ابھی دیر نہیں ھوئی
ابھی دیر نہیں ھوئی
ابھی سانسیں چل رھی ھیں
ابھی جسم میں جان باقی ھے
منزلیں اپنی جگہ ھیں
ھمیں اپنے راستے چننے ھیں
جو ھمیں منزل تک لے جائیں
کبھی بھی کوئ غلط راستہ منزل تک نہیں
غلط سمت چلنے سے پاؤں زخمی ھو سکتے ھیں
ًًمنزل نہیں پا سکتے
سوچو
سمجھو
اور دیکھو
ھماری منزل کیا ھے
ھمارا راستہ کیا ھے
ھمارا کوئ رہبر کوئ رہنما نہیں
ھمیں خود اپنا رہنما بننا ھے
سہاروں کی تلاش چھوڑو
اس سے پہلے کہ زندگی کا چاند ڈوب جائے
آنکھوں میں جلتے دیپ بجھ جائیں
لوگ امید کا ساتھ چھوڑ دیں
ھوش میں آؤ
نیند سے جاگو
غفلت کی نیند بھی ایک موت ھے































خامہ خیال نے لکھا؛
February 17, 2008 at 10:15 pm
سعدیہ، بہت خوب. ماشااللہ. مگر ہم بھی تنقید کی عادت سے باز نہیں آتے. ذرا لائن نمبر 7 کو دوبارہ دیکھو، اور ضرورت ہو تو درست کرو.
سعدیہ سحر نے لکھا؛
February 17, 2008 at 10:20 pm
شکریہ خام خیالی جی……..
پتا نہیں کیسی یہ لائین رہ گئی
تصحیح کر لیں
کبھی بھی کوئ غلط راستہ منزل تک نہیں لے جاتا
صفدر ہمدانی نے لکھا؛
February 18, 2008 at 2:45 am
سعدیہ جی آپ نے ہمیشہ کی طرح بیدار فکر کا مظاہرہ کیا ہے. قلم کی حرمت کا خیال رکھنے والے اسی لہجے میں گفتگو کرتے ہیں. Keep it up
علی شاہ نے لکھا؛
February 18, 2008 at 2:55 am
بہت خوب
سعدیہ سحر نے لکھا؛
February 23, 2008 at 8:16 pm
ھمدانی جی حوصلہ افزائ کا شکریہ ……کوشش کرتی ھوں جو بات دل سے محسوس کروں اس کو ویسا ھی لکھوں ..اور.شکریہ علی
سماف نے لکھا؛
March 9, 2008 at 3:29 am
اچھی نظم ہے