ھمارے ھیرو سے ناانصافی کیوں؟
چند دن پہلے چودھری وجاہت جو کے موجودہ مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین کے بھائی ھیں۔ یوکے (آئے۔ آمیگریشن والوں نے پوچھ گوچھ کے لیےچند گنٹھے روکا۔۔جس پر پاکستانی حکومت نے واویلہ مچا دیا۔( یوکے )میں پاکستانی سیفر سے احتجاج کیا گیا ۔اور پاکستان میں یو کے سفیر کو بلا کر احتجاج کیاگیا۔ وجاھت کو کوئ نہیں جنتا سواے ان کے گارں کے لوگوں کے ۔ جہاں وہ رھتے ھیں۔جبکے دوسری طرف جناب ایدھی صاحب کو آٹھ گنٹھے روکا گیا جو پورئ دنیا میں جانے جاتے ھیں۔۔جس پر ھماری حکومت سوئی ہوئی تھی۔کیا ایدھی جوکے ھمارے ہیرو اور پاکستان کی آن بان اور شان ہیں ھر پاکستانئ دل سے ان کی عزت اور پیار کرتا ھے۔ ، ایدھی اور بلقیس دونوں نے اپنی زندگی پاکستان کے غریب عوام کے نام کی ہوئی ہے۔جب کبھی پاکستان پر کوئی مشکل وقت آیا ۔تو سب سے پہلے ایدھی کی رضاکارانہ ٹیمیں وھاں پنچی۔حکومت تو اس وقت جگاتی ہے جب ادھے سے ذیادہ کام ہو چکا ہوتا ہے۔ھماری حکومت کے یے یہ شرم کا مقام تھا۔ کہ ایدھی حیسےعظیم ا انسا ں (ان کی شان میں کہنے کے لیے الفاظ نہیں۔)
ان کو امیگریشن والوں نے روکے رکھا۔اور حکومت کی طرف سے کوئی احتجاج نہیں ہوا۔































مردان خان نے لکھا؛
January 30, 2008 at 11:15 am
مغرب عمومی طور پر، اور امریکہ خصوصی طور پر، پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک کی عزت نفس سے کھیل کر ان میں مایوسی کی ایک لہر دوڑانا چاہتا ہے. یہ نفسیاتی جنگی حربوں کا ایک حصہ ہے. ہمارے ہر دل عزیز سینٹ جیسی شخصیت، عبدالستار ایدھی بین الاقوامی طور پر جانی پہچانی شخصیت ہیں. کئی امریکی فلاحی ادارے ان کی مدد بھی کرتے ہیں، جس میں ہیلی کاپٹرز کی فراہمی بھی شامل ہے. چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے ساتھ بد سلوکی کا سبب نفسیاتی جنگ ہی ہے. دوسری جانب اس معاملہ میں ہمارے دفتر خارجہ، پاکستانی سفیر کی بے حسی اور کاہلی اور نا اہلی بھی قابل داد ہے. آپ نے نکتہ تو اچھا اٹھایا، مگر تحریر میں پختگی نہیں. محنت کرتے رہیں
علی شاہ نے لکھا؛
January 30, 2008 at 8:31 pm
تانیا جی
جس کی لاٹھی اسکی بھینس کے مصداق، جو امیر اسکی عزت۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
January 31, 2008 at 4:54 am
بہت شکریہ خان جی اپ نے پڑھا میں سوچ رہی ہوںابھی کافی رات ہے اس لیے کوئی دکان کھلی نہیں ہو گی انشا اللہ کل زندگی رہی تو پہلا کام سیمٹ اور ریت کا کروں گی۔آخرکار تحریر کو پختہ پل جو بنانا ہے
نگہت نسیم
نے لکھا؛
January 31, 2008 at 10:44 am
میرا خیال ھے ک بلاگ لکھنے کے لئیے کسی پختگی کی کوئ ضرورت نہیں ھے ۔۔یہ رائٹرز کا ھائیڈ پارک ھے کسی کو کسی سے انعام نہیں لینا بلکہ جو دل میں آے بس کہہ دینا ھے، لکھ دینا ھے، سو تانیہ اللہ کے لئیے دوکان نا جانا صبح صبح ،بلکہ مزے دار سا بلاگ لکھنا۔۔۔۔۔ انتظار رہیے گا ۔۔۔۔
اکمل سد
نے لکھا؛
January 31, 2008 at 5:49 pm
بعض افراد بلاگ صرف مزے لے لئے لکھتے ہیں نہ سرف معاشرہ کی اصلاح کے لئےاس معاملہ میں عدم توجہ تو ہمارے دفتر خارجہ، پاکستانی سفیر کی بے حسی اور کاہلی اور نا اہلی بھی قابل داد ہے خدا عقل سلیم دے
چیچوں ملیانوی نے لکھا؛
January 31, 2008 at 7:09 pm
جناب مردان خان صاحب
نگھت نسیم
نے لکھا؛
February 1, 2008 at 9:41 am
اکمل جی آپ سے متفق ھوں کہ بلاگ کو قابلٍ توجہ ھونا چاھیے اپنے اصلاحی پہلوں کے اعتبار سے لیکن یہ بھی تو دیکھیے ھم میں سے کتنوں نے کبھی بلاگ پہلے لکھا ھی نہیں ھے ،سو اس لحاظ سے ھر کاوش نا صرف قابلٍ توجہ ھے بلکہ بہتر سے بہتر ھو رھی ھے ، ویسے ایک بات مزے کی بتاؤں میری ماں کو کبھی یقین نہیں ھوا کہ ھم بہن بھائ بھی کوئ عقل کی بات کر سکتے ھیں تو ہمیشہ کہا کرتی ھے کہ اگر عقل ٍبکتی ھوتی تو میں کمیٹی ڈال کر تم سب ک لیئے خرید لاتی۔۔۔کہی آپ لوگ بھی تو یہی نہیں سوچ رھے ھم سب ک لیئے۔