Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

اے ساحل کی ھوا

دوستوں سعدیہ کی نظم اپ سب کے لیے حاضر ھے۔
یہ تو ھی بتا
تونے کتنے لوگوں کو منزل پہ پہنچتے دیکھا ھے
کتنے سفینوں کو سا حل پہ ڈوبتے دیکھا ھے
کتنے دلوں کو کھلتے دیکھا ھے
کئ پیار کرنے والوں کو ملتے دیکھا ھے
کتنے گھروندں کو کتنے خوابوں کے محلوں کو
سمندر کی لہروں میں بکھرتے دیکھا ھے
ھجر کی آگ میں لوگوں کو جلتے دیکھا ھے
وصل کے لمحوں میں دلوں کو پگھلتے دیکھا ھے
چاندنی راتوں میں جذبوں کو سسکتے دیکھا ھے
لہروں میں آنسوؤں کو گرتے دیکھا ھے
کتنے لوگوں کو بے موت مرتے دیکھا ھے
حوصلوں کو ٹوٹ کے سمبھلتے دیکھا ھے
کئ آرزؤں کو مچلتے دیکھا ھے
میں نے تو فقط ایک دل کو ٹوٹتے دیکھا تھا
اس دن سے میرے لبوں سے ھنسی روٹھ گئ ھے
نمی میری آنکھوں میں ٹھر گئ ھے
خوشی میرے دل کا رستہ بھول گئ ھے
تو انتا کچھ دیکھنے کے باوجود
اتنی خوش کیسے ھے
اتنی شوخ و چنچل کیسے ھے
کبھی کسی زلف کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی ھے
کبھی کیسی آنچل کے ساتھ مل کر لہراتی ھے
کبھی لہروں کے ساتھ مل کر ھنستی گاتی ھے
اتنے رازوں کو دل میں چھپائے ھوئے
تو مسکراتی کیسے ھے
اے ساحل کی ھوا کچھ تو ھی بتا
اے ساحل کی ھوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

18 تبصرے »

  1. علی شاہ نے لکھا؛

    March 29, 2008 at 3:39 am

    سنو سنو سنو۔۔۔۔۔
    القمر پر سونامی کی آمد آمد ہے، پہلے تانیا کی بیچین لہریں اور اب سعدیہ جی ساحلوں کی ھوا۔۔۔۔۔۔

  2. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    March 29, 2008 at 6:12 am

    میرے خدا یہ کیا ھو رھا ھے ،کیا واقعی سونامی ایک بار پھر آنے والا ھے ۔۔

  3. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    March 29, 2008 at 6:15 am

    تانیا اور سعدیہ کچھ وقفے کے بعد ساحل اور لہروں کی بات کر لیتے آپ لوگ ۔ اب دیکھو ھم سب کتنے پریشان ھو رھے ھیں لیکن آپس کی بات ھے ساحل بھی اچھا ھے اور لہریں بھی اچھی تھی ۔

  4. اجمل PAKISTAN نے لکھا؛

    March 29, 2008 at 9:19 am

    میں شاعر تو نہیں ہوں ۔ یونہی الفاظ کا توڑ جوڑ کر لیتا ہوں ۔ ثانیہ رحمان صاحبہ کی نقل کردہ سعدیہ سحر صاحبہ کی نظم سے متاثر ہو کر جو الفاظ ذہن میں اُبھرے وہ حاضر ہیں
    میں جب دیکھتا ہوں ساحل کی ہوا
    اِک نئی صبح کا سندیسہ ہے ملتا
    کہ اب رُخ بدل چُکی ہے بادِ سموم
    اب زمیں سے نئی کونپلیں پھُوٹیں گی
    جو پہلے کلیاں پھر وہ پھُول بنیں گی
    میرے وطن پہ ایک بار پھر بہار آئے گی
    مسرت کی لہر پھر ہر طرف دوڑ جائے گی

  5. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 29, 2008 at 7:21 pm

    سعدیہ ویسے ایک بات بتاو. ھوا بولتی بھی ھے. تھماری ھوا کا بولنا اچھا لگا. اور بہت خوب اجمل جی .

  6. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    March 29, 2008 at 9:54 pm

    نگہت سمندر کی لہریں اور ساحل کی ھوا کے پاس بہت سے راز ھوتے لوگوں کی کہانیاں لوگو

  7. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    March 29, 2008 at 10:04 pm

    نگہت سمندر کی لہریں اور ساحل کی ھوا کے پاس بہت سے راز ھوتے لوگوں کی کہانیاں لوگوں کے دکھ سکھ جو وہ ان سے کرتے ھیں وہ ھر راز کو اپنے دامن میں چھپا لیتے ھیں میرے بھی بہت سے راز بہت سی باتیں جو میں کسی سے نہیں کرتی وہ ساون چاندنی ھوا اور بھتے جھرنوں کے پاس ھیں ….
    تانیہ لہریں باتیں کر سکتیں ھیں ھوا بھی کر سکتی ھے اب ساحل پہ جانا تو سننا وہ سرگوشیوں میں تمیں کیا کہتی ھے

  8. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    March 29, 2008 at 10:15 pm

    اجمل جی آپ کو پتا ھی نہیں آ پ شاعر بھی ھیں بہت خوب
    علی کیوں لوگوں کو ڈرا رھے ھو القمر پہ سونامی آیا بھی تو بلاگز کا آئے گا یا سب کے تبصروں کا ……..

  9. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 30, 2008 at 2:26 am

    سعدیہ میں سمندر پر ضرور جاتی ھوں اور مجھے اچھا بھی بہت لگتا ھے.جب لہریں شور مچاتی ھوئی کنارے سے ٹکرا کرواپس پانی میں مل جاتی ھیں.تب میں بہت غور سے سنتی ھوں.ناتو مجھے نصیبو لال کا اور نا ھی عطاءاللہ کا کوئی گانا سنائی دیتا ھے. کیونکہ ان دونوں کے لیے دکھی ھونا ضروری نہیں .اور جہاں تک راز کی بات ھے تو آج مجھے پتا چلاتم باتین کرتی کرتی خاموش کیوں ھو جاتی ھو .راز کی باتیں تم نے لہروں اور ھوا سے کرنی ھوتی ھیں

  10. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    March 30, 2008 at 9:41 am

    اجمل جی آپ ھاں بھی ساحل کی ھوا اچھی تھی ۔۔ دوستوں کیا ھو گیا ھے انسانوں کی خاموشیوں کو بھی سنا کرو وہ بھی بہت کچھ کہتی ھیں ، اٰس میں بھی ان گنت راز ھوتے ھیں ، دکھ سکھ بولتے ھیں ۔ ان کے اندر بھی ایک نہیں کئی سونامی ایک ساتھ باھر آنے کو رستہ ڈھونڈھتے ھیں ۔۔ مجھے ساحلوں کی ھواؤں سے کہی زیادہ انسانوں کی خامشیاں اچھی لگتی ھیں اور مجھے ان کی ھی زبان میں اٰن سے باتیں کرنا اچھا لگتا ھے ۔

  11. علی شاہ نے لکھا؛

    March 30, 2008 at 10:01 am

    نیگھت جی

    انسانی خاموشی سننے کیلئے شہر خموشاں کا رخ کرنا پڑے گا۔ ۔ ۔ کیا آپ سب مجھ سے بہت تنگ ہیں؟

  12. اجمل PAKISTAN نے لکھا؛

    March 30, 2008 at 4:01 pm

    نگہت نسیم صاحبہ
    آپ مجھ سے کیا پوچھتی ہیں ۔ میں نے بچپن میں کشمیر کے اُونچے پہاڑوں پر چشموں کے بہتے پانی کے دل آویز نغمے اور خوش کُن ہواؤں سے لہراتے درختوں کی موسقی سُنی ہے ۔ افریقہ کے ریگستان میں تُند ہواؤں سے اُڑتی ہوئی ریت کی چیخیں بھی سُنی ہیں ۔ اور ہر صبح اور شام کو پرندوں کی لاجواب موسیقی اور نغمے ساری عمر سُنتا رہا ہوں ۔کھیتوں کے پاس کنویں کے راہٹ کی موسیقی سے بھی آشنا ہوں ۔ سمندر کے کنارے بیٹھ کر گھنٹوں لہروں کو دیکھنا اور ان کی پیدا کردہ موسیقی کا تجزیہ کرنا بھی میرا شغف رہا ۔ عام طور پر لہریں آدھے انچ سے چند فٹ تک کی ہوتی تھیں ۔ ایک بار بڑی ہولناک گونج سُنائی دی ۔ میں نے سمندر کی طرف دیکھا تو ایک پہاڑ ساحل کی طرف آ رہا تھا ۔ دو بچوں کو میں نے اُٹھایا ایک کو میری بیوی نے اور ہم بھاگ کر سیڑھیاں چڑھ گئے پھر لہر ہمارے قدموں سے کچھ نیچے پہاڑ کے ساتھ ٹکرائی ۔ بیس فٹ اُونچی لہر تھی ۔ یہ میڈیٹرینین کے ساحل کا واقعہ ہے

    لیکن وقت وقت کی بات ہے ۔ اب تو ہر سرسراہٹ میں آہوں اور سِسکیوں کی آواز سنائی دیتی ہے ۔

  13. اکمل سد UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    March 31, 2008 at 6:36 pm

    سونامی نہیں احباب
    یی تو نکہت اور تانیہ شبنم کہ وہ قطرے ہیں جن کو اگر ہم ایک بوتل میں بند کر کے سمندر کے پانی میں شامل کردیں تو یہ امر ہو جایئں گی

  14. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    April 1, 2008 at 3:06 am

    اکمل جی یہ اپ نے میری اور نگہت کی تعریف کی ھے .یا ھم دونوں کو بوتل کا جن سمجھا ھے،کیونکہ شبنم کے قطرے کافی موٹے موٹے ھیں

  15. اکمل سد UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    April 2, 2008 at 12:49 am

    تانیہ بی
    بوتل کے جن نہیں بلکہ میں نے حقیقت بیان کی ہے بلکہ سونامی کے چند قطروں کی پحچان کروائی ہے اگر یہ قطرے موٹے ہیں تو رب وارث ہے اور جہان تک میں جانتا ہوں کہ شبنم کی عمر تو بہت کم ہوتی ہے اور سمندر کی عمر طویل جد کا کسی کو اندزہ ہی نہیں

  16. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    April 4, 2008 at 1:57 am

    تانیہ الہ دین کے چراغ میں جن تھا جن کو بوتل میں کس نے قید کیا ….اور میں نے تم سے راز کی باتیں کرنی تھیں مگر تم لہروں سے باتیں کرنے میں مصروف تھی میں نے سوچے میں ساحل کی لہروں کو اپنا راز دان بنا لیتی ھوں …

  17. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    April 4, 2008 at 2:29 am

    سعدیہ تم بس میرا انتظار کیا کرو.جب میں کچھ لگاوں تو تم بھی اپنا امتحانی پرچہ لے آیا کرو.ویسے پہلا سوال تو مجھے ھی حل کرنا ھوتا ھے.

  18. What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » ساحل کی ہوا UNITED STATES نے لکھا؛

    April 8, 2008 at 12:47 pm

    […] آن لائین پر ثانیہ رحمان صاحبہ نے سعدیہ سحر صاحبہ کی ایک نظم نقل کی ۔ اسے پڑھتے کہ ساتھ ہی میرے ذہن میں کچھ الفاظ […]

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو