Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

دل اور دماغ کی گفتگو۔

کافی دیر سے سوچ رھی تھی کہ کچھ لکھا جائے لیکن کیا۔ یہ سمجھ سے باھر تھا۔اور دماغ بھی ساتھ نہیں دے رھا تھا۔ اور دل تو اپنی مرضی کا مالک ھے۔ وہ کب کس کی سنتا ھے۔اور پھر دماغ کی جیت ھو ھی گی۔ دماغ دل پر سبکت لے ھی گیا۔میں نا کہتا تھاکہ میں تم سے ذیادہ طاقتور ھوں۔ میں اندر لاکھوں خانے ھیں ۔اور بےشمار باتیں ھیں۔اور تمھارے پاس کیا ھے۔ بس چار خانے۔جس میں تھوڑی سی محبت۔ اور اس میں رتی بھر سچائی نہیں ۔اور بہت سا جھوٹ۔جو تم ھر وقت بول بول کر خوش ھوتے ھو۔اور یہ سمجھتے ھو کہ لوگوں کو آج کتنا بےوقوف بنایا۔ تم اپنی جیت پر پھولے نہیں سماتے ۔دل تھوڑی دیر دماغ کی باتیں برداشت کرتا رھا۔اور پھر ہنس کر بولا۔تمیں بس میری یہی خوبی نظر آئی۔میں تو انسانی وجود میں دھڑکتا ھوں۔میرے پر تو غزلیں کہی گہیں۔میرے پر تو پورے پورے دیوان لکھے گے۔ ھر فلمی گانے میں میرا ھونا لازمی ھے۔ اور اگر میں دھڑکنا بند کر دوں تو تمھارا کیا ھوگا ۔ کالیا ۔ میں زرا سا تیز دھڑکنا شروع کر دوں تو لوگوں کو فکر لاحق ھو جاتی ھے ۔کہ میں بند تو نہیں ھونے لگا ۔اور تم کہتے ھو کہ میرے بس چار خانے ھیں ۔اور سب سے بڑ ی بات ۔جب لڑکا اور لڑکی میں محبت ھوتی ھے ۔ اس کی وجہ بھی تو میں ھی ھوں ۔کم عقل دماغ ۔لوگ مجھے محبت کی معراج سمجھتے ھیں۔اب تو سال میں ایک دن بھی میری وجہ سے ھونے لگا ھے جس دن مجھے سرخ لباس پہنا کرھر گھر ھر دوکان ھر کارڈ پر لگا دیا جاتا ھے۔ ارے بس بس ذیادہ شیخی دکھانے کی ضروت نہیں ۔دماغ کا پارہ یک دم چھڑ گیا۔اور وہ غصہ سے بولا۔اور لوگوں کے گھر بھی تو تمھاری وجہ سے خراب تباہ و برباد ھوتے ھیں۔یہ تم نے کبھی سوچا ھے۔اور مجھے کم عقل کہتے ھو۔ تمھاری یہ ہمت کسے ھوئی،میں پوری دینا کو چلا رھا ھوں۔اگر لوگ صرف اور صرف مجھ سے فیصلہ کریں تو وہ کامیاب۔اور اگر وہ ساتھ میں تمیں رکھ کر سوچیں تو پھر ناکامی۔اس کی مشال صدر مشرف۔علماء حضرات وزیر اور ھاں اگر آصف علی زرداری اور نواز شریف جو کہیں سے شریف نہیں لگتا ۔ مجھ سے سوچیں ۔تو میں پورے یقین سے کہتا ھوں کامیاب ھوں گے۔ اور اگر وہ تمھاری سنے گے۔ تو تم یہ شعر پڑھو گے
حافظ خدا تمھارا مجھ کو اپنانے والے ۔
مجھ کونابھول جانا دوبارہ دغا کھانے والئے
۔ تو پھر ان کا اللہ ھی حافظ۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

12 تبصرے »

  1. خاک نشین نے لکھا؛

    February 28, 2008 at 7:05 pm

    اس تبصرہ دل سے کریں یا دماغ سے

  2. علی شاہ نے لکھا؛

    February 28, 2008 at 8:46 pm

    بہت دلچسپ تحریر، تانیا جی کو اللُہ نظرِبد سے بچائے

  3. سمجھوتہ AUSTRALIA نے لکھا؛

    February 29, 2008 at 3:32 pm

    بہتر ہے دل کے پاس رہے پا سبان عقل
    لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

    لیکن پاکستان میں تو دونوں مل کر بھی مات کھاتے ہیں اور تنہا تنہا بھی!

  4. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 2, 2008 at 1:12 am

    تو سمجھوتہ جی اپ کا مطلب یہ ھے کہ پاکستان میں دل اور دماغ دونوں بےکار

  5. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    March 2, 2008 at 1:51 am

    تانیہ پاکستان میں لوگ دل والے دل سے مار کھاتے ھیں …دماغ والے دماغ سے….مار دونوں صورتوں میں پڑتی ھے

  6. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 2, 2008 at 1:58 am

    بچھارے پاکستانی عوام ااب مجھے سمجھ آئی ھے.. کاش میں اتنا نا سوچتی..

  7. سمجھوتہ AUSTRALIA نے لکھا؛

    March 2, 2008 at 3:13 pm

    نہیں تانیہ جی۔ آپ نے جو سوچا درست سوچا۔ آپ اور ہم پاکستان میں نہیں ہیں، اس لئے سوچنے پر پابندی نہیں ہے۔۔۔اور مجھے یقین ہےکہ آپ جیسے لوگوں کی سوچ پاکستان میں عوام کو سوچنے سمجھنے اور دل کی آواز سننے کی اہلیت پیدا کرے گی۔ ۔۔دماغ کے فیصلے عوام نے تو کر دئیے ہیں، دیکھیں اب قیادت کیا رنگ دکھاتی ہے۔

  8. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    March 2, 2008 at 6:26 pm

    یہ فکر ھے کہ شفایاب کس طرح ھوں گے
    دوا کریں نہ مکمل دعا کیئے جائیں

    بنایئں آپ ھی مقتل جو اس نگر کو ظفر
    نہ یہ نگر بنے مقتل ، دعا کیئے جایئں

  9. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 3, 2008 at 1:19 am

    نگہت ھم کو دوا سے ذیادہ دعا کی ضرورت ھے. پر وہ دعا جو خلوص ِ دل سے کی جائے .

  10. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 3, 2008 at 1:22 am

    سمجھوتہ جی قیادت اتنا جلدی کیا رنگ دکھاے گی. اپ بھی جانتے ھیں اور ھم بھی .یہ دو دو ھاتھ جو اپ کو ایک نظر آرھے ھیں اللہ کرئے .پھر سے چار چار نا ھو جائیں

  11. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    March 3, 2008 at 1:37 am

    تانیہ یہاں دوا سے مطلب “عمل“ ھے اور اس کے بغیر دعا ۔۔۔۔۔رھی بات خلوص کی تو وہ ھر اس دردمند کے دل میں ھوتا ھے جو بغیر حوالوں کے بس دعا ھی کیے جایئں ۔

  12. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 3, 2008 at 3:02 am

    نگہت اپ کا مطلب حوالوں سے بےغرض ھو کر دعا کرنا ھے نا. اس کا مطلب یہ ھوا میں سب سے ذیادہ دردمند ھوں .اب مجھے پتا چلا جب بھی کوئی مانگنے والا آتا ھے .تو میں پیسے کی جگہ دعا ھی دیتی ھوں.اور وہ اپنے منہ میں ناجانے کیا کچھ کہہ کر چلاجاتا ھے.

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو