Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

ساحل سمندر

ساحل سمندر پر کیوں اکثر میں سوچتی ھوں

ٹھنڈی اور گیلی ریت پر

جب سمندر کی لہریں پاوں سے ٹکراتی ھیں

تب کیوں خیالوں میں تم آجاتے ھو

اور میری یہ سوچیں کہتی ھیں مجھے

کاش کبھی یوں بھی ھو

پورے چاند کی وہ رات ھو

اورتم میرے ساتھ ھو

رات یوں ھی تھم جائے

ایسے میں صبح نا ھونے پائے

پھر ناجانے کیوں تم

بے چین کر کے میری دھڑکنوں کو

لہروں کے ساتھ واپس پانی میں مل جاتے ھو

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

26 تبصرے »

  1. مسافر BAHRAIN نے لکھا؛

    March 25, 2008 at 8:45 pm

    واہ۔ خوبصورت۔

  2. شعیب صفدر PAKISTAN نے لکھا؛

    March 25, 2008 at 11:07 pm

    خوب!

  3. علی شاہ نے لکھا؛

    March 26, 2008 at 3:57 am

    واہ کیا کہنے

  4. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    March 26, 2008 at 6:11 am

    ویسے علی آپس کی بات ھے نظم میں “ اٰس کو “ آخر میں “ کسی کو “بے چین کر کے واپس نہیں جانا چاھئیے تھا، بھئی یہ بری بات ھے ۔ تانیہ اگلی دفعہ اٰسے واپس نا جانے دینا ۔۔۔۔

  5. زرقا مفتی نے لکھا؛

    March 26, 2008 at 9:07 am

    بہت اچھا خیال ہے
    لکھتی رہئے اور خوش رہئے

  6. انور ظہیر رہبر جرمنی GERMANY نے لکھا؛

    March 26, 2008 at 3:29 pm

    بہت خوبصورت نظم ہے، خدا کرے ہو زور قلم اور زیادہ

  7. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 26, 2008 at 8:39 pm

    بہت شکریہ مسافر جی علی جی نگہت جی زرقا جی اور انور جی اس کے ساتھ میں انور جی کو خوش آمدید کرتی ھوں اپنی محفل کے تمام دوستوں کی طرف سے.اور اگر یہ اپ کی پہلی دفعہ نہیں ھے تو بھی خوش رہیں

  8. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 26, 2008 at 8:40 pm

    نگہت ویسے یہ آپس کی بات ھے .وہ ھے کون جس نے ایسا کیا.

  9. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    March 26, 2008 at 9:43 pm

    سلام تانیہ
    ایک بار نظم پڑھی دوسری بار پڑھی مگر سمجھ نہیں آیا وہ کون ھے جو لہروں کے ساتھ مل جاتا ھے سب کو نہیں بتانا میرے کان میں بتا دو

  10. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 27, 2008 at 2:12 am

    یہی تو کمال ھے اس نظم کا کہ کہی بار پڑھنے کے بعد بھی سمجھ نہیں آتی. ًمیں نے بھی کہی بار پڑھا ھر بار ایک نیا انداز لیے ھوئے تھی یہ نظم اس لیے تم اس کو
    ہ 2 بار اور پڑھ کے دیکھ لو اگر پھر بھی سمجھ نا آئےتو لہروں میں شامل ھو جانا جواب مل جائے گا. مجھے بھی بتانا ویسے .میری بچی. تم کہاں گم ھو آجکل کوئی آتا پتا نہیں ھے. اب تو میں نے بھی کوئی خبر نہیں لینی تمھاری.

  11. علی شاہ نے لکھا؛

    March 27, 2008 at 4:27 am

    نگہت جی
    سمندر کنارے تو کیکڑے ہی ہوتے ہیں، تانیا جی اگی نظم میں واضع طور پر لکھیں تاکہ سب کو تشویش نا ہو۔ ویسے نظم خوب کہی آپ نے۔

  12. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    March 27, 2008 at 5:41 am

    میرے مالک نظم کا پوسٹ مارٹم ھو گیا لیکن ابھی تک تانیا کا تھیلے سے “ سپوٹ “ یعنی بلاً باھر نہیں آیا خیر علی کی کیکڑے والی ، بات دل کو لگتی ھے ویسے ساحل کے پاس “جیلی فش “ بھی ھوتی ھیں جو چھو جائے تو بہت ھی بے چین کرتی ھے بلکہ جلن بھی پیدا کرتی ھے سو پیارے بچوں دھیان سے ۔
    سعدیہ آج کل کہاں ھو جی ۔ شکر کرو تانیا نے تھمارے وارنٹ نہیں نکالے ورنہ پوچھو مجھ سے وارنٹ کے بعد پیشیاں کیا ھوتی ھیں اور کیسی جرح ھوتی ھے اور پھر ۔۔ اب آتی جاتی رہنا ۔ ھاں یاد آیا تانیا میرے ساتھ ابھی تک تو کچھ نہیں ھوا کہ مجھے ساحلوں سے کوئی دلچسپی ھے ھی نہیں سو حادثہ چونکہ آپ کے ساتھ ھوا ھے سو آپ ھی کو پتہ ھو گا کہ وہ کون تھا اور اب یہ میں ھی نہیں خلق خدا بھی پوجھ رھی ھے جی ۔۔

  13. علی شاہ نے لکھا؛

    March 27, 2008 at 6:05 am

    لڑکیوں!
    یہ آپس کی باتیں ٹیلی فون پر کیا کرو، سنا ہے بلاگز کے بھی کان ہوتے ہیں۔

  14. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    March 27, 2008 at 6:22 am

    تجویز انتہائی عمدہ ھے علی ، دل کو لگی ، اب لندن کی صبح کا انتظار کیسے ھو

  15. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 27, 2008 at 6:22 pm

    چلو اس نظم کے بہانے ھی سہی کچھ بوریت تو دور ھوئی. اپ لوگوں کے چہروں پر کچھ ہنسی تو آئی. چاہئےوہ نگہت کی جلی فش (جیلی) کھاکر یا چھو کر بےچین تو ھوئے اور اس کے ساتھ علی کے کیکڑے ھوں. تو پھر کیا بات ھے. علی تم کو منع کیا تھا کیکڑے کھانا بند کر دو لیکن نہیں تم نے کون سی میری بات مانی ھے.آج بھی ساحل سمندر کیکڑے پکڑنے گیا ھوا ھے. تو ایسے میں خواب میں بھی تو وہی نظر آیں گے . اور ہاں سعدیہ کی سمجھ کو کیسے رھنے دوں جو اجکل وہ استمال میں ھی نہیں ھے.سعدیہ زنگ لگ جائے گا. برسات آنے والی ھے . سو جلدی جلدی اپنی عقل کے شیشے کو صاف کرو.اور کوئی اچھی سی نظم لکھ لو. لیکن شرط یہ ھے کہ نظم سمجھ سے باھر ھو.کیا سمجھی

  16. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    March 27, 2008 at 6:32 pm

    جلی ھوئی فش کھا کر جلن ضرور ھوتی ھے لیکن ۔۔۔۔ ھا نا شکر کسی بہانے ھنسے تو ۔۔اگلی نظم کا انتطار جاری ھے دوستوں جلدی کرو ۔۔

  17. انور ظہیر رہبر جرمنی GERMANY نے لکھا؛

    March 27, 2008 at 9:00 pm

    تانیہ جی آپ نے ہمیں خوش آمدید کہا اس کے لئے میں آپ کا شکرگزار ہوں، میں تو ابھی بالکل نیا ہوں آپ لوگوں کی خوبصورت محفل میں۔ خدا آپ کو بھی صدا خوش رکھے۔۔۔۔۔۔امین

  18. علی شاہ نے لکھا؛

    March 28, 2008 at 2:02 am

    تانیا جی
    ساحل پر گیا تھا، کیا دیکھثا ہوں کہ سارے کیکڑے اور مچھلیاں مرے پڑے ہیں، مچھیروں نے بتایا کہ ایک حسینہ کے پاؤں چھونے گئے تھے، ٹھاہ سے مر گئے۔

  19. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 28, 2008 at 2:19 am

    اچھا تو وہ حسینہ گولی مار ھو گی یا مچھر مار پوری رپورٹ دیا کرو.وہ پاوں چھونے سے نہیں پاوں کی بو سے مرے ھیں جو تم لے کر گے تھے . اگلی دفعہ پاوں دھو کر جانا ،

  20. علی شاہ نے لکھا؛

    March 28, 2008 at 3:22 am

    میرے پاؤں میں پوائزن ہے، پرفیوم والا۔ مرے تو وہ ایک شاعرہ کے دل کی دھڑکنوں کی بیچینی کی وجہ سے ہیں۔
    ہوا کچھ یوں کہ شاعرہ ” ساگر کنارے، دل یہ پکارے” گا رہی ثھیں، کہ کیکڑے نے جواب دیا “تو جو نہیں تو میرا کوئ نہیں ہے” ، شاعرہ کا دل گانے والے کیکڑے کو دیکھ کر، مارے خوف کے بیچین ہوگیا۔ اب جو سیلف ڈیفنس میں شاعرہ نے اپنا جوتا کیکڑے کو مارا ہے تو جوتے میں پڑی جراب نے اپنا کام دکھایا، کیکڑے تو کیکڑے، مچھلیاں بھی دھھک دھینادن کرتی خالقِ حقیقی سے جا ملی۔

  21. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    March 28, 2008 at 9:25 pm

    سلام تانیہ ارو نگہت
    کیسے ھیں سب لوگ ۔۔ میں تھوڑا سا بزی تھی ۔۔ پھر کمپیوٹر خراب ھو گیا ۔۔ اب واپس آئ ھوں تو محفل میں ھو طرف مچھلیاں اور کیکڑے بکھرے ھوئے نظر آ رھے ھیں ۔۔۔ علی ساحل سمندر پہ کون جرابیں پہن کر جاتا ھے وہ بھی پوئزن والی ۔۔۔ کچھ تو بے زبان مچھلیوں پر رحم کرو

  22. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 28, 2008 at 9:35 pm

    اچھا ھوا سعدیہ تم واپس آگیی ورنہ مجھے شک ھو چلا تھا بلکہ نگہت اور علی کو پورا پورا یقین تھا.کہ جتنی بڑی بڑی خفیہ اجنسیاں ھیں ان میں تمھارا ھی ھاتھ ھے. اور ہاں تمھارے لیےشخصیت کو پھر سامنے کر دیا ھے .اپنا تعارف دو تاکہ سب کو یقین ھو جائے تہ وہ تم ھی ھو

  23. علی شاہ نے لکھا؛

    March 29, 2008 at 3:29 am

    ویلکم بیک سعدیہ جی

  24. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 29, 2008 at 3:40 am

    انور جی اب اپ نیے نہیں ھیں ھماری اس محفل میں آتے جاتے رھا کریں

  25. اکمل سد UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    March 31, 2008 at 6:30 pm

    تانیہ رحماں
    تم ایسا پانی کا قطرہ ہو جو سمندر میں مل کر طویل عمر پاتا ہے عمدہ لکھا ہے

  26. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 31, 2008 at 10:05 pm

    اکمل جی بہت شکریہ.اللہ تعالی اپ کو خوش رکھے.

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو