محترم نصر ملک۔
آپ کا افسانہ پنجابی فلموں سے کافی ملتا جلتا ہے ۔
میرا خیال ہے آج کے دور میں ۔حویلی کا جٹ۔ مولا جٹ۔وحشی جٹ۔ ایم این اے جٹ۔ وغیرہ جیسی فلمیں ، و افسانے اور ان کے کردار ایسے نہیں رہے ۔کہ یہ لوگ تھرڈ کلاس رنڈیوں کے کوٹھوں پر جائیں یا وہ آئیں ۔
آج کے دور کے ایم این اے ۔
عیش و عشرت عیاشی ۔ سردرد کا علاج ۔ تعلیم ۔ کاروبار ۔ بنک اکاونٹ ۔ شاپنگ ۔کوٹھی بنگلے ۔ بنانے کے لئے یورپ کا رخ کرتے ہیں ۔افسانہ کسی جدید اور ماڈرن ایم این اے پر ہوتا تو اور بھی اچھا ہوتا۔ یہ میری ذاتی رائے ہے معذرت کے ساتھ۔ وسلام
محترم آویزصاحب ۔
آپ کی رائے کا شکریہ ۔ لیکن بھائی میرا تو افسانہ ہی ایک دیہاتی ایم این اے کا احاطہ کرتا ہے یہ کسی جدید اور ماڈرن ایم این اے پر کیوں ہوتا ؟‘ جیسا کہ آپ نے لکھا ہے ۔ پھر تو یہ خود وزیر اعظم اور صدر مملکت پر بھی ہو سکتا تھا ۔ لیکن ایسا نہیں ۔ آپ کی خدمت میں وہی کچھ پیش کیا جو تھا اور جو میری نظر میں ہونا چاہیے تھا ۔ آپ نے اسے پنجابی فلموں سے مطابقت دی ہے یہ اپنی اپنی سوچ ہے ۔ بہرحال میں آپ کی توجہ کا ممنون ہوں اور اسے بڑے احترام سے دیکھتا ہوں ۔ معذرت کی ضرورت ہی نہیں ۔ایسے کاموں میں ایسا تو ہوتا ہی ہے ۔ وسلام ۔
کہانی اپنی پلاٹ کی وجہ سے انفرادیت نہیں رکھتی ھے لیکن بٰنت میں عمدہ ھے ۔کردار سازی بھی خوب رھی ۔سب سے عمدہ کردار لوسی سید کا تھا جو اپنی نام کے مطابق کبھی لوسی بن کر ماضی کی حسین شاموں کو یاد کرتی ھے تو کبھی سید شامل ٍنام ھونے سے پتی ورتہ بن جاتی ھے ۔ پورے افسانے میں لوسی سید نے اپنے طبقے اور ذہنیت کو خوب نبھایا اور کہی بھی کردار کی بے حسی کو کم نہیں ھونے دیا ۔ نئی نئی روشنیاں آنکھوں کو ایسے ھی اندھا کر دیتی ھے جیسے ایم این اے صاحب کا حال ھوا اور انجام بھی متوقعہ ھی تھا اور اٰن کی پہلی بیگم کی خاموشی اٰن کے خاندانی ھونے کی عمدہ دلیل تھی ۔ سادگی سے لکھا ھوا سادہ لفظوں میں بنا ھوا یہ افسانہ قارئین کے لیئے اچھا تحفہ ھے ۔
آویز جرمنی نے لکھا؛
March 26, 2008 at 4:39 am
محترم نصر ملک۔
آپ کا افسانہ پنجابی فلموں سے کافی ملتا جلتا ہے ۔
میرا خیال ہے آج کے دور میں ۔حویلی کا جٹ۔ مولا جٹ۔وحشی جٹ۔ ایم این اے جٹ۔ وغیرہ جیسی فلمیں ، و افسانے اور ان کے کردار ایسے نہیں رہے ۔کہ یہ لوگ تھرڈ کلاس رنڈیوں کے کوٹھوں پر جائیں یا وہ آئیں ۔
آج کے دور کے ایم این اے ۔
عیش و عشرت عیاشی ۔ سردرد کا علاج ۔ تعلیم ۔ کاروبار ۔ بنک اکاونٹ ۔ شاپنگ ۔کوٹھی بنگلے ۔ بنانے کے لئے یورپ کا رخ کرتے ہیں ۔افسانہ کسی جدید اور ماڈرن ایم این اے پر ہوتا تو اور بھی اچھا ہوتا۔ یہ میری ذاتی رائے ہے معذرت کے ساتھ۔ وسلام
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
March 27, 2008 at 1:56 am
محترم آویزصاحب ۔
آپ کی رائے کا شکریہ ۔ لیکن بھائی میرا تو افسانہ ہی ایک دیہاتی ایم این اے کا احاطہ کرتا ہے یہ کسی جدید اور ماڈرن ایم این اے پر کیوں ہوتا ؟‘ جیسا کہ آپ نے لکھا ہے ۔ پھر تو یہ خود وزیر اعظم اور صدر مملکت پر بھی ہو سکتا تھا ۔ لیکن ایسا نہیں ۔ آپ کی خدمت میں وہی کچھ پیش کیا جو تھا اور جو میری نظر میں ہونا چاہیے تھا ۔ آپ نے اسے پنجابی فلموں سے مطابقت دی ہے یہ اپنی اپنی سوچ ہے ۔ بہرحال میں آپ کی توجہ کا ممنون ہوں اور اسے بڑے احترام سے دیکھتا ہوں ۔ معذرت کی ضرورت ہی نہیں ۔ایسے کاموں میں ایسا تو ہوتا ہی ہے ۔ وسلام ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
March 27, 2008 at 6:02 am
کہانی اپنی پلاٹ کی وجہ سے انفرادیت نہیں رکھتی ھے لیکن بٰنت میں عمدہ ھے ۔کردار سازی بھی خوب رھی ۔سب سے عمدہ کردار لوسی سید کا تھا جو اپنی نام کے مطابق کبھی لوسی بن کر ماضی کی حسین شاموں کو یاد کرتی ھے تو کبھی سید شامل ٍنام ھونے سے پتی ورتہ بن جاتی ھے ۔ پورے افسانے میں لوسی سید نے اپنے طبقے اور ذہنیت کو خوب نبھایا اور کہی بھی کردار کی بے حسی کو کم نہیں ھونے دیا ۔ نئی نئی روشنیاں آنکھوں کو ایسے ھی اندھا کر دیتی ھے جیسے ایم این اے صاحب کا حال ھوا اور انجام بھی متوقعہ ھی تھا اور اٰن کی پہلی بیگم کی خاموشی اٰن کے خاندانی ھونے کی عمدہ دلیل تھی ۔ سادگی سے لکھا ھوا سادہ لفظوں میں بنا ھوا یہ افسانہ قارئین کے لیئے اچھا تحفہ ھے ۔