Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

جہاد اپنوں کی حفاظت کے لیے ھوتا ھے

پاکستان دنیا کا ایک ایسا ملک ھے جسے خدا نے ھر چیز دی ھے .سر سبز وادیاں بلندو بالا پہاڑ
صحرا قدرتی بندرگاہیں بہتے جھرنے زرخیز زمین دریا قدرتی معدنیات ھر نعمت سے نوازا ھے. پاکستان ایشیا کے وسط میں ھے اگر ایشیا کا دل کہا جائے تو بے جا نہیں ھوگا ..
کچھ دن پہلے ایک سائیٹ پر ایک رپورٹ دیکھی جس میں لکھا تھا کچھ سپر پاورز آنے والے سالوں میں دنیا کے نقشے میں تبدیلی چاہتی ھیں جس میں پاکستان کا نام نہیں ھے….
امریکہ اس کی اتحادی فوجیں کویت سعودی عرب عراق افغانستان میں ھیں بحری بیڑے بھی دور نہیں….پاکستان کو عراق اور افغانستان بنانے میں دیر کس بات کی ھے کس نے امریکہ کے قدم روکے ھوئے ھیں اس کی صرف ایک وجہ ھے ..”ایٹم بم ” امریکہ اور یورپیئن ممالک یہ مانتے ھیں مسلمان انتہا پسند ھیں وہ دشمن کو مارنے کے لیے اپنی جان کی پراہ بھی نہیں کرتے ان کو دڑ ھے کہ اگر پاکستان پہ حملہ کیا گیا تو پاکستان ایٹم بم کہیں استعمال نہ کرے….
آجکل یورپئین ممالک اور امریکہ پروپکینڈہ کر رھے ھیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ھاتھوں میں نہیں ھیں اس کو امریکہ یا برطانیہ کو حوالے کردینا چاہئے…..ایک طرف انڈیا ھے ایک طرف امریکہ سر حدوں سے اندر داخل ھو رہا ھے ملک چلانے والے اور قوم سو رہی ھے ..خطرہ سرحدوں کے اندر داخل ھو چکا ھے ملک میں کتنے آتش فشاں پھٹنے کو تیار ھیں……
ُپاکستان نہیں تو ھے کیا ھیں ھے سب کا جذبہ ہ قومیت کہاں سو گیا ھے کہاں ھیں وہ گیت کار نغہ نگار جن کے قومی نغمے دل میں جذبہ ہ قومیت کو جگاتے تھےسوہنی دھرتی اللٰہ رکھے….جیوے جیوے پاکستان….. یہ تیرا پاکستان ھے یہ میرا پاکستان ھے …یہی قومی نغمے سن کے ھے بڑے ھوئے شاید یہی وجہ ھے کہ ھم کہیں بھی ھوں ھمارا دل پاکستان میں ڈھرکتا ھے آجکل کے بچوں سے ھے کیا امیدکر سکتے ھیں جن کا بچپن پھر بھی دل ھے ہندوستانی کی دھن کے ناچتے ھوئے …کم کم دیکھتے ھوئے خود کش حملوں کے خوف کےسائے میں گزرا ..جن کے ماتھے پہ دھشت گرد اور انتہا پسند ھونے کا لیبل لگ چکا ھے
ملا ہ حضرات فرقہ واریت میں پھنسے ھوئے ھیں سیاستدان کرسی کی دوڑ میں لگے ھوئے ھیں اور عوام آٹے کی لائن میں لگے ھوئے ھیں …
پاکستان کی سالمیت کو خطرہ ھے اب بھی اگر علما ہ.اکرام ..سیاستدان اور عوام ھوش میں نہیں آ ہین گے تو کب آیئں گے …..یہ ملک کے حکمرانو ں کا کام ھے کے وہ عوام کو جگائیں ….علماہ اکرام کا کام ھے جہاد ملک سے بایر یا اپنوں کے خلاف نہیں اپنوں کی حفاظت کے لیے ھوتا ھے لوگوں کو بتائیں!!!!!

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

7 تبصرے »

  1. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    February 11, 2008 at 10:26 pm

    باب مدینہ علم حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ بہترین جہاد جہالت کے خلاف ہے اور سب سے اہم ترین اپنے نفس کے خلاف اور تلوار کا جہاد تو کم ترین جہاد ہے

  2. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    February 12, 2008 at 5:41 am

    سعدیہ جی ۔ آداب و سلام ۔
    آپ کے جذبہء حب الوطنی کی داد دیتے ہوئے اپنا ایک شعر آپ کی نذر کرنے کی جسارت کر رہاہوں ۔ گر قبول افتد

    وابستہ جس سے ہو کسی ملا و مفتی کا مفاد
    اُس ملک میں وہ مصلحت شریعت اسلام ہے ۔

    ہمیں اپنے محاسبے کی ضرورت ہے۔ ایٹم بم کی نہیں ۔ لکھتی رہیئے کہ بھی جہاد ہے اور جیسا کہ صفدر بھائی نے کہا یہی جہاد اکبر ہے ۔ وسلام

  3. :) روانتی بی بی :) نے لکھا؛

    February 12, 2008 at 1:49 pm

    پیاری اور نیک سعدیہ سحر جیتی رہو، خوش رہو. اچھی تحریر ہے. سنو ہمارے معاشرہ میں منافقت کا دور دورہ ہے. موجودہ دور میں مناسب رہنما موجود نہیں. جو ہیں ان میں سے اکثر اپنے قول و فعل سے ہی پہچانے جاتے ہیں. لکھنے والوں کو قارئین میسر نہیں. الفاظ میں اب وہ اثر نہیں رہا، جو کبھی ہوا کرتا تھا. اور سنو، وہ جو برنارڈ شاء نے کہا تھا نا، کہ اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی ہی اصلاح کرلے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا سے کم از کم ایک شیطان تو کم ہوا! :)

  4. روانتی بی بی نے لکھا؛

    February 12, 2008 at 6:48 pm

    پیاری اور نیک سعدیہ سحر جیتی رہو، خوش رہو. اچھی تحریر ہے. سنو ہمارے معاشرہ میں منافقت کا دور دورہ ہے. موجودہ دور میں مناسب رہنما موجود نہیں. جو ہیں ان میں سے اکثر اپنے قول و فعل کے تضاد سے ہی پہچانے جاتے ہیں. لکھنے والوں کو قارئین میسر نہیں. الفاظ میں اب وہ اثر نہیں رہا، جو کبھی ہوا کرتا تھا. اور سنو، وہ جو برنارڈ شاء نے کہا تھا نا، کہ اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی ہی اصلاح کرلے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا سے کم از کم ایک شیطان تو کم ہوا! :) …..

  5. محب علوی PAKISTAN نے لکھا؛

    February 14, 2008 at 2:30 pm

    اچھا لکھا ہے آپ نے اور دل سے لکھا ہے اور یہ بات بھی آپ کی بہت غور طلب ہے کہ آج کے بچوں کو ملی نغمات نہ سنائے جاتے ہیں نہ پڑھائے جاتے ہیں تو ان میں اپنے وطن کے لیے محبت کہاں سے پیدا ہوگی. پاکستان ہے تو ہم سب آزادی سے زندگیاں بھی بسر کر رہے ہیں اور لکھ بھی رہے ہیں اگر اسے کچھ ہوا تو ہم کہیں کے بھی نہ رہیں گے.

    امریکی میڈیا کا یہ شور کہ ہمارے ایٹمی ہتھیار محفوظ نہیں فقط اپنے سامراجی مقاصد کی تکمیل کا ایک

  6. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 14, 2008 at 8:58 pm

    جب ھم حق پہ ھوں تو پھر ڈرتے کیوں ھیں…ایران بھی ھے وہ کیا ھیں کیا وہ پاکستان سے زیادہ مضبوط مملکت ھے امریکہ نے امداد بند کو دی..مگر وہ سر اٹھا کر بات کرتے ھیں…مگر پاکستان کو امداد نہ دینے کی دھمکی دی جائے تو حکمرانوں کی جان نکل جاتی ھے آخر کیوں …ھم کوئ ایسی پالیسی کیوں نہیں اپناتے..کہ آنئدہ کچھ سالوں میں ھم اپنے پاؤں پہ کھڑے ھو جائیں

  7. تانیا نے لکھا؛

    February 14, 2008 at 9:31 pm

    سعدیہ میں تو سمجھتی تھی. کہ ھم اپنے پاوں پر کھڑے ھیں. اچھا ھوا پتا چل گیا. کہ پاوں کم از کم ھمارے نہیں ھیں..اور ھاتھ.

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو