مشاورت ۔
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔
القمر آن لائین کے قارئین کی نذر ‘ ایک نہایت ہی مختصر کہانی ۔
————————————————————————————————————————————–
ایسا اسے بہت ہی پہلے کر لینا چاہیے تھا لیکن وہ اب تک ماہر نفسیات کے پاس جانے کی ہمت ہی نہ کر سکا ۔ اور آج وہ اچانک اس کے کلینک میں اُس کے سامنے بیٹھا تھا۔
’’مسئلہ کیا ہے؟‘ ‘ماہر نفسیات نے پوچھا ۔ اس نے بڑی احتیاط سے بات آگے بڑھائی۔
’’میں ہر رات خواب دیکھتا ہوں کہ میں ’رستہ‘ تلاش نہیں کر پاتا۔‘‘
’’کیا تم جگہوں کے محلِ وقوع کی ’حس‘ رکھتے ہو؟‘ ‘ماہر نفسیات نے پوچھا۔
’’ہاں‘ اس نے جواب دیا: ’میں جگہوں کے محلِ وقوع بارے بہت اچھی ’حس‘ رکھتا ہوں ۔ میں کبھی بھی گم گشتہء راہ نہیں ہوا ہوں ‘ لیکن میں اپنے خوابوں میں راہ کھو دیتا ہوں۔‘ اور اس کا کچھ نہ کچھ کوئی تودوسرا مطلب ضرور ہوگا۔ صرف یہ ہے جو مجھے پریشان کرتا ہے۔‘‘
’’ہوں!‘‘ماہر نفسیات کھنکارا:
’’ اس کے علاوہ کہ تم خواب میں رستہ تلاش نہیں کر سکتے‘ کیا تمھیں کوئی اور بھی مسئلہ ہے؟‘‘
’’ایسا کوئی قابل ذکر نہیں۔‘‘
’’اچھاتو! تمھارا زندگی میں کوئی ایسا ’ہدف یا مقصد‘ تو نہیں رہا جسے تم پانے میں ناکام رہے ہو؟‘‘
اس کے خیال میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔
’’اپنا کوئی خواب بیان کرو۔‘ ‘ ماہر نفسیات بولا۔
’’میں سفر پر ہوں۔ ایک ایسے ملک میں جسے میں جانتا نہیں ہوں۔ میں ایک ہوٹل میں رہ رہا ہوں اور وہاں سے باہر جاتا ہوں تاکہ شہر دیکھ سکوں۔ یہ ایک پرانا شہر ہے‘ قرون وسطیٰ کے عہد کا۔ اس کی گلیاں تصویروں کی مانند ہیں ‘رنگوں سے بھری ہوئی…..
’’تصویروں کی مانند‘ رنگ برنگ ؟ ‘ ‘ماہر نفسیات نے مداخلت کی۔
’’ہاں‘ رنگ برنگے قدیم مکانات‘ میں گلیوں میں اوپر نیچے جاتا اور انھیں سراہتا ہوں مجھے اس پر تعجب بھی ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک اتنی عمدگی سے محفوظ رکھے گئے ہوئے ہیں۔ لیکن جب میں ہوٹل واپس آنے لگتا ہوں تو وہ گلیاں اور وہ مکانات سبھی کچھ پہلے جیسے ویسے ہی مکانات اور گلیاں نہیں ہوتیں…..‘‘
’’ویسے ہی رنگ برنگے۔‘ ‘ ماہر نفسیات بیچ میں بولا۔
’’ہاں‘ وہ ابھی بھی رنگ برنگے تو ہیں‘ لیکن یہ وہی نہیں ہیں اور میں وہ ہوٹل تو بالکل ہی تلاش نہیں کر سکتا جہاں میرا سارا سامان پڑا ہے‘اگر میں نیند سے نہ جاگوں تو ہر رات تباہی ہو۔
’’ہاں!‘‘ اچھا!ماہر نفسیات بولا: ’’غیر ملک میں آدمی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ہوٹل کا نام اور پتہ اپنے پاس رکھے۔‘‘
’’لیکن یہ تو صرف ایک خواب تھا؟‘‘
’’صرف؟ کیا یہی خواب نہیں جو مسئلہ ہے؟‘ آدمی کو خواب میں شرم بھی یادد رکھنی چاہیے۔ اگلی رات جب تم غیر ملک میں ہوتو یہ یاد رکھنا!‘‘
’’لیکن یہ صرف غیر ملک ہی میں نہیں! یہ تو ہر جگہ ہے‘ یہاں اپنے ملک میں بھی‘ مجھے جب بھی گھر جانا ہوتا ہے گڑبڑ ہوتی ہے‘ میں اپنے سامنے ہر ایک چیز کو صاف واضح دیکھ سکتا ہوں لیکن میں انہیں دوبارہ پہچان نہیں سکتا ہوں‘ میں جانتا ہوتا ہوں کہ میں اسی رستے سے پہلے گزر چکا ہوں لیکن پھر بھی وہ رستہ وہ نہیں ہوتا۔‘‘
’’تم کہیں کوئی رنگسازتو نہیں ہو؟‘‘
’’نہیں‘ میں بنک ملازم ہوں۔‘‘
’’آ ہا ! لیکن بصیرت تمھیں تحفے میں ملی ہوئی ہے؟‘‘
’’نہیں ‘ بس اتنا ہے کہ میں سکول میں ڈرائنگ کرنے (تصویریں بنانے) میں اچھا تھا ۔ لیکن میں آنکھوں سے یاد رکھنے میں خراب ہوں۔ میں اپنے قریب ترین دوستوں کو اپنے سامنے نہیں دیکھ سکتا لیکن اب ان کے متعلق خواب دیکھتا ہوں۔ ہوٹل کے بیرے مثلاً‘ میں ابھی تک اپنے سامنے دیکھ سکتا ہوں ‘یہی ہیں جو مجھے پریشان و تنگ کرتے ہیں۔‘‘
’’نا!‘تو یہ ہیں جو تمھیں تنگ و پریشان کرتے ہیں! تم اپنے ارد گرد کو اتنا کم دھیان دیتے ہو‘ اور اپنے قریب ترین دوستوں کو بھی اورپھر اس کا معاوضہ تمھیں خواب میں چکاناپڑتا ہے! وہ رنگ برنگا ماحول جس میں تم ہوتے ہو‘ اس کوتم حقیقتاً یا دنہیں رکھتے …. ایسے کو آدمی ’حقیقت‘ ہی تو کہتا ہے نا؟‘‘
’’نہیں‘ یہی تو مجھے پریشان و تنگ رکھتا ہے۔‘‘
’’یہ تم کہتے ہو! ہاں: خواب میں تم دیکھتے ہو‘ اور وہ رنگ برنگی جو تم دیکھتے ہو‘ یہ وہ ہوتی ہے جو تم اپنے ’کینوس‘ پر خود تیار کرتے ہو۔ یقیناً ایسانادانستگی یا پھر دبی رہنے والی کسی خواہش کے ابھرنے کی وجہ سے ہی ہوتا ہے ۔ لیکن تم تو اسے صرف لمحاتی طور پر تیار کرتے ہو۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب تم نے گھر واپس جانا ہوتا ہے وہ رنگا رنگی وہی نہیں رہتی۔تم اپنی ہی تصاویر کو مستقل نہیں رکھ سکتے۔ تم تصویری تصورات میں دبے رہتے ہو۔ اپنی بصارت کو روزانہ زیادہ استعمال کرو۔اپنے گردو نواح کو اچھی طرح نظر میں رکھو اور ذہن نشین کر لو مثلاً یوں کہ اب جب تم یہاں سے جاؤ تو‘یہاںواپسی کا رستہ دوبارہ بھی پا لو۔ لیکن مجھے امید ہے کہ یہ ضروری بھی نہیں ہو گا۔‘‘
’’تو مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں؟‘‘
’’ہاں‘ہاں‘ خواب میں جہاں تب تم باکل ٹھیک ٹھاک دیکھ سکتے ہو جب تم بیدار ہوتے ہو۔‘‘
اسی کے ساتھ ہی ماہر نفسیات نے اپنی مشاورت ختم کی۔ اور اسے کلینک کے دروازے پر خدا حافظ کہہ کر دروازہ بند کردیا۔
اس نے کلینک کی سیڑھیاں اترتے ہوئے اپنے آپ میں چین محسوس کیا۔ لیکن جونہی وہ گلی میں آیا پہلے کی نسبت اسے ہرچیز مختلف دکھائی دی اور وہ یہ نہ جان سکا کہ اسے کس راستے پر جانا ہے۔
اس کے تھوڑی دیر بعد وہ جاگ پڑا۔































سمجھوتہ
نے لکھا؛
March 23, 2008 at 3:22 pm
خواب دیکھنے والی آنکھیں اچھی ہوتی ہیں ان آنکھوں سے جو جاگتے ہوئے بھی بینا نہ ہوں۔ خواب ادھورا اور پریشان سہی، لیکن آنکھوں کا رشتہ بصارت سے قائم رکھتا ہے۔ پریشان خواب جاگتے ہوئے بھی ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے، جبکہ فکر و سوچ زندہ ذہنوں کی علامت ہے۔ آپکی تمثیل دلچسپ بھی ہے اور کئی معانیوں سے بھر پور بھی۔ اس تجرید کا رنگ اور انگ ہم اپنی اپنی رسائیِ ذہنی کے مطابق لیں گے۔پھر ماہر نفسیات کے سوال و جواب ایک خواب میں دیکھنا، گویا کہ خود اپنی نفسیات سے گفتگو ہوئی۔ میں تو اسے اپنی ذات کی تلاش سے تعبیر کروں گا۔ اور اگر یہ خواب دیکھنے والی آنکھ استعارہ ہو ایسی قوم کا جو اپنی منزل کھو چکی ہو، یا یوں کہیں تو بہتر ہوگا کہ اپنی منزل سے کھو گئی ہو، تو اس میں ایک خواہش تو ہے کہ ماضی عالی اور شان حال سے ملحق ہو جائے۔ یہی زندگی ہے اور یہی خواب اگر کسی سچے راہبر کو سنایا جائے تو شاید بیرونی رنگوں کی پر فریب عمارات سے نکال کر، حال کی تلخیوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کردے۔ ۔۔۔۔ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔۔۔۔کے مصداق آنکھیں خواب دیکھتی ہیں، تعبیر کے لئے سچا ماہر نفسیات درکار ہے۔ آپ کی تحریر کا بہت لطف آیا۔میں شاید اپنی مرضی کی تصویر بناتے ہوئے بہت دور نکال آیا ہوں۔۔۔والسلام
آویز جرمنی نے لکھا؛
March 23, 2008 at 4:21 pm
بخدمت جناب محترم نصر ملک۔
اس میں کوئی شک نہیں آپ بہت اچھا لکھتے ہیں ۔
مگر میرا خیال ہے اس سے ملتے جلتے خواب کم و بیش ہر شخص دیکھتا ہے آخر میں ہوتا وہ ہے ۔۔۔جب ۔۔۔آنکھ کھلی تو سب بھول گئے۔
پیشے کے لحاظ سے میں آرٹسٹ ہو ں ۔ غالباُ بیس سال پہلے کی بات ہے میں جب بھی کوئی خواب دیکھتا تو دوسرے ہی دن میں اس کی کاغذ پرتصویر بنا کر اور تاریخ ڈال کر رکھ لیتا۔
ایسے ہی کافی سارے خوابوں کو میں کاغذ پر نکل کرتا رہا۔حیرت اس بات کی ہوئی وہ سارے خواب جو میں نے کاغذ پر نکل کئے ہوئے تھے وہ مختلف سائینس فکشن انگلش فلموں کے کلپ تھے جو کبھی میں نے بچپن سے جوانی کے آغاز میں دیکھی تھیں ۔جب وہ فلمیں دوبارہ میری نظر سے گزریں تو مجھے اندازہ ہوا ۔۔۔او ۔۔۔یہ کلپ تو میں نے کاغذ پر ڈرائنگ کرکے پہلے ہی سے رکھے ہوئے ہیں ۔ جب دماغ پر اور زور دیا تو پتا چلا کہ میرا بڑا بھائی عرصہ دراز ہوا فوت ہوگئے ہیں بچپن میں اکثر مجھے اپنے ساتھ انگلش فلموں میں لے جایا کرتے تھے اور وہ ساری سائینس فکشن فلمیں اُسی زمانے ہی کی تھیں۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ میرا ہاتھ بڑا بری طرح جلنے لگا ۔میں بھاگ کر پانی میں ہاتھ ڈالتا ہوں ۔فرج میں سے ٹھنڈا پانی نکال کر ہاتھ پر ڈالتا ہوں ۔ مگر ہاتھ میں جلن بڑھتے ہی جارہی ہے ۔تکلیف سے بیوی کو آواز دی کی جلدی سے ہاتھ پر دھی ڈالو اور ایمبولنس والوں کو فون کریں۔ مگر جلن ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے مجھے محسوس بھی ہورہا ہے کہ میں خواب کی حالت میں ہوں اور خواب کو توڑنے کی کوشش بھی کررہا ہوں ۔یہ خواب میں بیوی کو سنا رہوں ۔ بیوی نے میری بات درمیاں میں کاٹ کر کہا ۔ہاں ہاں اس ہاتھ سے کوئی گناہ کیا ہوگا ۔؟
میں نے کہا جب شدید جلن سے میری آنکھ کھلی تو میرا ہاتھ سوتے میں ۔ بیڈ کے ساتھ لگے ہوئے گرم ریڈی ائیٹر radiator میں پھنسا ہوا تھا ۔ بیوی کو جواب دیا ۔
آویز جرمنی نے لکھا؛
March 23, 2008 at 4:23 pm
جب شدید جلن سے میری آنکھ کھلی تو میرا ہاتھ سوتے میں ۔ بیڈ کے ساتھ لگے ہوئے گرم ریڈی ائیٹر میں پھنسا ہوا تھا ۔بیوی کو جواب دیا
نرگس جمال سحر( لندن)
نے لکھا؛
March 23, 2008 at 5:14 pm
نصر صاحب نے بلاشبہ اچھا لکھا ہے اور سمجھو تہ اور آویز صاحب کے تبصرے اور خیالات بہت اچھے لگے۔ خوابوں کا انسان کی حقیقی زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ خود میرے ساتھ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ حقیقی زندگی کے کچھ مناظر میں پہلے سے دیکھ لیتی ہوں۔ میں با لکل سچ کہہ رہی ہوں یہ کوئی کہانی یا افسانہ نہیں۔ میری عادت ہے کہ میں آنکھ کھلنے کے بعد تھوڑی دیر تک رات بھر کے خوابوں کو دہرانے کی کوشش کرتی ہوں اور اپنے خوابوں سے کافی ساری رہنمائی حاصل کرتی ہوں ۔ کچھ تجربے اور کچھ ٹریننگ سے اب میں خوابوں کے بارے بیت کچھ جاننے لگی ہوں ۔ کبھی کبھی میں کچھ خواب دیکھ کر خوفزدہ ہوجاتی ہوں اور انکے برے ااثرات ظاہر ہونے سے پہلے ہی صدقہ دیتی ہوں اور اس مخصوص معاملے میں بہت احتیاط شروع کر دیتی ہوں اور کچھ معاملات میں پہلے سے اپنا نقطہ نظر بنا لیتی ہوں۔ اسطرح میں ان سے فائدہ لیتی ہوں۔ پہلے پہل میں پریشان رہا کرتی تھی جب مجھے چہرے اور مناظر پہلے سے دیکھے ہوئے لگتے اور لگتا جیسے پہلے اس موضوع پر بات ہو چکی ہے مگر بات میں جب میں نے باقائدہ پڑھا اور غور کرنا اور روزانہ خابوں کو دہرا کر یاد رکھنا شروع کیا تو یہ گتھی سلجھ گئی اب وہ الجھن نہیں ایک رحمت ہے میرے لئے۔ میں اسکو غیبی امداد اور اشارہ جانتی ہوں۔ خابوں کی تعبیر سمجھنا باقائدہ ایک علم ہے اور ہر شخص کے کواب اسکی فطرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ میرے ذاتی خیالات ہیں ضروری نہیں کہ سب لوگ اس سے اتفاق کریں۔
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
March 24, 2008 at 2:41 am
محترمہ نرگس جمال سحر صاحبہ
مکرمی آویز صاحب اور گرامی قدر سمجھوتہ صاحب ۔ سلام مسنون ۔
آپ سبھی کا مشکور و ممنون ہوں کہ کہانی ‘‘ مشاورت ‘‘ آپ سب کو پسند آئی ۔ آپ نے اپنے اپنے نظریئے اور زاتی تجربات کی روشنی میں خوابوں کے حوالے سے اور ان کے متعلق جو کچھ لکھا میں اس کی قدر کرتا ہوں ۔
نرگس جی آپ نے اپنے خوابوں میں زندگی کے پیش آنے والےکئی مناظر کو پیشگی دیکھ لینے کی جو بات کی ہے یہ آپ کے لیے ایک نعمت خداوندی ہے ۔ قرآن کریم بھی “رؤیا “ کی گواہی دیتاہے اور اللہ اپنے بندوں پر ‘‘ رحمت کے دروازے ‘‘ کبھی بند نہیں کرتا ۔ یہ حقیقت ہے کہ ‘‘ وللہ غیب السمٰوٰت والارض ولیہ یرجع الامرکلہ ‘‘ یعنی آسمانوں اور زمین کا غیب صرف اللہ ہی کو حاصل ہے اور تمام باتیں آخر اسی کی طرف لوٹ کر جاتی ہیں ۔ آپ بہت خوش نصیب ہیں ۔ خواب یا رؤیا کی تعبیر سمجھناواقعی میں ایک علم ہے جو خود خدا اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے ۔ سورۃ الیوسف “ اس پر گواہ ہے ۔
آویز جی اب کھلا کہ آپ ایک ‘‘ مصور ‘‘ بھی ہیں اور خواب بھی دیکھتے ہیں ۔ آپ نے بجا کہا کہ بچپن میں دیکھے ہوئے کچھ مناظر‘ انسان کے تحت الشعور میں یوں سمائے رہتے ہیں کہ انسان خود ان سے آگاہ نہیں ہوتا لیکن جب خود اس کی ذات پر انہی مناظر ‘ یادداشتوں کا طہور ہوتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے ۔ “ المصور “ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اور اس صفت کا ‘‘ خلیفۃ الارض “ میں ہونا خود انسان میں ذات باری کے ظہور و موجودگی دلیل ہے ۔
مجھے آپ کا خواب پسند آیا اسمیں بذات خود ایک کہانی پوشیدہ ہے ۔ تراشئے نا اس سے کوئی ادبی مجسم لطیف ۔
سمجھوتہ جی ۔ جی خوش کردیا آپ نے ۔ کیا خوب کہا کہ ‘‘خواب دیکھنے والی آنکھیں اچھی ہوتی ہیں ان آنکھوں سے جو جاگتے ہوئے بھی بینا نہ ہوں۔‘‘ عموماََ دیکھا گیا ہے کہ “ ہم اپنے خواب کیوں بیچیں “ تک کی رٹ لگانے والے آخر میں اپنی بینائی بھی بیچ ڈالتے ہیں ۔ آپ کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ ہر کوئی اپنے رنگ اور انگ سے دیکھتا اور اپنی ذہنی رسائی کے مطابق ہی کسی بات کاا ثر لیتا ہے ۔ آپ نے خواب اور خواب دیکھنے والی آنکھ کو جس طرح استعاراتی روپ میں سوچا ہے اس پر میں آپ کی “ خوردبینی “ کی داد دیتا ہوں اور اُ ن عناصر کی تلاش میں آپ کے شانہ بشانہ چلنے پر تیار ہوں جو ہمیں “ ترجمان ماضی “ کا یوں عکس بنا دیں کہ “ شان حال “ کا جلال خود ہمارا مقدر بن جائے ۔ ہمارے پاس ہمارے خواب ہی تو ہیں ۔ میں آپ سے متفق ہوں کی ان خوابوں کی تعبیر کے لیے سچا ماہر نفسیات درکار ہے ۔ آپ نے اپنی مرضی کی جو تصویر بنائی ہے اس کے سبھی رنگ سُچے‘ سچے اور پکے ہیں اور آپ دور کہیں نہیں گئے ‘ میرے دل کے مزید قریب آ گئے ہیں ۔ وسلام ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
March 24, 2008 at 1:28 pm
نصر جی خوب اور بہت ھی خوب
خواب در خواب کی کہانی مجھے سایئکوتھیراپی کا عمدہ نمونہ لگی ۔ لاشعور میں پڑی ھوئی خواہشیں ایسے ھی رستے بنایا کرتی ھیں ۔ اور خوابوں کے ظہور اور پھر ظہورٍ ثانی نے کمال کیا اور رستے الجھے دھاگوں کی طرح سلجھتے گئے ۔ فرایئڈ نے ایک بات بہت ھی عمدہ کہی تھی کہ تین باتیں انسان کو ھمیشہ ھی اداس رکھے گی ۔ اٰن میں ایک تو یہ کہ بقول گلیلیوں کے ھم سینٹر آف یونیورس نہیں بن سکتے ، دوسرا بقول ڈارون کے ھم تخلیق کا تاج نہیں پہن سکتے اور تیسری بات بقول اٰس کے اپنے ھی ھم اپنے دماغ پر کوئی کنڑول نہیں رکھ سکتے ۔اور اس کی سب سے بڑی وجہ شہرت بھی اس کی یہی فلاسفی تھی کہ انسان کے لاشعور میں وہ ساری باتیں اور خواہشیں جو اسے اپنی عام زندگی میں بے چین رکھتی ھیں وہ وہاں محفوظ پڑی ریتی ھیں اور جب بھی انہیں موقعہ ملتا ھے خوابوں میں دکھائی اور سنائی دیتی ھیں اور اپنے اندر کئی سلجھاؤ کے انداز لیئے ہم کو رستہ بتاتے رہتے ھیں جس کا زکر نرگس سحر نے اپنی ذاتی تجربے کے حوالے سے بھی کیا ھے ۔
اسی قلیہ قانون کو دریافت کرکے فرایئڈ نےھیپناٹزم میں سایئکواینالسس کو ٹریٹمنٹ کے طور پر استعمال کیا ۔اور بلکل نصر جی کے ماہر نفسیات کی طرح منزل کو رستہ دیکھایا۔ میں ذاتی طور پر خوابوں کو سایئکولوجیکل پوایئٹ آف ویو سے بہت مستنداور معتبر سمجھتی ھوں کہ یہی خواب کبھی کشف کی راہ دیکھا دیتے ھیں تو کبھی آگہی کے چراغ جلا دیتے ھیں ۔
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
March 25, 2008 at 2:52 am
نگہت جی ۔ سلام و آداب ۔
ایک ماہرنفسیات کی حیثیت میں آپ کا میری کہانی کا تجزیہ اور اس پر تبصرہ اچھا لگا ۔
ہم لوگ خوش قسمیت ہیں کہ اس بلاگ کے ذریعے ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اور ہمارے اس کنبے میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
آپ کا کہنا بجا ہے کہ ‘‘ خواب کبھی کشف کی راہ دیکھا دیتے ھیں تو کبھی آگہی کے چراغ جلا دیتے ھیں ۔ ‘‘ آللہ کرے “ آگہی کے یہ چراغ “ ہم سب کے لیے روشنی دیں اور ہم کشف کی راہوں پر چلنے کے اہل ہو جائیں ۔ آمین ۔ وسلام ۔
علیگجراتی
نے لکھا؛
April 19, 2008 at 12:25 am
سلا م خو ا ب ا یک حقیقت ہے ۔ ا و ر ہر ا نسا ن خو ا بو ں کید نیا میں گو متا ہے ۔ لیکن میں ا پنی سٹو ری بتا تا ہو ں۔ ا پنی ز ند گی میں د و خو ا ب د یکھیں ہیں ۔ جب میر ے د ا د ا جا ن فو ت ہو ے ۔ ا نھو ں نے خو ا ب میں نصیحتیں بتا ئ ۔ ا و ر ایک خو ا ب ا یکد و ست کیبا ر ے میں ا چھا سا دیکھا ایک ما ہ پہاے ۔ اسکیعلا و ہ بہت سو چے رکھتا ہو ں ۔ لیکن خو ا پ نہیں آ تے۔