مسلم امہ کا امریکہ سے شکوہ
دوستوں ایک خوبصورت نظم جو اپ سب کو بھی یقیناَ پسند آ ئے گی ۔
میرے بھائی افتاب احمد نے آسٹریلیا سے بیجھی ۔( کسی کی ھے۔١)
مسلم امہ کا امریکہ سے شکوہ
کیوں گہنگار بنو۔ ویزہ فراموش رہوں
کب تلک خوف زدہ صورت خرگوش رہوں
وقت کا یہ بھی تقاضا ھے کہ خاموش رہوں
ہمحوا میں کوئی مجرم ھوں کہ روپوش رہوں
شکوہ امریکہ سے خاکم بدہن ھے مجھ کو
چونکہ اس ملک کا صحرابھی چمن ھے مجھ کو
گر ترئے شہر میں آئے ھیں تو معزور ھیں ھم
وقت کا بوجھ اٹھائے ھوئے مزدور ھیں ھم
ایک ھی جاب پر مدت سے بدستور ھیں ھم
بش سے نزدیک مشرف سے بہت دور ھیں ھم
یو ایس اے شکوہ ءارباب وفا بھی سن لے
اب توصیف سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
تیرے پرچم کو سرِعرش اڑایا کس نے؟
تیرے قانون کو سینے سے لگایا کس نے؟
ہر سینٹیر کو الیکشن میں جتایا کس نے؟
فنڈ ریزنگ کی محافل کو سجایا کس نے؟
ہیلری سے کبھی پوچھو کبھی چک شومر سے
ہر سینیٹر کو نوازا ھے۔ یہاں ڈالر سے
جیکسن ہایٹس کی گلوں کو بیسایا ھم نے
کوئی آئی لینڈ کی زینت کو بڑھایا ھم نے
گوریوں ہی سے نہیں عشق لڑایا ھم نے
کالیوں سے بھی یہاں عقد رچایا ھم نے
آکے اس ملک میں رشتے ھی فقط جوڑے ھیں
بم تو کیا ھم نے پٹاخے بھی نہیں چھوڑے ھیں
جب برا وقت پڑا ھم نے سنبھالی مسجد
کب تلک رہتی مسلمان سے خالی مسجد
جب ھوئی گھر سے بہت دور بلالی مسجد
ھم نے تہہ خانے میں چھوٹی سی بنالی مسجد
ھم نے کیا جوم کیا اپنی عبادت کے لیے
صرف میلاد کیا جشنِ ولادت کے لیے































علی شاہ نے لکھا؛
February 26, 2008 at 10:46 pm
واہ اقبال کی زمین پر کی ہوئ شاعری حقیقت میں مسلم امہ کی آواز ہے
صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
February 26, 2008 at 11:14 pm
اگنے کو اب نہیں ہے یہاں پر ببول بھی
اقبال کی زمین پہ وہ ہل چلا دیا
زرقا مفتی نے لکھا؛
February 27, 2008 at 12:16 am
اچھی کوشش ہے
شکریہ تانیہ صاحبہ
نگہت نسیم
نے لکھا؛
February 27, 2008 at 7:23 am
عمدہ کوششں
سمجھوتہ
نے لکھا؛
February 27, 2008 at 9:11 am
آئینہ ہے جس میں پوری امت مسلمہ دکھا دی ہے۔کل کا مسلمان جسے رب مانتا تھا اقبال نے شکوہ اسکی بارگاہ میں سنا دیا اور آج کا بندہ جسے رب مان رہا ہے، شکوہ اسی کی بارگاہ میں کیا گیا ہے۔شاید قبال ہوتے تو وہ بھی اسی کی تائید کرتے۔ بہر کیف قبال ایک مشعل راہ ہے جس سے بہت کچھ سیکھنے کی ہمیں ضرورت ہے اور یہ اسی کا ایک پرتو ہے۔