Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

محبت سفر ھے

محبت سفر ھے
محبت سفر ھے
جو رکتا نہیں ٹہرتا نہیں
چلتا رہتے ھے
کسی جھرنے کی طرح کسی ندی کی طرح
کسی ساگر کی طرح
میری محبت شروع ھوئ میری ماں سے
پھر اس سفر میں کئ لوگ شامل ھوتے گئے
میرے بہن بھائ میرے رشتے دار
میرے ددست میرے غمخوار
اتنے لوگو کا قافلہ میرےہمراہ ھوئے
مگر میرے دل میں ایک بے نام سی بےچینی
ایک عجیب سی کسک تھی
نجانے کس کی تلاش تھی
دل میں ایک پیاس تھی
دل بھٹکتا رہا سفر کرتا رہا
کائنات بہیت وسیع ھے
محبت کا دامن اس سے وسیع تر
میری سوچ مالکِ حقیقی کی طرف گئ
تو محبت کا ادراک ھوا
ان بےچینیوں کو قرار آیا
محبت زمین سے شروع ھوتی ھے
بڑھتی ھے پھیلتی ھے
عرشِ معلیٰ تک جاتی ھے
وھی محبت کی اصل منزل ھے
وہی محبت کی انتہا
محبت کی معراج

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

24 تبصرے »

  1. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    February 6, 2008 at 8:27 pm

    سعدیہ سحر صاحبہ اچھی نظم ہے.اس دور میں نفرت کو دفن کرنے اور محبت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے. ایک مسلہ یہ بھی تو ہے کہ ہمارے معاشرے میں لفظ محبت بے حد محدود معانی میں استعمال ہوتا ہے. ہم سب مل کر اس کے معانی و مفہوم کو وسعت دیتے ہیں.
    میرے والد مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی کا شعر ہے
    محبت عقدِ پرویں ہے اسے افلاک میں ڈھونڈو
    محبت کیمیا ہے کربلا کی خاک میں ڈھونڈو

  2. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 6, 2008 at 10:31 pm

    خوبصورت شعر ھمدانی جی …اورنظم کی پسند یدگی کا شکریہ نفرت کی دنیا میں میں نے محبت پہ بہیت لکھا ھے …اور کوئ موضوع دل کو بھاتا نہیں ھے …محبت تو پوری کائنات پہ پھیلی ھوئ ھے…ھزار رنگ ھیں ھر رنگ دوسرے سے بڑھ کر خوبصورت ھے…..

  3. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    February 6, 2008 at 11:28 pm

    مسلسل رات دن چلنا ھے راہٍ عشق میں تنہا
    کسی کے واسطے یہ راہ ،آخر مختصر کیوں ھو

    بہت خوب سعدیہ جی ۔۔۔ ہمارے یقین کا تو یہ عالم ھے کہ۔۔

    میرے عشق کا یہ معیار ھو کہ وصال بھی نا شمار ھو
    اٍس اعتبار پہ ھو کرم کہ فریب میں بھی یقین ھو

  4. علی شاہ نے لکھا؛

    February 6, 2008 at 11:55 pm

    سب ہی کے اشعار قابلِ داد ہیں مگر مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی کے شعر کی تو کیا ہی بات ہے۔

    ھمدانی جی آپ اگر مناسب سمجھیں تو ان کا مذید کلام بھی اپ لوڈ کریں۔

  5. شیخ چلی نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 12:12 am

    خواتین شاعرات کے لیے اپنے دلی جذبات کا اظہار ایک دشوار گذار مرحلہ ہے. ذرا سا بھی میزانِ الفاظ ادھر اُدھر ہوا، اور پروین شاکر جیسا انجام ہوا. تاہم، یا تو کلام موزوں ہوتا ہے یا ناموزوں یعنی نثری ادب. یہ نثری نظم کا شوشہ بھی خوب ہے. نہ ادھر کے رہے، نہ ادھر کے صنم. تاہم عشقِ حقیقی کا سفر تو بعد از مرگ بھی جاری رہتا ہے. یہ تو عشقِ مجازی ہے جو اپنی موت آپ ہی مرجاتاہے. اگرچہ شاعر کہہ گیا ہے، اور اسے مہدی حسن نے اپنی آواز سے زندہ جاوید کردیا ہے، کہ “زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں … میں تو مرکے بھی، میری جان تجھے چاہوں گا”. خاصہ بھیانک خیال ہے، جسے رومانویت کا لباس پہنا کرپیش کردیا گیا ہے. چنانچہ اگر یہ سفر شعر و شاعری اگر موزوں تر ہوجائے تو کیا ہی بات ہو، محترمہ سعدیہ سحر صاحبہ. تاہم کی گئی تعریف سے قطع نظر، کئی الفاظ درستگی چاہتے ہیں، مثلآ لوگو(لوگوں)، (اتنے لوگوں کا قافلہ میرے ہمراہ ہوا) وغیرہ. مشقِ سخن کرتی رہیے، عمدہ خیالات ہیں

  6. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 2:50 am

    سعدیہ سحرکی نظم “ محبت سفر ہے “ اور اس پر آپ سب کے اب تک کے اظہارخیال کے تناظر میں اپنی ایک مختصر کہانی “ تمھیں محبت کرنی چاہیے “ پیش خدمت ہے ۔ آپ سب کےلیے خلوص و احترام کے ساتھ :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمھیں محبت کرنی چاہیے !
    از : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن
    محبت کے متعلق عظیم خوش قسمتیوں سے بھرپور طلسماتی قصے سنائے جاتے ہیں اور بدقسمتیوں سے بھری کہانیاں بھی ۔
    محبت ہر ایک کو شکست دیتی ہے ۔ اور جب لوگ ایسے تلاش کرتے ہیں تو دکھ درد ‘ آہ و فغاں اور زمیں و آسماں کی سبھی مشکلات و دشواریاں اُن کا مقدر بن جاتی ہیں ۔ اوروہ ان سب کے نیچے دب جانے کے باوجود محبت ہی کے متلاشی رہتے ہیں ۔ اُن کی آنکھیں آنسوؤں کے بہتے چشمے بن جاتی ہیں اور اُن کا دکھ درد ان چشموں کے ذریعے باہر بہنے لگتا ہے ۔ لیکن جتنا یہ باہر بہتا ہے اتنا ہی اُن کے اندر مزید بڑھتا رہتا ہے ۔
    محبت انہیں اندھا بنا دیتی ہے کیونکہ کہتے ہیں کہ ’’ محبت خود اندھی ہوتی ہے ۔‘‘
    محبت اندھی ہی تو ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی اندرونی آنکھیں ہمیشہ کھلی ہوتی ہیں ۔ کھلی ہوئی ‘ دیکھنے والی‘ اندھی آنکھیں ۔ ان لوگوں کو دیکھتی ہیں جو محبت کرتے ہیں اور محبت میں اندھے ہو کر کچھ بھی نہیں دیکھتے‘ سوائے محبت کے ! لیکن اندھی محبت ‘ محبت تو نہیں ہوتی ۔یہ تو ایسی محبت ہوتی ہے جیسے ایک لمبی نیند میں محبت نما خواب ۔
    محبت کا انتخاب اور محبت کا خواب دونوں ہی کامیاب تو ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لیے کسی دوسرے کی شدید ضرورت ہوتی ہے ۔ کیونکہ محبت کا آغاز ہی ہمیشہ ’’ دو ‘‘ کے درمیان ہوتا ہے ۔دو اجنبی دنیائیں ‘ خوابوں کی دو مختلف دنیائیں ‘ ایسی دنیائیں جن میں ایک دوسری کے خواب نہیں دیکھ سکتی تو دوسری پہلی کی محبت کے خواب ۔ دکھ درد ‘ آہ و فغان اور زمین و آسمان کی مشکلات و دشواریاں کہاں دکھائی دیتی ہیں اور خوش قسمت محبت کا خواب بھی تو انھیں سے بھرا ہوتا ہے ۔
    ذہن میں اک خوابی محل
    اور اسے سجانے کی خواہش
    ایسے جذبات سے جو کبھی پورے نہ ہوں
    خواہشیں جو کبھی عمل میں نہ آئیں‘ اور
    خواہشیں جن میں کبھی کوئی تبدیلی نہ ہو
    وہ آنسو جو کبھی نہ بہیں
    پیار و دلار جو کسی کے لمس کو ترستا رہے
    کسی کی ناز برداریاں اٹھانے کا خواہاں رہے
    خوبصورتی جسے جلوہ نمائی کا موقعہ نہ ملے‘ اور
    بند دروازے کے پیچھے‘ وہ سرگوشیاں کہ
    کوئی دروازہ نہ کھول دے !
    خوش قسمتی سے بھری محبت کی کہانیاں ‘ محبت کے بارے میں نہیں ہوتیں وہ تو جنگ و جدل‘ لڑائی اور فتوحات و کامرانیوں کی کہانیاں ہوتی ہیں ۔ اور اُن کا انجام ہمیشہ وہیں پر ہوتا ہے جہاں سے محبت کا آغاز ہوتا ہے ۔ اور پھر مفروضی تصورات بڑی تیزی سے پیدا ہونے لگتے ہیں اور انہیں محبت کی بد قسمتی کی بنیاد بنایا جانے لگتا ہے . انہیں لفظوں اور موسیقی کی دھنوں میں ڈھالا جانے لگتا ہے ۔ اور پھر ’ ’ ہم تم ‘ ایک دوسرے سے ‘ پوچھتے رہتے ہیں :
    کیاتمھیں یاد ہے؟
    وہ محل ‘ اور
    وہ طلسمات محبت!
    اور کیا تمھیں یہ شریں صدا سنائی دے رہی ہے کہ ‘
    تمھیں محبت کرنی چاہیے دیکھنے کے لیے
    تمھیں اس لیے نہیں دیکھنا چاہیے کہ محبت کر سکو !

  7. علی شاہ نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 3:01 am

    سعدیہ جی

    محبت اردو والا سفر ہے یا انگلش والا؟

  8. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 3:20 am

    علی میں نے بلاگ پہ بہت بار تمہاری شاعری پڑھی ….کیا بات ھے علی ایک دن تم بہت اپر جاؤ گے
    نگیت عشق میں تنہائ کب ھوتی ھے …..تنہائ میں بھی محفل آباد رہتی ھے …..
    اک تیرا خیال ھے جو مجھے تنہا ھونے نہیں دیتا
    جدا ھو کر بھی مجھے تجھ سےجداھونے نہیں دیتا

  9. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 3:22 am

    علی جو سفر بھی تمیں پسند ھو اردو کا یا انگلش کا ….میں نے اردو کے سفر کی بات کی تھی

  10. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 3:33 am

    شیخ چلی جی میرا خیال ھے محبت کے بارے میں خواتین کے خیالات زیادہ نازک ھوتے ھیں..ان کی شاعری ادھر اُدھر نہیں ھوتی. ….اور جومہدی حسن نے اپنی آواز سے جو جادو جگایا ھے، کہ “زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں … میں تو مرکے بھی، میری جان تجھے چاہوں گا….میرا خیال ھے یہ عشق ِمجازی کے بارے میں ھے
    اور جو آپ نے اردوکی غلطی کا لکھا …..ابھی تک رومن اردو لکھتی رہی ھوں …..صیحیح اردو لکھنے میں کچھ وقت لگے گا اس وقت تک چھوٹی چھوٹی غلطیاں برداشت کریں

  11. تانیا رھمان نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 3:36 am

    مجھے سمجھ نہیں اتی کے محبت میں انساں خوار ھی ھوتا ھے ۔پھر بھی محبت کرتا ھے۔ اس سے تو اچھا ھے کوئی اور نیکی کر لے۔ ضروری ھے کی محبت ھی کرنی ھے۔اور مزے کی بات ۔محبت لوگ کرتے ھے ۔اور سر ھمارا کھاتے ھیں۔جب محبت ہضم نہیں ھوتی تو نہ کرو۔اپ سب کے لے مفت مشورہ یہ ھے ۔جو جو محبت میں گرفتار ھے۔ آج صبح ھونے سے پہلے محبت کو الودع ٹاٹآ خدا حافظ کر دو۔ورنہ بعد میں نا کہنا کہ بتایا نہیں۔

  12. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 3:42 am

    نصر ملک جی آپ کا فلسفہ ء محبت کافی الجھا ھوا ھے ……میری محبت بہت سادا ھے بس محبت کرو بنا سوچے کوئ بدلے میں اتنی محبت دیتا ھے یا نہیں…..اگر کسی سے نفرت ھے تو خاموش ھو جاؤ ….کیا پتا آپ جس کو پسند نہیں کرتے وہ کسی کو جان سے پیارا ھو…..محبت بدلہ نہیں چاہتی ….محبت قربانی نہیں مانگتی …محبت خود قربان ھو جاتی ھے

  13. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 3:47 am

    تانیہ جی صبح ھونے تک کا انتظار کیوں آپ کو ابھی کہہ دیتی ھوں الودع ٹاٹآ خدا حافظ چلو تمیں وداع کیا پھر نہ کہنا کے بتایا نہیں………….

  14. خامہ خیال نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 12:23 pm

    کہا گیا ہے کہ “جو بھی کچھ ہے، محبت کا پھیلاؤ ہے”. اسی سے یہ دنیا قائم ہے. جوش ملیح آبادی نے اپنی کتاب یادوں کی بارات میں دعویٰ کیا ہے کہ فطرت نے اس طرح انسان کو اپنے مقاصد کی خاطر بے وقوف بنایا ہوا ہے، ورنہ نسلِ انسانی برقرار نہ رہ پاتی. جیسا کہ چند ترقی یافتہ ممالک، مثلآ جاپان، میں ہورہا ہے. تعلیم یافتہ خواتین جو شعورِ حقوق کی بلندیوں کی سطح کو چھو چکی ہیں، فطرت کے اس قانون کی خلاف ورزی کررہی ہیں. نتیجہ یہ ہے کہ وہاں شرح پیدائش منفی میں جاچکی ہے. دوسری جانب محبت کے دیگر مظاہر جیسے کہ سائنسی ایجادات، طبی ترقیاں، اور اس جیسی تحریریں وغیرہ، جن میں فطرت کا یہ اصولِ محبت انسان کو زندگی میں بڑھاوا دیتا بظاہر نظر نہیں آتا، نفسیات دانوں کے مطابق اس جد و جہد کے پس منظر میں بھی فطرت کے بنیادی اصول ہی کارفرما ہیں. چنانچہ، محبت کو الوداع جیتے جی نہیں کہا جاسکتا. خوش آمدید، جی آیا نوں، بھلی کری آیا پیار، پریم، پریت، الفت، چاہ، عشق،خلوص، اخلاص، یارانہ، دوستی،لگن، لو، لگاؤ، توجہ، تعلقِ خاطر، میلان، جو چاہےکہہ لیں۔ اس کائنات کا ظہور، اس کی تمام تر رونق، ہمہ ہمی، رنگینی اور رعنائی محبت ہی کے دم سے ہے۔ حتی کہ صوفیوں کی طلب بھی آسمانوں کی نعمتوں کے لیے ہوتی ہے، جن کے بارے میں مزید کچھ کہنا ضروری نہیں

  15. اکمل سد UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    February 7, 2008 at 10:35 pm

    معراج ہے یہ حسن نظر کی اے دوست —– ہم ان کو محبت کا خدا کہتے ہیں

  16. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 8, 2008 at 9:39 pm

    اکمل جی دنیا کا ایک ھی خدا ھے وہی محبت کا بھی خدا ھے …….محبت میں انسان دیوانہ ھو جاتا ھے مگر خدا کا درجہ نہیں دینا چاھیے…..کسی کو حد سے زیادہ چاھو دکھ اسی سے ملتا ھے

  17. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    February 10, 2008 at 3:22 am

    محبت پر تھیسیس کیوں لکھا جا رھا ھے اور کون لکھ رھا ھے جو باقی سب حسب توفیق مدد کر رھے ھیں ۔ ایویں پوچھا کہ اگر مزید معالومات چاھیئے تو میں بھی کچھ کہوں ۔۔۔

  18. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 10, 2008 at 8:22 pm

    نگہت لوگ کہنے لگے تھے دھما کوں پہ بہت لکھا سر بھی بہت ھو گئے …….اب سوچا محبت پہ لکھا جائے ……سب کچھ نہ کچھ لکھ رھے ھیں تم بھی لکھو

  19. روانتی بی بی نے لکھا؛

    February 11, 2008 at 2:31 am

    بہن نگہت نسیم، ہمیشہ خوشبوؤں میں بادِ نسیم کی طرح جیو. سنو، محبت تو خود ایک دھماکہ ہے. خآص طور پر جب وہ معاشرہ کی روایات اور خواہشات کے خلاف ہو. وہ جو ہے نہ، بگ بینگ تھیوری، اور نظریہ ء تخلیق Darwinism Vs. Intelligent Design تو وہ بھٰی خدا کی جانب سے محبت کا ایک نتیجہ اور ایک تحفہ ہی تو ہے…. مسئلہ بس ایک ہی ہے… وہ ہے سرمایہ. خالی جیب

  20. روانتی بی بی نے لکھا؛

    February 11, 2008 at 2:42 am

    ہاں، نگہت، تو سعدیہ کے توسط سے میں یہ کہہ رہی تھی، کہ، خالی پرس اور خالی جیب اظہارِ محبت کی تراکیب کوئی ایجاد کرے تو جانیں. ورنہ محبوب سے یہ ہی ٹکا سا جواب ملے گا، کہ کیوں جان کو آگئے ہو جی… یہ کم بخت بے لاگ بی لاگ سسٹم جو ہے نا، یہ نرا پگلا ہے، کبھی کبھی بہت کچھ لکھوں ہوں، مگر جب اسے وہ پسند نہ آوے ہے تو

  21. روانتی بی بی نے لکھا؛

    February 11, 2008 at 2:44 am

    بوکھلا کر اسے کھا جاوے ہے. اور ننھے سے نسوانی دماغ پر پھر زور دینا پڑے ہے.

  22. نگھت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    February 11, 2008 at 4:32 am

    مجھ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا تھا کہ میں جب بھی نئی قمیض پہنتا ھوں اٰس کی جیب خالی کیوں ھوتی ھے ، جواب ڈونڈھ رھی ھو ابھی تک روانتی جی ، آپ کو کیا ترکیب بتاؤں ، لیکن مل کر سوچنے میں کیا جاتا ھے ۔ کیوں سعدیہ ٹھیک ھے نا ۔

  23. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 11, 2008 at 8:53 pm

    روانتی بہن اگر جیب بھری ھونے سے محبت مل جاتی تو امیر لوگو ں کے پاس محبت ھی محبت ھوتی مگر میں نے دیکھا ھے جن کی جیبیں بھری ھوئ ھوتی ھیں وہ زیادہ تہی داماں ھوتے ھیں….محبت کسی کے دل میں پیسہ دیکھ کر نہیں آتی ….اگر ایسا ھو کبھی تو وہ پیار نہیں ھوگا

  24. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 11, 2008 at 8:56 pm

    نگہت آج تک میں بھی کبھی غور کیا کے میری ھر نیئ قمیض کی جیبیں خالی ھوتی ھیں……اگر جواب ملے تو مجھے بھی بتانا ….روانتی بہن کو پتا ھوگا ..نہیں تو ھمدانی جی جواب دے سکتے ھیں

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو