Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

مشرف محب ِوطن ھیں

مشرف پیچھلے آٹھ سال سے ملک کی خدمت کر رھے ھیں دل میں اور خدمت کا جذبہ ھے وہ چاھتے ھیں وہ مذید پانچ سال خدمت کریں جس طرح ان کے دورِ حکومت میں پاکستان نے ترقی کی مذید ترقی کرے ..ان کے دورِ حکومت میں ھونے والی ترقی کا اندازہ آس سے کر سکتے ھیں16 کروڑ عوام میں سے 8 کروڑ لوگوں کے پاس سیل فون ھیں پورے ملک میں انٹر نٹ کا جال بیچھا دیا…آٹا پاکستان میں سب سے سستا ھے وہ اور بات ھے کے دستیاب نہیں اور جو چیز نایاب ھو وہ مہنگی ھو ھی جاتی ھے مگر عوام سمجھتے ھی نہیں
امریکہ مشرف صاحب کا اصل قدردان ھے اور مشرف صاحب بھی ان کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنا چاھتے ھیں……..جب دلوں میں اتنی محبت ھے تو دوری کس لیے اگر صدرمشرف
امریکہ چلے جائیں تو کیا حرج ھے وہ بھی خوش اور امریکہ بھی خوش……
مگر نشہ جو بھی ھو برا ھوتا ھے طاقت کا نشہ بھی برا نشہ ھے ….ایوب خان کے خلاف لوگ ھو رہے تھے کابینہ بھی…. ان میں شرم تھی انھوں نے عہدہ چھوڑ دیا.. ضیاء الحق آئے 90 دن کے لیے مگر 90 دن کئ سالوں پہ محیط ھوتے چلے گئے اگر زندگی ان کو محلت دیتی اور ان کا ساتھ دیتی تو وہ 90 سال تک عوام کی خدمت کرتے …….صدارت کی کرسی میں کششِ ثقل سے زیادہ کشش ھے …کششِ ثقل اپنی طرف چیزوں کو کھینتی ھے اور صدارت کی کرسی اٹھنے نہیں دیتی ….اس کرسی سے جب بھی اٹھایا عوام نے زبردستی اٹھایا ھے یا خدا نے اٹھایا ھے….اب یہ مشرف صاحب پہ ھے وہ عوام کے کہنے سے جائیں گے یا پھر ………!!!!!!
یہ اب ان پہ ھے اگرسمجھ سکیں تو اتنا بھی بہت ھے

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

13 تبصرے »

  1. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    February 27, 2008 at 7:34 am

    سعدیہ کیا سعد مشورہ ھے صدر مشرف کو ، جی خوش کر دیا

  2. اکمل سد UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    February 27, 2008 at 6:47 pm

    چڑھتے ہوئے سورھ کی پرستار سیاست
    وہ ظالم و جابر کی طرفدار سیاسیت
    عیار دماغوں کی دل آزار سیاست
    وہ مصلحت وقت کی مکار سیاست
    دنیا کو تباہی کی طرف کھنچ کے لائی
    اسلام کو شاہی کی طرف کھنچ کے لائی

  3. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 28, 2008 at 1:42 am

    نگہت تمہیں تو میرا مشورہ سعد لگا …جنرل مشرف کو بھی لگے توتب ھے نا

  4. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    February 28, 2008 at 1:48 am

    اکمل جی پاکسان میں سیاستدان کہاں ھیں سب لوٹے ھیں … جہان مطلب ھوا لڑھک گئے….

  5. مسافر BAHRAIN نے لکھا؛

    February 29, 2008 at 3:48 pm

    اور ھے کیا سیاست؟ جتنا آچھا لوٹا اُتنا ھی کامیاب وہ سیاستدان۔

  6. جاویدگیلانی SAUDI ARABIA نے لکھا؛

    March 1, 2008 at 7:01 pm

    سعدیہ جی ۔ پرزیڈنٹ ھاؤس سے کرسی ھی ھٹا دینی چاھئے ۔ آئندہ آنے والے صدور کو کھڑ ا ھی رکھنا چاھئے ۔

  7. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    March 1, 2008 at 8:45 pm

    مسافر جی اس کا مطلب ھے جو بھی سیاستدان مشہور ھیں سب لوٹے ھیں… لوٹوں کا زمانہ کب ختم ھوگا

  8. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    March 1, 2008 at 8:50 pm

    جاوید جی پاکستان کی تاریخ میں کچھ ایسے بھی صدر گزرے ھیں جن کو صدارت کی کرسی پہ بیٹھنے کا موقع بھی نہیں ملا اور پریذیڈنٹ ھاؤس چھوڑنا پڑا اور جو بیٹھ

  9. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    March 1, 2008 at 8:52 pm

    جاوید جی پاکستان کی تاریخ میں کچھ ایسے بھی صدر گزرے ھیں جن کو صدارت کی کرسی پہ بیٹھنے کا موقع بھی نہیں ملا اور پریذیڈنٹ ھاؤس چھوڑنا پڑا اور جو بیٹھا وہ بیٹھا ھی رہ گیا آپ کا آئیڈیا برا نہیں

  10. سایرہ بتول،لند ن UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    March 1, 2008 at 10:35 pm

    جنرل صاحب وردی کو اپنے بدن کی کھال کہتے تھے وہ تو اتروا لی گئ اب کرسی خود ھی چھوڑ دیں تو بہتر ھے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  11. آویز جرمنی نے لکھا؛

    March 1, 2008 at 11:43 pm

    میں جب کسی بلاگرز پر تبصرہ لکھتا ہوں ۔ تو اکثر ہوتا ہے کہ دوست حضرات بلاگرز کے تبصرہ کو چھوڑ کر میرے پر تنقید اور تبصرہ کرنے لگ جاتے ہیں ۔
    میرے خیال میں مشرف کوہٹانا میرا اور آپ کا کام نہیں رہا ؟
    مشرف کو ہٹانا نئی پارلیمنٹ کا کام ہے ۔ اگر آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاستدان لوٹے ہیں
    لڑھک جاتے ہیں ؟ تو پھر مشرف کو نئی پارلیمنٹ بھی نہیں ہٹا سکتی۔

  12. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    March 2, 2008 at 12:58 am

    آویز جی مشرف کو ھٹانا نا میرا کام ھے نہ آپ کا….. تعلیمی مسائل حل کرنا..طبی سہولتیں :::سڑکیں بنانا ٹریفک کے مسائل حل کرنا بھی نہ آپ کا کام ھے نہ میرا ….قلم کار کا کام صرف عوام میں شعور بیدار کرنا ھوتا ھے …اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا…. سچ کو سچ کہنا کوئ بری بات نہیں

  13. ماھین نے لکھا؛

    March 8, 2008 at 9:57 pm

    سعدیھ جب عوام قوانین کی پابنری نھیں کریں گے حکومت کیا کر سکتی ہے۔ٹریفک کیا ہے؟ گاڑی میں بیٹھا ہر آدمی سڑک کواپنی جاگیر سمجھنا چھوڑ دے تو ٹریفک کا نظام ٹھیک ہو جائے گا۔مگر ٹائم کہاں ہے کی کے پاس کہ وہ قوانین کی پابندی کرے۔قلم کار کا کام صرف حکومت یا یوں کھ لیں مشرف پر تنقید کر کے عوام کا شعور بیدار کرنا ہی نہیں بلکہ ان میں احساس ذمہ داری پیدا کرنا بھی ہے کہ ان کے بھی کچھ فرائض ہیں حقوق تبھی ملا کرتے ہیں جب فرائض پورے کیے جائیں ۔ یہ تو آپ ے سنا ہی ہو گا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے آپ اکثر املا کی غلطیاں کرتی ہیں اس کی طرف توجہ کریں ۔ آخر میں میری تمام رائٹرز سے درخواست ہے کہ حکومت اور مشرف کے بارے میں عوام کا شعور بیدار کرنے کے ساتھ عوام کی کیا ذمہ داریاں ہیں یہ بھی ان کو بتائیں تو انصاف ہو گا ۔ شکریہ

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو