مشکل میں دوستوں کے مشورے
دوستوں مشکلوں کے حل کبھی نکل آتے ھیں اور کبھی حل کی لیئے دوستوں سے مشورے کرنے پڑ جاتے ھیں ، یقین جانیئے کبھی دوستوں کو مشورے بھی سمجھ نہیں آتے کہ کیا دیئے جایئں ۔ مثلاً یہی دیکھیئے کہ ایک دوست نے خوشی خوشی اپنے دوست سے پوچھا یار سنا ھے تمھاری بیوی نے گھر کی آرائش کا کورس مکمل کر لیا ھے ۔ دوست نے آہ بھر کر کہا ، ھاًں یار تم نے ٹھیک سنا ھے اور اب وہ مجھ سے چھٹکارہ پانا چاھتی ھے کیونکہ میں پردوں اور فرنیچر سے میچ نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔ اب بھلا اس مشکل کا کیا حل ھو ۔۔۔۔؟؟؟ لیکن رکیئے حل نکالنے والے ایسے بھی ھوتے ھیں اور حل کبھی خود بھی سوچنے پڑ جاتے ھیں بلکل اسی طرح سے جیسے ایک لڑکا “سی یو سون “ کے کارڈ لینے بک شاپ پر گیا اور دوکاندار سے مخاطب ھوا کہ “جناب آپ کے پاس سی یو سون کے کارڈ ھیں ؟؟ ۔ سیلز مین بڑی محنت اور توجہ سے کارڈوں کے انبار سے مطلوبہ کارڈ نکالنے میں کامیاب ھو ھی گیا اور بولا ۔ جی ۔۔۔ یہ لے لیجیئے اس پر لکھا ھے کہ“ دنیا کی اٰس واحد لڑکی کے لیئے جس کو میں سب سے زیادہ مٍس کرتا ھوں “ ۔ لڑکا بے حد خوش ھو کر بولا “ ٹھیک ھے ایسے پانچ کارڈ دے دیجیئے “ دوستوں برے وقت کا کیا ھے کسی پر بھی اٍس دوکاندار کی طرح آ سکتا ھے لیکن مشورہ یا حل بتاتے ھوئے خود کو دوکاندار ھی کی طرح ھمدرد اور خیرخواہ بھی سمجھیئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔































سعدیہ سحر نے لکھا؛
March 28, 2008 at 9:29 pm
نگہت دوستوں سے مشورہ کبھی کبھی کافی مہنگا پڑتا ھے آجکل میری ایک کزن بیمار ھے ۔۔ ھر جاننے والا نیا واقعہ سناتا ھے ھر کوئ نئ تشخیص کرتا ھے اپنا علاج بتاتا ھے ۔ اتنی خوفناک بیماریوں سے ملاتے ھیں ۔۔ کے مریض کو اپنے سامنے موت کا فرشتہ نظر آنے لگتا ھے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
March 29, 2008 at 2:13 am
سعدیہ تم مت جانا کزن کے گھر بےموت مر جائے گی بچاری
علی شاہ نے لکھا؛
March 29, 2008 at 2:20 am
مجھے ایک مشورہ چاہیئے، سوچتا ہوں کس دوست کی مدد لوں
نگہت نسیم
نے لکھا؛
March 29, 2008 at 2:27 am
میرے علاوہ کسی سے بھی لے لو علی ۔ میری فیس اور مشورے دونوں ھی کوئی افورڈ نہیں کر سکتا
تانیہ رحمان نے لکھا؛
March 29, 2008 at 2:28 am
نگہت مشورہ لینا ھو تو بس مجھ سے لیا کرو تم تو جانتی ھو میرا مشورہ کتنا کارآمد ھوتا ھے .اور لوگوں کو برسوں یاد بھی رہتا ھے.اب اپنی سعدیہ کو ہی لے لو.
نگہت نسیم
نے لکھا؛
March 29, 2008 at 2:50 am
سعدیہ واقعی ایسا ھی ھوتا ھے پر یقین کرو میرا پرابلم اور ھے اور وہ یہ ھے کہ کبھی کسی کی مزاج پرسی کو چلی ھی جاؤں اور اگر کوئی مشورہ کبھی دے ھی بیٹھوں تو مریض تک اطمینان سے مبحت سےکہہ دیتے ھیں کہ آپ کو کیا پتہ ؟
نگہت نسیم
نے لکھا؛
March 29, 2008 at 3:07 am
تانیا کے مشوروں کی تو میں بھی قائل ھوں سعدیہ ۔ یقین کرو بندے کی بس جہاں سے گزرنے ھی کسر رہ جاتی ھے لیکن مشورے کے سعد ھونے میں شک نہیں ۔
آویز جرمنی نے لکھا؛
March 29, 2008 at 5:25 am
بخدمت جناب محترم ڈاکٹر نگہت نسیم۔
السلام علیکم۔
گاڑی خریدنا، مکان خریدنا فروخت کرنا۔منگنی بیاہ شادی طلاق وغیرہ ۔انسان کسی نہ کسی سے مشورہ تو کرتا ہی ہے ۔کام چھوٹا ہو یا بڑا ۔کسی سے مشورہ کرلینا اسی میں بہتری ہے ۔
مشورے کی حکمت یہ ہے کہ انسان کی عقل کا توازن رہتا ہے اور دوسروں سے لی ہوئی رائے اور تجربہ سے انسان خود بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور آئندہ نسل کے لئے بھی فائدہ ہی فائدہ ہے ۔
ایسے انسان بھی ہیں جو کسی کا مشورہ لیتے بھی نہیں اور قبول بھی نہیں کرتے ۔ضد پر قائم رہتے ہیں اورخسارے میں رہتے ہیں ۔
اگر ایسے ضدی من مانی کرنے والے لوگ بھی نہ ہوں تو پھر مشورے کی اہمیت کا بھی پتا نہ چلے ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
March 29, 2008 at 5:27 am
بلکل سچ کہا آویز جی سو فیصد درست
اجمل
نے لکھا؛
March 29, 2008 at 9:45 am
بزرگ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی انسان نہ ملے تو اپنی بکری ہی سے مشورہ کر لینا بہتر ہوتا ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا فرمان ہے ۔ و شُوریٰ بَینَکُم ۔ ترجمہ ۔ آپس میں مشورہ کر لیا کرو ۔ لیکن میرا پچھلے چالیس سال کا تجربہ ہے کہ ہمارے مُلک میں مُفت مشورہ کوئی کم ہی مانتا ہے ۔
سعدیہ سحر صاحبہ
مریض کیلئے سوائے باقاعدہ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار طبیب کے کسی اور کے مشورہ کو اپنانے سے قبل پانچ چھ بار پرکھ لینا چاہیئے ۔ معاف کیجئے گا میرے تجربہ کے مطابق کسی مریضہ کی عیادت پر آنے والی خواتین پر مریضہ کے سامنے بولنے پر مکمل پابندی ہونا چاہیئے ورنہ مریضہ کے صحتمند ہونے کے چانسز معدوم ہو جائیں گے ۔
علی شاہ صاحب
آپ مجھ سے بے لوث مشورہ لے سکتے ہیں ۔ میرے مشورہ سے اگر آپ کو فائدہ پہنچے گا تو مجھے بہت زیادہ فائدہ اللہ الرحمٰن الرحیم دے گا
نگہت نسیم
نے لکھا؛
March 29, 2008 at 9:47 am
واہ اجمل جی آپ نے تو سب ھی کے مسائل چٹکی بجاتے حل کر دیئے۔ خوش رھیئے ۔
اجمل
نے لکھا؛
March 30, 2008 at 4:05 pm
نگہت نسیم صاحبہ
میرا اندازہ ہے کہ آپ تجربہ کار طبیبب ہیں اسی لئے میری بات آپ کو پسند آئی ہے ۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 1, 2008 at 8:19 pm
مجھے مشورہ چاہئے جلدی کوئی میری مدد کر دے. تاعمر دعا دوں گی.