Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

موبائل فون

nighatمجھے فلموں سے زیادہ اشتہارات اچھے لگتے ھیں کہ جو بات تین گھنٹوں میں سمجھ نہی آتی وہ بات تین سکینڈ سے تین منٹ میں آ جاتی ھے ۔مثلاُ “ میرے ابوٰ نے لی ایک بیمہ پالیسی “ جسے امی نے ایسی سیف میں رکھی کہ ابو کی بھی پلٹ کر خبر نا لی اور وہ اشتہار کون بھول سکتا ھے “ھمارا بینک تمھارا بینک حبیب بینک“ کہ ایک بچی اچانک کہی سے آتی ھے اور کہتی ھے کہ “میرا بھی تو ھے“ ، دیکھا اگر نا پتہ چلتا تو ھمارا اکاؤنٹ تو گیا تھا ناں۔۔دوستوں دوسرے اشتہیارات کو مت بھولیں جنہوں نے نا صرف زندگی آسان کی بلکہ شادی تک جلد ھونے کی نوید بھی سنائ ھے جیسے بیوٹی سوپ (لکس صابن) سے لے کر بیوٹی کریم (نکھار ) تک ، لیکن دوستوں ایک اشتہار نے ھمیں تو حیران کر دیا بلکہ یوں سمجھٰیے کہ سارے مسائل کا حل ھی مل گیا ھو جیسے ۔ اشتہار تھا موبائل فون کا جس میں ایک بچی کہتی ھے اپنی ماں سے کہ “بتاؤ بتاؤ وہ کون ھے جو صبح صبح جگاتا ھے ،وقت پر اسکول لے جاتا ھے ، دوستوں سے ملاتا ھے اور رات کو لوری سناتا ھے ،بتاؤ بتاؤ وہ کون ھے“۔ ماں بڑی خوش ھو کر کہتی ھے “میں“ تو بچی نے جھٹ اپنا موبائل فون نکالا اور ھنستے ھوٰے کہا “جی نہیں میرا موبائل فون“ ماں نے خوشی کے مارے بچی کو گلے سے لگایا کہ چلو زندگی کا یہ کام بھی ختم ھوًا، اور ھمیں چھوڑ گئ یہ سوچنے ک لیٰے کہ لو اب ماں کا نعم ا لبدل بھی مل گیا وہ بھی صرف ڈھای ھزار سے لے کر پچاس ھزار تک میں ۔ سو دوستوں نوید ھو کہ اس اشتہار سے یہ تسًلی ھوئ کہ اب کوئ یتیم مسکین نہیں رھے گا ۔۔ھم کسی کی ماں تو نہیں لوٹا سکیں گے لیکن اس کا نعم ا لبدل ضرور دے سکیں گے وہ بھی صرف ایک موبائل فون دے کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

11 تبصرے »

  1. چیچوں ملیانوی نے لکھا؛

    January 29, 2008 at 1:18 pm

    بہت خوب، لطف آگیا. مختصر، چست اور دل چسپ.

  2. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    January 29, 2008 at 3:22 pm

    بہت شکریہ ملیانوی جی

  3. رضاعلی خان SAUDI ARABIA نے لکھا؛

    January 29, 2008 at 4:07 pm

    بہت خوب ڈاکڑ نسیم صاحبہ توآپکے کہنے کا مطلب یہ تو نہی کہ اب جنت موبائل کے قدموں میں ہوگا۔یا پھر جو ایجاد ماں کی نعملبدل ہو گی اس کے قدموں تلے ۔یہی تو اک نعمت تہی جس پر ماں کے زیادہ قریب تھے اور جس پر ماں سر اٹھا کر فخر کرتی تھی اب وہ بھی نھی کرسکے گی۔چھوٹی باتیں رشتوں کو باندھ کہ رکھتا ہے اور اس میں خوبصورتی لاتاہے ان ایجادکیوجہ سے وہ رشتوں کی رنگینی اب مدھم پر گئی ھے ہمیں رات کا انتظار ہوناتھا تاکہ دادی اماں سے کہانی سنی جائے آج کل تو بچے ہفتوں بڑوں کی شکل نہی دیکھتے سے انٹرنیٹyoutube.com یاgoogle.comسے کہانیاں اور لوریاں آرام سے مل جاتی ھیں.جنیرشن گیپ اتنا آگیاہے اور مزید برھ رھا ھے کہ اب آپنے آنے والے بڑھاپے سے ڈر لگنے لگ گیا ہے.اللہ ہم سب پر آپا خاص کرم فرمائیں آمین

  4. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    January 29, 2008 at 4:11 pm

    بہت خوب رضا علی ۔۔۔۔جی خوش ھوا کہ یہ دکھ سانجھا ھی ملا۔۔

  5. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    January 29, 2008 at 5:49 pm

    بھینس رکھنے کا تکلف ہم سے ہو سکتا نہیں
    گھر میں سوکھے دودھ کا ڈبہ جو ہے رکھا ہوا
    تو اسی طرح ماں کا نعم البدل بھی موبائل ہو گیا نا. دراصل ہمارے حکمران بھی تو ملک میں ترقی کا معیار یہی بتاتے ہیں ناں کہ پاکستان میں اتنے کروڑ موبائل ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ کتنے کروڑ عوام کو آٹا مل رہا ہے اور کتنے کروڑ کو بجلی،صاف پانی،علاج اور ایسی ہی بنیادی سہولتیں حاصل ہیں؟

  6. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    January 29, 2008 at 8:00 pm

    بہت خوب نگہت ویسے یہ موباہل کہاں پایا جاتا ہے۔جنت لینے کا کتنااساں راستہ۔

  7. علی شاہ نے لکھا؛

    January 30, 2008 at 8:21 pm

    ماں کا کوئ نعم البدل ہو ہی نہیں سکتا، جس پیار و محبت سے وہ یمیں پیدا کرنے اور ہماری پرورش کرنے کی تکلیف اٹھاتی ہے، یہ کسی سائینسی ایجاد کے بس کی بات نہیں۔ میں کمسنی میں جب اپنی ماں کی کھردری اور سردی کے باعث پھٹی ہوئ ایڑھیاں دیکھتا، تو سوچتا، کیا یہ میری جنت ہے۔ مگر اب جاکر سمجھ آیا ماں تو سر تا پا جنت ہے، جو آرام، اطمینان، سکون اور راحت جنت میں متوقعہ ہے وہ اس دنیا میں ماں کہ سوا کہیں نہیں، خدا ہم سب کی جنت سلامت رکھے۔

  8. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    January 31, 2008 at 6:34 am

    آمین۔ثم آمین

  9. اکمل سد UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    January 31, 2008 at 5:58 pm

    مجھے فلموں سے زیادہ اشتہارات اچھے لگتے ھیں کہ جو بات تین گھنٹوں میں سمجھ نہی آتی وہ بات تین سکینڈ سے تین منٹ میں آ جاتی ھے

    جو بات صدر مشرف کو آٹھ سال میں سمجھ نہ آ سکی وہ آپ نے 3 سکینڈ میں کیسے سمجھ لی؟

  10. نگھت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    February 1, 2008 at 4:09 am

    اکمل جی صدر مشرف نا تو اشتہار دیکھتے ھیں اور نا فلمیں ، وقت نہیں ملتا نا جی کیا کریں اور کتنا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔کلی کلی جان تے پورا پاکستان

  11. اکمل سد UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 11:00 pm

    آپ نے صیح لکھا کہ مشرف جی فلمیں نہیں دےکھتے مگر ہم سب امید سے ہیں کہ وہ فارغ ہونے کے بعد اب ضرور دیکھیں گئے

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو