سنہرے خواب دیکھانے والے
آج کل پاکستان میں خوبصورت وعدے کیے جا رھے ھیں سہانے مستقبل کی باتیں ……خوشحالی کی باتیں ….امیر غریب کے فرق کو ختم کرنے کے وعدے….نہت سے ترقیاتی پروگرام بن رھے ھیں..جو بھی ملک کو مسائل درپیش ھیں ان کو ختم کرنے کے ارادے….سن کے دل خوش ھو جاتا ھے کہ ویسا ھی پاکستان بن جائے گا جیسا قائدِ اعظم نے ھزاروں لاکھوں جان و مال کی قربانی دینے والے لوگوں نے سوچا تھا…..قائدِ اعظم کا روشن اور خوشحال پاکستان امن و سلامتی کا گہوارا..جہاں بھائ چارہ ھو ..کوئ سندھی پٹھان پنجابی یا بلوچی نا ھو نہ شعیہ سنی بن کے سوچے بلکہ سب پاکستانی ھوں اور پاکستان کے لیے پاکستانی بن کے سوچیں ..ایسے پاکستان کے لیے ھہمارے بزرگوں نے اپنی جانوں مالوں کی قربانیاں دی تھیں اپنی اولادوں کی قربانیاں دے کر جب پاکستان ائے تھے تو انھوں نے سجدے کیے تھے اس مٹی کو چوما تھا..آجکل سب کے بیان سن کے دل سے دعا نکلتی ھے یہ ارادے چٹان کی طرح مضبوط ھوں کاش یہ وعدے صرف وعدے نہ ھوں یہ سہانے سپنے سپنے بن کر نہ رہ جائیًں بلکہ دنیا کے سامنے حقیقت بن کر آئیں …..آمین
مگر ایک بات جو میں سوچ رہی ھوں ابھی تک کسی بھی پارٹی نے اپنا کوئ بھی لائحہ عمل کوئ منشور پیش نہیں کیا ان کے کیا پروگرام ھیں جن سے پتا چلے وہ جو وعدے کر رھے ھیں ان کو کیسے پورا کریں گے کیا ان کی حکومت آتے ھی ملک جو ھزاروں مسآئل میں گھرا ھوا ھے وہ اپنے آپ ھی ختم ھو جائیں گے …ملک پہ قرضوں کا بوجھ ھے اپنے آپ دور ھو جائے گا…ملکی خزانے اپنے آپ بھر جائیں گے…سب پارٹیز کے پاس کونسے پروگرام ھیں جن کی مدد سے ملکی مسائل کو حل کریں گے اپنے وسائل کو بڑھانے کے لیے کیے کریں گے …
ترقی یافتہ ممالک میں ھر پارٹی کا اپنا پروگرام ھوتا ھے ملک کو کون سے مسائل کا سامنہ ھے …ان کو کیسے حل کریں گے . ملک کے پاس کتنے وسائل ھیں وہ اپنے وسائل کیسے بڑھائیں گے …عوام کے ساتھ اخباری ریپوٹرز کے ساتھ میٹینگز ھوتی ھیں پورا پورا سال انتخابی مہم چلائ جاتی ھیں .عوام کو سوچنے کا امید واروں کو پرکھنےکا وقت ملتاھے جو پارٹی اقدار میں آتی ھے اگر وہ اپنے وعدے پورے نہیں کر سکتی تو شرافت سے اپنی ہار مان کر دوسری پارٹی کو چانس دیتی ھے کیونکہ ان کو ملکی مفاد عزیز ھوتا ھے عوام کی نظر میں عزت چاھے ھوتی ھے ترقی یافتہ ملک میں کبھی ایسا ھوا ھے کے سابقہ حکمران منہ چھپا کے کسی اور ملک میں بھاگ جائے ..پاکستان میں ھر آنے والی پارٹی ایماندار اور جانے والی بے ایمان ھوتی ھے….امریکہ میں صدرجیمی کارٹر صدر ریگن صدر بش صدر کلنٹن اور کاکا بش حیات تھے .. کبھی کسی نے پہیہ جام ھڑتال نہیں کی کوئ تحریک نہیں چلائ بلکہ ھر سابقہ صدر امریکہ کا سفیر ھوتا ھے…ھمارے لیڈرز ایک دوسرے پہ الزام تراشی میں مصروف رہتے ھیں …وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ صرف پارٹی کے ہی نہیں پورے پاکستان کے لیڈر ھیں….کاش ھمارے لیڈرز یہ بات سمجھ سکیں جبر سے کی گئ ھزار سال کی حکمرانی سے دلوں پہ کی گئ چند سال کی حکمرانی زیادہ اچھی ھے …کاش کے ھمارے حکمران یہ سمجھ سکیں………….اے کاش































نگہت نسیم
نے لکھا؛
February 16, 2008 at 4:26 am
سعدیہ سنو ایک بات ۔۔ تمھاری سیاسی بصیرت سے متاثر ھو کر صفدر جی اور ہارون نے مل کر ایک الیکشن کی سائٹ بنائی ھے وھاں پر تمھاری ضرورت پہلی فرصت میں ھے جہاں تجزیے اور تبصریں ھو نگے ۔ میں قاصر ھوں کچھ بھی کہنے سے تمھارے سامنے سوائے اس بات کے کہ تم سے کس نے کہا کہ حکمرانوں کے دل ھوتے ھیں ۔۔۔۔؟؟
تانیہ رحمان نے لکھا؛
February 16, 2008 at 7:10 pm
سعدیہ عوام کو جاگ جانا چاہیے .اب بھی کچھ نہیں ھوا.کیوں سپنوں کی دینا میں سو رہیے ھیں
سعدیہ سحر نے لکھا؛
February 16, 2008 at 8:37 pm
نگہت تم نے مجھے شرمندہ کر دیا …میں سیاست کے بارے میں کچھ نہیں جانتی مگر خبریں دیکھ کر جو سوچتی ھوں جودل سے محسوس کرتی ھوں وہ لکھ کر دل کا بوجھ ہلکا کر لیتی ھوں …چاھے کوئ میری سوچ ..میرے نقطہ نظر سے اتفاق کرے یا نہ کرے….کوئ تعریف کرے یا برائ..دل کی بات کہہ دینی چاھئے
اور نگہت سیاستدانوں کے دل ایک عام انسان سے بہت بڑے ھوتے ھیں 5 سال ملکی خزانے کو کھاتے ھیں پھر بھی دل نہیں بھرتا چاھتے ھیں مذید 5 سال مل جائیں …..بلکہ جونک کی طرح کرسی سے چپک جاتے ھیں….