آؤ مل کر کھاتے ہیں!
روزانہ بے شمار ای میل موصول ہوتی ہیں اور ان میں سے اکثر و بیشتر ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتی ہیٍں۔ لیکن کم و بیش چالیس سےپچاس کے درمیان ایسی میل بھی ہوتی ہیں جنکا جواب دینا ہوتا ہے اور ان میں سے دو یا تین ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے بارے میں جی چاہتا ہے کہ اسے دوستوں کے ساتھ”شیئر” کیا جائے۔ آج کی یہ ای میل بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔































نگہت نسیم
نے لکھا؛
March 24, 2008 at 1:38 pm
آپ نے باقاعدہ ھم سب کو ھوشیار کیا ھے کہ کچھ بھی ھو سکتا ھے ، کوئی کبھی بھی کچھ بھی کھا سکتا ھے اور اس دفعہ تو مل کر کھا سکتا ھے سو زیادہ امیدیں نہ رکھیں تو صفدر جی ھمارے پاس رھاھی کیا ھے سوائے امیدوں کے آپ وہ بھی نہیں لگانے دے رھے یہ کیا بات ھوئی بھلا۔۔۔ کیا خبر آنے والے دن معجزوں کے ھوں اور سب کچھ بچ رھے ۔
سمجھوتہ
نے لکھا؛
March 24, 2008 at 3:49 pm
آداب عرض۔ نگہت جی سچ کہا آپ نے، میں بھی آپ کی طرح امید خیر رکھنے والا فرد ہوں، لیکن کیا کریں کی صفدر جی کی بات ہمارے دل کے نہاں خانوں میں بھی چھپی تو بیٹھی ہے۔ اللہ پر توکل کرتے ہیں، آخر قوم کا اجتماعی فیصلہ تھا۔
خاورچودھری
نے لکھا؛
March 24, 2008 at 5:58 pm
جناب صفدر ہمدانی صاحب
یوسف رضا گیلانی کی سربرایی میںقائم ہونے والی حکومت کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ بھان متی نے کنبہ جوڑا
کہیںکی اینٹ کہیں کا روڑا
تو بے جا نہ ہوگا کیوں کہ اس حکومت میںعملا آگ اور پانی یکجا ہو رہے ہیں اور ایک ہی گھاٹ پر شیر اور بکری کے پانی پینے کی عمدہ مثال ہے۔۔۔۔۔
ایک پاکستانی کی حیثیت سے میری بھی خواہش ہے کہ ان کی حکومت کامیابی سے آگے بڑھے لیکن ایک بات حیران ضرور کرتی ہے کہ امین فہیم سے کون سی ایسی خطا سرزد ہوگئی تھی جو انھیںمکھن سے بال کی طرح نکال باہر کیا گیا اور پھر میاںنواز شریف اپنی اُس شکست کو کیوں کر فراموش کر چکے ہیںجو یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوںانھیںہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
خدا کرے یہ بیل منڈھ چڑھے مگر اس کی توقع بہت کم ہے۔۔۔۔۔۔کیوں کہ نہ تو اے این پی زیادہ دیر تک 12 مئی کو فراموش کر سکتی ہے اور نہ دیگر جماعتیں اپنے مفادات کو زیادہ عرصہ نظرانداز کر پائیںگی۔۔۔۔اللہ ہمارے حال پر کرم کرے۔۔۔۔
اکمل سد
نے لکھا؛
March 24, 2008 at 7:31 pm
جناب صفدر صاحب اور تمام اصحاب
کھائے گا تو وہ جس کے ہاتھ آئے گا میں اور آپ تو صرف شور مچا کر رہ جایئں گے ہم کو صرف خوس فہمی ہے کہ مل کر کھایئں گے بہر حال خواہش کے اظہار پر پابندی نہیں ہے ہر شخص کو مزید ہو گی آذادی ہے جس طرح کھائے چاہے قلم سے یا قانوی طور سے مگر لوٹ کھوسٹ کی اجازت نہیں شکریہ اس توجہ پر تمام اصحاب کا
تانیہ رحمان نے لکھا؛
March 24, 2008 at 7:47 pm
صفدر جی نے پہلے سے ھی بتا دیا. کیونکہ یہ سب کچھ تو ھو گا .ویسے ھی تو دونوں لیٹروں نے ھاتھ پر ھاتھ نہیں رکھا.پہلے بھی ان دو اور دو چار ھاتھوں نے کھایا .لیکن اب کی بار کچھ ہغم ھوتے ھوئے نہیں لگ رھا.کیونکہ عوام کافی ٹائم خالی پیٹ کے ساتھ اندھیرے میں رھی ھے.پھر بھی ایک اچھی اَمید رکھنی چاہئے. انصاف کرنے والا تو اوپر ھے ہی.
شعیب صفدر
نے لکھا؛
March 25, 2008 at 11:06 pm
یاسر علی کی اچھی کاوش ہے!
زرقا مفتی نے لکھا؛
March 26, 2008 at 9:11 am
ہمدانی صاحب
جس نے بھی لکھی ہے بہت سچی نظم لکھی ہے
پاکستان میں صرف
زرقا مفتی نے لکھا؛
March 26, 2008 at 9:12 am
ہمدانی صاحب
جس نے بھی لکھی ہے بہت سچی نظم لکھی ہے
پاکستان میں صرف حکومت بدلی ہے حکومت کرنے والوں کی نیت نہیں بدلی
والسلام
زرقا
نگہت نسیم
نے لکھا؛
March 26, 2008 at 10:11 am
واللہ کیا خوب کہا زرقا جی آپ نے کہ جی خوش کر دیا ۔جیتی رہیئے ۔
سعدیہ سحر نے لکھا؛
March 26, 2008 at 10:26 pm
جب سے پاکستان بنا ھے حکومت کرنے والے صرف اپنا کھانے کا سوچتے ھیں ….کاش کبھی عوام کو بھی کھلانے کا خیال آجائے ..کھانا ھے تو مل کے کھائیں …سڑک پہ بھوکی پیاسی عوام کے ساتھ مل کر کھائیں جن کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں …..
ابو تیمور
نے لکھا؛
March 28, 2008 at 4:10 am
ہمدانی صاھب میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب کھانے کے لئے رہ کیا گیا ہے اگر ہندڈ ی کا منہ کھلا ہو تو لٹیروں کو شرم آنی چائیے اور یہ جو وکیل شور مجا رہے ان کے بار ے میں اکبر الہآبادی مرحوم نے کہو تھا
پیدا ہو وکیل تو ابلیس نے کہا
لو آج میں بھی صاحب اولا ہو گیا
ان پہ وہ وقت آنے والا ہے کہ جب یہ ماضی کی ظرف لوٹتے ہوئے ےیورپکا کی طرف آئیں گے لیکن اب ان کو وہاں پر کوئیگھاس نہ ڈالے گا