بنیئے اور بقالے
شہ سے پہلے یوں کہا ں یہ شہ کے بالے جا ئیں گے
خود سے جائیں گے کہاں یہ تو نکالے جا ئیں گے
ان کی کرتوتوں کے دفتر جب کھنگا لے جا ئیں گے
لاد کربنیا چلے گا ساتھ میں سارے بقالے جا ئیں گے
نوٹ ۔ ایک مشیر کے استعفیٰ کی خبر اور تردید سے متاثر ہوکر































اجمل
نے لکھا؛
March 29, 2008 at 9:47 am
درست لکھا آپ نے مگر ماضی کا تجربہ یہ ہے کہ ان میں سے کچھ گرگٹ رنگ بدل کر نئے حکمرانوں سے چپک جائیں گے ۔ اللہ ان سے ہماری خلاصی کروائیں ۔
خاورچودھری
نے لکھا؛
March 29, 2008 at 12:08 pm
خوب فرمایا آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاتوں کے بھوت باتوں سے کہاںمانتے ہیںاورجن کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے ان کے رفقائے کار میںوہ بھی شامل ہیںجنھیں باقاعدہ “رو سیاہ“ ہونا پڑا تھا
شمس جیلانی
نے لکھا؛
March 31, 2008 at 4:21 am
محترمی اجمل صاحب اورجناب خاورچودھری صاحب۔پسندیدگی کا شکریہ۔
خدشات تو ہیں مگر اس مرتبہ تین ظاقتیں ایک ساتھ نگرانی کر رہی ہیں ایک تو میڈیا دوسرے وکیل اور تیسرے عوام جو سب سے بڑی طاقت ہیں لہذا امید ہے کہ چیک انڈ بیلینس رہے گا۔
اللہ سے دعا فر ما ئیے کہ فرعون کی طر ح اللہ موجودہ دور کےفرا عین سے نجا ت دے۔ شمس جیلانی
خاورچودھری
نے لکھا؛
April 1, 2008 at 4:23 pm
آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورخوشی کی بات وہی ہے جو آپ نے بیان کی۔