پاکستان : حکومت ساری اور امریکی مداخلت
جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حکومت سازی کے عمل میں امریکی مداخلت ختم ہونی چاہیئے۔قاضی حسین احمد نےمزید کہا کہ وہ امریکی نمائندوں کی جانب سے سیاستدانوں کے ساتھ ملاقاتوں کی مذمت کرتے ہیں۔
قاضی صاحب جب بھی لاتے ہیں بہت دور کی لاتے ہیں ۔ انھوں نے امریکی سفارتی نمائیندوں کی جانب سے پاکستانی سیاسی رہنماؤں کیساتھ ملاقاتوں کی تو مذمت کی ہے لیکن انھیں یہ توفیق یا حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ اُن پاکستانی سیاتدانوں کی بھی مذمت کریں جو نہ صرف اسلام آباد میں امریکی بلکہ برطانوی سفارتکاروں سے بھی پاکستان میں حکومت سازی کے موضوع پر ملاقاتیں کر رہے ہیں اور بڑا فخر محسوس کرتے ہوئے کہ رہے ہیں کہ ان کیساتھ آج فلاں امریکی و فلاں برطانوی سفارتی نمائیندے کی ملاقات ہوئی ہے ۔
کیا یہی سیاستدان‘ انتخابات سے پہلے یہ بیانات نہیں دیتے رہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کریں گے اور کیا انتخابات کے دوران رائے دھندگان نے خود یہ فیصلہ نہیں دے دیا کہ وہ پاکستانی سیاست میں نہ امریکہ کی بالا دستی قبول کریں اور نہ ہی انھیں امریکہ و برطانیہ کے حواری سابق جنرل ‘ صدر پرویز مشرف کی کوئی ضرورت ہے ۔ پاکستانی سیاستدانوں اور خاص کر میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی امریکی و برطانوی سفارتکاروں سے ملاقاتوں کاآخر جواز کیا ہے اور کیا قاضی حسین احمد ‘ مولانا فضل الرحمٰن ‘ عمران خان اور اعتزاز احسن وغیران کو ایسے سیاستدانوں کی مذمت نہیں کرنی چاہیے جو عوام کے منڈیٹ کو ایکبار پھر امریکی تسلط میں دینے کے لیے امریکیوں سے سودے بازی کر رہے ہیں ؟































محمد اعجاز الحق
نے لکھا؛
February 25, 2008 at 10:40 am
جناب قاضی صاحب کی بات ایک طرف، آج کل ویسے ہی امریکہ سب پر اپنا دبائو ڈال رہا ہے۔اس دبائو کا ایک حصہ دس ارب ڈالر کی صورت میں مشرف کو مل چکا ہے۔ اور اتنا ہی شائد زرداری پر بھی ہے کہ وہ نواز شریف کو حکومت کا حصہ نہ بنائیں۔
یہ سزا ہے ان ایٹمی دھماکوں کی جو نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں کئے۔ زرداری اور دوسری جماعتوں پر یہ بھی دبائو بلکہ دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر نواز لیگ کو شامل کر کے حکومت سازی کی گئی تو یہ اسمبلیاں جلد توڑ دی جائیں گی۔
لگتا ہے امریکہ “ماما“ بن گیا ہے مشرف کا۔ اوپر سے بارک اوباما بھی دھمکیاں دے رہا ہے۔
ان امریکیوں کا حشر بہت برا ہوگا جو قریب ہے، جو سب دیکھیں گے۔
صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
February 25, 2008 at 8:42 pm
مسلہ یہ نہیں کہ امریکیوں کا حشر کب برا ہو گا اور کب تک ہم دیکھیں گے،مسلہ تو یہ ہے کہ ابھی تو ہمارا اپنا حشر خراب ہے اور حتی المقدور ہماری ہر ایک سیاسی جماعت نے بشمول ریٹائرڈ جنرل مشرف کے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہوا ہے. قاضی سے لیکر ملزم تک سب ننگے ہیں اس سیاسی حمام میں.
نگہت نسیم
نے لکھا؛
February 27, 2008 at 7:47 am
نصر جی ابھی تو ھماری نو منتخب نمایئندے صرف وعدوں کے راگ کا “ساز “ بجا رھے ھیں ، پٰرسوزی “ اور “دل سوزی“ کے عملی حکومتی “ساز “ میں کچھ وقت لگے گا ۔۔۔ کتنا ۔۔یہ کہنا کیا۔۔ بس اب تو دیکھنا ھے کہ اس سفر میں کہی اسمبلیاں ٹوٹنے کا جانا پہچانا “دھمکی ساز “ نا بج جائے ، رب خیر کرے ۔۔۔
سمجھوتہ
نے لکھا؛
February 27, 2008 at 12:28 pm
امریکہ کی طرف سب نظریں ہیں! اللہ خیر کرے۔