عجب سی کشمکش ھے
سعدیہ سحر کی تعریر اپ سب کی نظر
18 فروری ایک اھم دن ….ملک میں تبدیلی کا دن …عوام کی امیدوں کا دن ….عوام کے ایک ووٹ نے ملکی صورتحال بدل دی …18 فروری سے 28 فروری دس دن روزانہ لوگ خبریں سنتے ھیں کونسی حکومت بنے گیکون کونسی پارٹیز کا اتحاد ھوگا. کون وزیرِ اعظم بنے گا سب انتظار میں ھیں . یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ..
اونٹ بھی عجیب کشمکش کا شکار ھے وہ بیٹھے تو کس سائیڈ پہ بیٹھے..ھر پارٹی اسے اپنی طرف کھینچ رھی ھے .. اب اونٹ بھی کرے تو کیا کرے..کہیں اس کا اپنا مفاد ھے کہیں پارٹی کا مفاد ھے کہیں ملکی سلامتی کا سوال ھے کہیں عوام کی امیدیں ھیں تو کہیں پہ سپر پاؤرز کی توقعات …سپر پاؤرز ڈالرز کے ٹوکرے لے کر کھڑے ھیں اگر دھشت گردی کے خلا ف جنگ میں ان کا ساتھ دیا اور ان کی توقعات پہ پورا اترے تو وہ ڈالرز کے ٹوکرے ملیں گے اس سب کو بھی نظر انداز کرنا بہت مشکل کام ھے ….
پاکستانی قوم ایک جذباتی قوم ھے ضیاء کے بعد بےنظیر آئیں توعوام نے تالیوں سے استقبال کیا..جانے پہ بھی تالیوں سے رخصت کیا ..نواز شریف کے آنے پہ بھنگڑے ڈالے جانے پہ بھی جشن منایا بے نظیر کے دبارہ اقتدار میں آنے پہ پھولوں کے ھار پہنائے جانے پہ بھی پاکستانی قوم ایک پل میں ھیرو بنا دیتی ھے دوسرے ھی پل اٹھا کر پٹخ دیتی ھے کبھی دینے پہ آئے تو عزت سے سر پہ بیٹھا تی ھے اور کابھی پتلے بنا کر جلا دیتی ھے ….
عوام نے بہت امیدوں کے ساتھ لوگوں کو منتخب کیا ھے ھماری منتخب ھونے والوں سے یہی گذارش ھے کہ وہ غیر ملکی سفارتکاروں سے ملاقاتیں بند کریں اور عوام جس نے انہیں منتخب کیا ھے ان کی رائے لیں کے وہ کیا چاھتے ھیں …ملکی مفاد اور عوام کی توقعات کو مدِ نظر رکھتے ھوئے اپنے فیصلے کریں گے ..غیر ملکی طاقتوں کے سامنے اگر ایک بار جھک گئے تو دوبارا سر اٹھا کر بات نہیں کر سکیں گے
امید ھے کہ منتخب ھونے والی حکومت ملکی مفاد کو اھمیت دے گی اور ایسے فیصلے کرے گی جس سے عوام کا سر بلند ھوگا ( امید پہ دنیا قائم ھے )































تانیہ رحمان نے لکھا؛
February 29, 2008 at 11:48 pm
سعدیہ اپ کا اونٹ سوری پیغام ھم نے نئی حکومت تک پہنچا دیا ھے. جواب کا انتظار کرو.اونٹ آتا ھی ھوگا.
آویز جرمنی نے لکھا؛
March 1, 2008 at 11:31 pm
دنیا اللہ کے قانون کے مطابق اپنے محور پر قائم ہے ۔ خالی امید سے تو ہم ایک ٹماٹر بھی قائم نہیں کرسکتے ؟ پہلے عمل پھر امید۔
سب سیاست دانوں کو تو اپنی اپنی کرسی کی پڑی ہے ۔ اگر یہ غریب عوام سے مخلص ہوتے تو یہ پہلے ہی دن ساری پارٹیاں کبھی کی اکھٹی ہوچکی ہوتیں۔اول مفاد تو ان کے اپنے زاتی مفاد ہیں نہ کے غریب عوام کے۔ان سیاستدانوں نے پہلے کونسا عوام کے لئے کوئی ڈھنگ کا کام کیا یا منصوبہ بنایا؟
پہلاآٹھ سال جیل دوسرا آٹھ سال ملک بدر ۔یہ اپنے اپنے بدلے عوام ہی سے لیں گے ۔
آپ اور ہم سب مل کر دعا مانگیں کہ اے میرے اللہ ہمارے لیڈروں کو تو ہی کوئی عقل دے اور ان کی رہنمائی کر۔
زرقا نے لکھا؛
March 2, 2008 at 12:03 am
سعدیہ جی
جب تک ہماری عوام تعلیم یافتہ نہیں ہو جاتی اور معاشی طور پر خود مختار نہیں جاتی ہم ان رہنماؤں کی باریاں بدلتے دیکھتے رہیں گے
کسی تبدیلی کی توقع مت رکھئے
والسلام
زرقا
سعدیہ سحر نے لکھا؛
March 2, 2008 at 12:48 am
تانیہ نئ حکومت اونٹ پہ آرھی ھے اس لئے اتنی دیر لگ رھی ھے اور بہت بہت شکریہ حکومت تک میری بات پہنچانے کا
آویز جی اگر حکومت عوام سے مخلص ھوتی تو کیا الیکشن کے لئے دو دو کروڑ خرچ کرتے ان کے اپنے مفاد ھوتے ھیں ان کو یقین ھوتا ھے انھوں نے اس سے بڑھ کر کمانا ھے عوام کی خدمت کے بیان صرف سنانے کے لئے ھوتے ھیں سننے میں اچھے لگتے ھیں بیان بازی کا مقابلہ ھوتا ھے سب پارٹی لیڈرز کے درمیان
تانیہ رحمان نے لکھا؛
March 2, 2008 at 1:10 am
سعدیہ اونٹ کو کھانے کو ملے گا تو وہ کچھ کرے گا بھی .کیوں کے حرکت میں ہی برکت ھے.
سعدیہ سحر نے لکھا؛
March 2, 2008 at 1:49 am
تانیہ کیا پاکستان میں آٹا ملنا شروع ھو گیا ھے اونٹ کھائے گا کیا
تانیہ رحمان نے لکھا؛
March 2, 2008 at 2:05 am
نہیں سعدیہ آ ٹا نہیں مل رھا .آجکل ھر طرف بس ھاتھ ہی ھاتھ ملتے ھوئے نظر آتے ھیں اور کچھ کم بالوں والے سر، .دیکھو اب ان ھاتھوں میں آٹے کی بوری کب آتی ھے. عوام کی طرح میری بھی نظریں لگی ھوئی ھیں.
سمجھوتہ
نے لکھا؛
March 2, 2008 at 3:22 pm
10٪ آٹا اور ٪10 پانی، ٪10 بھوک ٪10 اونٹ ٪10 مسلم لیگ٪10 پی پی پی٪10 اے این پی ٪10 ایم کیو ایم ٪10 آرمی ٪00 عوام ٪10 زرداری۔= پاکستان۔ کیا خیال ہے۔۔۔۔۔حالات بدلنے کے نہیں نظر آتے، کیا مستقل مزاجی ہے ہمارا نصیب بھی۔پاک سر زمین کا نظام۔۔قوت اخوت عوام یہ تو بس اک دیوانے کی بات تھی۔ ہے ناں کچھ ایسا ہی۔ لیکن دیکھیں عوام نے اونٹ کا رسی پکڑ لی تو کچھ بن جائے گا، ورنہ بیٹھنا محال اور کھڑے اونٹ پہ سواری کرنا پڑے گی۔ دیکھیں اتنا مظبوط سوار کون ہے؟
نگہت نسیم
نے لکھا؛
March 2, 2008 at 6:07 pm
ھر ایک سمت ھے پھیلی ھوائے اشک آور
اب ایسے باغ میں بلبل کہاں سے آئے گا
یہ شہر آب ھے تم کس سراب میں ھو ظفر
یہاں کنارہ نہیں پٰل کہاں سے آئے گا
سعدیہ سحر نے لکھا؛
March 2, 2008 at 7:47 pm
نگہت اف خدایا کتنے شعر آتے ھیں تمہیں ھر بات کے جواب میں شعر ……لگتا ھے اس کے جواب میں بھی کوئ شعر ھی آئے گا