اسرائیل کی نوازش یا پاکستان کا سرتسلیم خم کرنا؟
میں نے جب ایک خبر پڑھی ہے ‘ حیراں ہوں کہ دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں ۔ آپ بھی پڑھ لیجئے پھر بات کرتے ہیں: ۔ القمر آن لائین میں شائع ہوئی یہ خبر کچھ یوں ہے :
اطلاعات ونشریات کے نگراں وفاقی وزیر سینیٹر نثار اے میمن نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیردفاع نے صدر پرویز مشرف سے ملاقات کرکے نہ
صرف پاکستان کوپہلی مرتبہ تسلیم کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر صدر پرویز مشرف کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف بھی کیا ہے
اب خبر تو آپ نے پڑھ لی ۔
سوال یہ ہے کہ اسرائیل نے کب پاکستان یا پاکستانیوں سے نفرت کی ہے ۔ بے نظیر بھٹو تک اسرائیلی رہنماؤں سے
رابطے میں رہیں اور پاکستان کے سب سے پہلے وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان بھی اپنے دور میں تل ابیب کے دورے کرتے رہے
اب اگر صدر مشرف اسرائیل وزیر دفاع سے ملے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسرائیل نے پاکستان کو تسلیم کر لیا ہے اور مشرف کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کر لیا ہے نہیں ایسا نہیں ۔ اصل میں صدر مشرف نے اسرائیلی وزیر دفاع سے ملاقات کرکے پاکستان کی جانب سے اسرائیل کے آگے سر تسلیم خم کرلیا ہے اور اسرائیل تو پہلے ہی جانتا ہے کہ مشرف کتنے پانی میں ہیں اور ان کی قائدانہ صلاحتیوں کی نکیل کن کے ہاتھوں میں ہے ۔
ااسرائیل بذات خود تو سبھی اسلامی ملکوں کو تسلیم کرتا ہے ہاں کچھ منافق عرب رہنما اسرائیل کو بظاہر تسلیم تو نہیں کرتے لیکن ان کے وفود ایک دوسرے کے ملک میں آتے جاتے رہتے ہیں ۔ مصر ‘ مراکو ‘ اردون ‘ ترکی’ اور متحدہ عرب امارات کی ریاستیں اس کی زندہ مثال ہیں ۔
اب دیکھنا یہ کہ جب صدر مشرف نے اسرائیلی وزیر دفاع سے ہاتھ ملا ہی لیا تو ” خیر سگالی کا اسرائیلی وفد ” کب اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترتا ہے ۔































محب علوی
نے لکھا؛
January 31, 2008 at 1:33 pm
صدر مشرف کی پیرس میں اسرائیلی وزیر دفاع سے اتفاقیہ ملاقات
دونوں رہنما ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے تھے اور ان میں اتفاقیہ طور پر آمنا سامنا ہوگیا اور جب آمنا سامنا ہو ہی گیا تو پھر رسما ایک دوسرے سے بات چیت کرنی پڑی اور اخلاقیات نبھانی پڑیں۔ اگلے روز صدر صاحب کو مزید اخلاقیات کا خیال آیا اور انہوں نے ایہود بارک کو ملاقات کی اتفاقی دعوت دے دی جو اتفاق سے انہوں نے قبول کر لی۔ یہ اتفاقیہ ملاقات جو دعوت میں بدل گئی وہ ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس اتفاقیہ ملاقات میں ایہود بارک نے اتفاقا ایران کے نیوکلئیر پروگرام کی بات چھیڑ دی اور اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اس کے بعد اتفاقیہ طور پر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے عدم تحفظ پر بھی مسلسل تشویش کا اظہار کرتے رہے جس پر صدر نے انہیں یقین دلایا کہ یہ ہتھیار اتفاقی طور پر بھی کسی کے ہاتھ نہیں لگ سکتے جس پر دونوں نے اتفاق کا اظہار کیا کم از کم صدر صاحب نے تو کیا۔
صدارتی ترجمان نے بتایا ہے کہ صدر مشرف اور اسرائیلی وزیر دفاع میں نہ تو کوئی ملاقات ہوئی اور نہ کوئی اتفاق اور نہ کوئی اتفاقیہ بس دونوں نے کھڑے کھڑے سلام دعا کیا اور اپنی اپنی راہ لی البتہ برا ہو میڈیا کا جس نے یہ سب باتیں پھیلا دی ہیں۔
کانتا نے لکھا؛
January 31, 2008 at 3:25 pm
جناب بات دراصل یہ ہے کہ، صدر صاحب نے کچھ سخت قسم کے بیان دے دئے ہیںامریکہ کے خلاف جو بلکل بھی اچھی بات نہیں ہے، بس اس داغ کو دھونے کے لئے اگر امریکہ کی ناجائز اولاد اسرایئل کو تھوڑا سا خوش کر دیا تو کون سی قیامت ہو گئی ہے۔
بڑے بڑے شہروں میں ایسی چھو ٹی چھوٹی باتیں تو ہوتی رہتی ہیں۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
January 31, 2008 at 4:46 pm
جب سب کچھ اتنا اتفاقیہ تھا تو میرا مشورہ یہ ہے کہ اس خبر کو بھی اتفاقیہ سمجھ کر بھول جاو۔دل پر لینے کی ضرورت ہی نہیں۔
اکمل سد
نے لکھا؛
January 31, 2008 at 5:52 pm
صدر مشرف نے اسرائیلی وزیر دفاع سے ملاقات کرکے پاکستان کی جانب سے اسرائیل کے آگے سر تسلیم خم کرلیا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے بھی تو ہوتا رہا ہے اگر اس بارے میں لکنھے شروع کروں تو کئی پردہ نشیوں اور صاحب ثروت افراد کے نام سامنے آ سکتے ہیں
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
January 31, 2008 at 6:25 pm
محترم محب علوی صاحب‘
محرتمہ کانتا جی ‘ تانیہ صاحبہ اور جناب کمل سید صاحب ۔
میرے بلاگ پر آپ کے تبصرہ کے لیے مشکور و ممنون ہوں ۔
گزارش ہے کہ بات محض اتفاقیہ ملاقات کی نہیں ۔ میں بھی سمجھتا ہوں کہ ایسی مڈبھیڑ ہو ہی جاتی ہے لیکن میں توجہ پاکستان کے نگران وفاقی وزیر کےبیان کے بین السطور مفہوم کی طرف دلانا چاہتا تھا کہ “ اسرائیل نے پاکستان کو تسلیم کرلیا ہے “ اسرائیل نے پاکستان کے وجود کو کب تسلیم نہیں کیاجو پاکستانی وفاقی وزیر اب دعویٰ کر رہے ہیں ؟
کانتا جی‘ کسی کی ناجائز اولاد سے پینگیں بڑھاکر کسی کا دوبارہ پیار پانے سے بہتر نہیں کہ پہلے ہی ہوش میں رہا جائے اور اپنی بساط دیکھ کر بیان بازی کی جائے؟
تانیہ جی آپ کا مشورہ سرآنکھوں پر لیکن یہی اتفاقیہ حادثے ہی تو ہمارے قومی المیے اور سانحے بن جاتے ہیں ۔ خدا ہمیں اپنی پناہ میں رکھے ۔
اکمل سید صاحب ‘ آپ نے بجا فرمایا کہ صدر پرویز مشرف کی اسرائیلی وزیر دفاع سے ملاقات کوئی نئی بات نہیں ‘ اس سے پہلے بھی پاکستانی رہنماؤں کی اسرائیلیوں سے ایسی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ “ نہ صاف چھپنا اور نہ صاف سامنے آنے “ کا یہ عمل پاکستانی قوم کو بیوقوف بنانے کے لیے کب تک جاری رکھا گائے گا؟
میں آپ سے متفق ہوں کہ اسرائیلیوں اور پاکستانیوں کے حکومتی رابطوں سے پردہ ہٹایا جائے تو کئی پردہ نشینوں کے نام سامنے آئیں گے ۔ جی“ کمال سید صاحب ۔ بالکل ٹھیک کہا آپ نے ۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ان پردہ نشینوں کا گھونگھٹ نہ ہی اٹھایا جائے‘ مجھے اس پر آپ سے اتفاق ہے ۔
سعدیہ سحر نے لکھا؛
January 31, 2008 at 7:45 pm
مسٹر مشرف ایسے بھی اپنا پلس پوائنٹ سمجھ رہے ہیں…کے دوست تو دوست دشمن بھی ان کی قائدانہ صلاحیت کا عتراف کر رہے ہیں ں
نگھت نسیم
نے لکھا؛
February 1, 2008 at 9:23 am
سعدیہ بہت دیر کی مہربان آتے آتے ، بس جب آتی ھو دور کی کوڑی لاتی ھو، اب بتاؤ کہ کیا کہوں سواے اس ک کہ
قاتل مصروف ھے نئ پوشاک بدلنے میں
مقتول کے گھر آج تعزیت کو جانا ھے
اعجازخان
نے لکھا؛
February 1, 2008 at 2:16 pm
صاحبان کیوں اپنا خون جلاتے ہیں اور مسائل کیا کم ہیں مغز ماری کے لئے.
ایک تھرڈ کلاس ملک جس کے حکمرانوں کو اتنی بھی غیرت نہیں کہ اپنی عوام بھوکی مررہی ہے اور یہ چلے ہیں دنیا سے اپنی صلاحیتیں منوانے.
تانیہ رحمان نے لکھا؛
February 1, 2008 at 7:17 pm
اعجاز جی اپ کی طرح ھم بے حس نہیں ہو سکتے۔جو شخص اپنے ملک کو جہاں اس نے جنم لیا ھو۔ اسکو تھرڈ کلاس کہہ رہا ہے اس کی سوچ کا ھمیں اندازہ ہو گیاہے۔یہ الفاظ اپ اگر حکمرانوں کے لیے استمال کرتے تو بہتر تھا۔اپنی مٹی اور دھرتی ماں کے لیے کہنا کہیں سے بھی مناسب یا زیب نہیں دیتا۔
سعدیہ سحر نے لکھا؛
February 1, 2008 at 8:02 pm
سلام نگہت شکر ہے میں یاد تو ہوں ورنہ کون کسی کو یاد رکھتا ہے …ہوا کا جھونکا کہاں سے آیا کہاں گیا….
پہلے بہت عام تھے اب ہم خاص ہو گئے
وجود کو پمارے دشمن بھی ماننے لگے ہیں
پہلے ادب سے کیا جاتا تھا زکر ہمارا
اب دہشت گرد لوگ ہیمیں جاننے لگے ہیں
بم بنا رکھا ہے……ہیں پم سپر پاور
بس آٹے کی قلت سے ہارنے لگے ہیں
آویز جرمنی نے لکھا؛
February 3, 2008 at 10:23 pm
پاکستان کا سب سے بڑا اور پہلا دشمن ہمارا پڑوسی ملک ہے ۔ حیرت اس بات کی ہے کہ اس دشمن پڑوسی ملک کے ہم دن رات ان کی فلموں کے گیت گاتے ہیں ، ان کی فلمیں دیکھتے ہیں ، ان کےہیرو اور ہیروین کے ہم شیدائی ہیں ، فیشن، شادی بیاہ کی بے شمار رسومات اور اس کلچر کو دن رات آنکھیں بند کرکے اپنائے ہی جارہے ہیں ۔ بسنت اور ہولی کا تہوار بھی ہمارے میں گھس آیا ہے ۔
اس کے برعکس اسرائیل سے ہماری کیا دشمنی ہے ۔؟۔ سوائے اس سیاسی وجہ کے اسرائیل عربوں کے علاقے پر قبضہ کرکے بیٹھا ہے ۔ جب کہ اسرائیل کی اس حرکت سے اسرائیل خود ایک جنگ اور آگ کے دھانے پر بیٹھا ہے جس کی اپنی اور اس کے عوام کی راتوں کی نیندیں اوڑی ہوئی ہیں ۔جب تک امریکہ طاقت میں ہے اسرائیل کا وجود برقرار ہے ۔ جیسے ہی امریکہ کی طاقت ختم ہوگی اسرائیل سر پر پاؤن رکھ کر خود ہی بھاگ جائے گا۔
جیسے ایران کے صدر احمد نزاد نے کہا کہ اسرائیل جلد ہی اس دنیا کے نقشے سے ختم ہونے والا ہے ۔ اسرائیل ڈوبتے کو تنکے کا سہارا اس کو پاکستان کی سپورٹس کی صرورت ہے کیونکہ پاکستان ایک اٹیمی ملک ہونے کے ناطے اسلامی دنیا میں ایک مقام رکھنے لگا ہے ۔اگر پاکستان اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرلیتا ہے تو باقی مسلم ممالک بھی اس کو تسلیم جلد کر لیں گے۔
اسرائیل کو پاکستان کی اشد ضرورت ہے جیسے ہی پاکستان اسرائیل کو ایک ملک کی حثیت سے تسلیم کرتا ہے تو اسرائیل کا وجود امریکہ کی طاقت کے بغیر بھی قائم رہ سکتا ہے ۔ پاکستان نے سر ہر گز نہیں جھکا یا ۔ اس وقت اسرائیل کو پاکستان کی ضرورت ہے نہ کہ پاکستان کو اسرائیل کی۔
ویسے بھی دنیا اب اتنی چھوٹی ہو چکی ہے اگر امریکہ اور یورپ والے طالبان کے وجود کو تسلیم کرنے کی سوچ رہے ہیں تو ہم کو اسرائیل کا وجود تسلیم کرنے میں حرج ہی کیا ہے ۔اس سے بڑے پڑوسی دشمن کو بھی تو ہم دن رات تسلیم کرہی رہے ہیں ۔