Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

نیکی

کچھ لوگ ہیں جو اس ملک کو برا کہہ کر ہی سکون پاتے ہیں ۔ ایسے لوگ صرف پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔ دنیا کی کوئی قوم بھی ایسی نہیں ہے جو ایسے لوگوں کو اپنے درمیان پائے اور انہیں برداشت کرتی رہے۔ جنہیں اس قوم پر غصہ آتا ہے ، ان کا احترام کرو ، ان کے سامنے محبت اور عقیدت سے گردنیں جھکاؤ مگر جو برائی کرنا اور پاکستان کی تحریک کو طعنے دینا چاہتے ہیں ، انہیں نمک حرام اور غدار جانو کہ بروں کو برا کہنا اور سمجھنا بھی نیکی ہے۔

( جون ایلیا ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

9 تبصرے »

  1. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    February 26, 2008 at 11:17 pm

    مملکت اور حکومت میں فرق محل نظر رکھنا چاہیئے.حکومت پر تنقید یا اسے برا کہنے کا مطلب مملکت ہرگز نہیں ہے. حکومت پر تنقید ہر رائے دہندہ کا حق ہے جمہوری معاشرے میں. ہاں اس سے کُلی اتفاق ہے کہ” بروں کو برا کہنا اور سمجھنا بھی نیکی ہے”.

  2. زبیر خان PAKISTAN نے لکھا؛

    February 27, 2008 at 2:53 am

    جو صفدرہمدانی نے لکھا ہے میں اسے اتفاف کرتا ہوں

  3. آویز جرمنی نے لکھا؛

    February 27, 2008 at 4:31 am

    میرا خیال ہے علوی صاحب پاکستان کی سٹیبلیشمنٹ میں کام کرتے ہیں ۔
    کس کے آگے گردنیں جھکائیں ؟ نواز شریف یا مسٹر 10٪ کے آگے۔
    ان کو کیا معلوم عوام کو کیا کیا پریشانیاں ہیں ۔؟
    اگر کوئی پاکستان کی برائی کرتا ہے تو اس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہی ہے کہ وہاں کا نظام سسٹم۔ کرپٹ ادارے۔ رشوت۔کرائم وغیرہ ہیں ۔
    صفدر ہمدانی نے ٹھیک ہی لکھا ہے ۔

  4. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    February 27, 2008 at 7:31 am

    محب جی ایک طرف آپ کہہ رھے ھیں کہ ھمیں برے کو برا کہنا چاھیئے اور دوسری طرف بروں کے آگے سر بھی جھکانے کو کہہ رھے ھیں ، میرا خیال ھے کہ کہی کوئی غلطی ضرور ھے یا تو ھم سب آپ کی بات سمجھ نہیں سکے یا پھر آپ سمجھا نہیں سکے ۔

  5. سمجھوتہ AUSTRALIA نے لکھا؛

    February 27, 2008 at 12:21 pm

    نگہت صاحبہ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ کمینیکیشن گیپ بہت بڑا نظر آ رہا ہے۔ کیونکہ تحریک پاکستان کا ذکر اور جون ایلیا کا نام بتاتے ہیں کہ شاید بات حکومت کی نہیں، اور اگر بات حکومت کی ہے تو پھر علوی صاحب کھل کر نہیں کہ پائے۔

  6. محب علوی PAKISTAN نے لکھا؛

    February 27, 2008 at 2:07 pm

    سب سے پہلے تو سب کا شکریہ کہ انہوں نے اس پر توجہ دی اور میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا میں نے فقط جون ایلیا کا ایک اقتباس پیش کیا. اب میں اپنا نکتہ نظر پیش کر دیتا ہوں.

    حکومت پر تنقید جیسا کہ صفدر ہمدانی صاحب نے کہا کہ اور چیز ہے اور ملک پر تنقید اور ہے جیسا کہ عام طور پر لوگ حکومت یا نظام کو برا کہنے کی بجائے براہ راست پاکستان اور اس کے بننے کے عمل کو ہی برا کہنے لگتے ہیں اور انگریزوں کی غلامی کے دور کو آہوں کے ساتھ یاد کرنے لگتے ہیں یا دوسرے ممالک اور قوموں کی نسبت سے پاکستان اور پوری قوم کو برا بھلا کہتے ہیں جون ایلیا نے بھی ایسے لوگوں کو برا کہا ہے اور میں بھی اس سے ہی اتفاق کرتا ہوں کہ حکومت یا نظام کو برا کہنا چاہیے مگر اس برا کہنے میں کچھ لوگ اس حد تک نکل جاتے ہیں کہ خود قوم میں سے ہو کر بھی قوم کو برا کہنے سے باز نہیں آتے اور ان کے خیال میں اس قوم کا کچھ نہیں ہو سکتا اور وہ بیرونی دنیا کو بہت اچھا اور بہترین سمجھتے ہیں اور خود سے انتہائی مایوس رہتے ہیں اور نتیجہ یہ کہ وہ قوم میں مایوسی اور بددلی اور غلامانہ ذہنیت پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں. اپنے ملک اور قوم سے محبت کرنا تو انسانی فطرت ہے اور جو فطرت کے خلاف کرے اسے برا کہنا اور سمجھنا ایک نیکی ہے . امید ہے اب میری بات واضح ہو گئی ہوگی.

  7. خاور کھوکھر JAPAN نے لکھا؛

    February 27, 2008 at 2:51 pm

    جنہیں اس قوم پر غصه آتا ہے ان کا احترام کرو !!ـ
    اور
    جو پاکستان کو برا کہے اس کو غدار جانو ـ
    اس بات میں بڑی رمز ہے
    جون ایلیا کی اس بات کو کتنے پڑهنے والوں نے باریکی کے ساتھ لیا هوگا ؟؟

    جو پاکستانی قوم پر اعتراض کرتا ہے یا ان کی بری عادات کی نشاندهی کرتا ہے
    وه اس قوم کے سنورنے کی خواهش رکھتا ہے اس لیے ایسا کرتا ہے
    ایسے بندے کی اچهی نیت کو سلام

    اور جو پاکستان کو برا کہتا هے یا اس کے قیام کو غلط کہتا ہے وه
    صرف اور صرف بغض کا مارا ہے اور ایسے بندے کا کوئی علاج نہیں
    ایسا بندھ ہم میں سے نہیں ہے
    وه کوئی غیر هی هوسکتا ہے ـ

  8. محب علوی PAKISTAN نے لکھا؛

    February 27, 2008 at 5:43 pm

    بہت شکریہ خاور ان معنوں کو سمجھنے کا جس کے تحت یہ پوسٹ شائع کی گئی.

  9. اکمل سد UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    February 27, 2008 at 6:40 pm

    دانستہ جس اس باب میں خاموش ہے دنیا
    اف کس قدر احسان فراموش ہے دنیا

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو