئی)یہ پشتو کی مثال ہے کہ کسی میٹھی چیز کا نام بار بارلینے سے منہ میں مٹھاس آجاتی ہے ہارون صاحب بھی کچھ یہی کر رہے ھیں ۔۔پورا پاکستان candle light ڈنر انجوائے کر رہا ہےfree of tax ۔رھی بات لوڈ شیڈنگ سے غریب عوام پر کیا گزرتی ھے تو وہ بھی candle light ڈنر انجوائے کر رہے ہیں پہلی بار ایک ھی صف میں محممود اور ایاز نظر آُٰٰے ہیں۔۔۔
اکمل سد
نے لکھا؛
January 31, 2008 at 6:05 pm
کیندل لائٹ تو ایک بہانہ ہے اصل میں یہ تو دکھاوا ہے اور آپکی توجہ اس جانب ہے کہ آپ بھی کینڈل لائٹ میں صرف دال ہی کھاےا کریں کیونکہ آٹا تو پاکستان میں دستیاب نہیں ہے اور اب گیس کی باری ہے شاید آپ کو اس کینڈل لائٹ پر کھانا بھی پکانا پڑے کیسی رہی ہارون جی؟
سعدیہ سحر نے لکھا؛
February 1, 2008 at 8:48 pm
ھاورن جی آپ کو اعتراض کس بات پہ ھے..ھاتھ میں موبائیل ….پورے ملک میں انٹرنٹ کا جال…..ھر روز کینڈل لائیٹ ڈنر….واہ لائف ہو تو ایسی….پتا نہیں خوش کیوں نہیں ھوتے…….