Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

طاؤس و رباب آخر

“ دی آکانومسٹ ٹائمز ” کے مطابق ‘ پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی بھارتی فلم سٹار ایشوارائے اور ملکہ موسیقی لتا منگیشکر دونوں کو دل و جان سے چاہتے اور پیار کرتے ہیں ۔
پاکستان کے ایک نجی ٹیلیویژن کو دیئے گئے سید یوسف رضا گیلانی کے ایک انٹرویو کے حوالے سے ‘ دی آکانومسٹ نے اُن سے ایک بیان منسوب کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ” میں جب جیل میں تھا تومیں لتا منگیشکر کے سریلے گیت سننے کے علاوہ وہاں اپنے لیپ ٹاپ کمپیوٹر پر ایشوارائے کی تمام فلمیں دیکھا کرتا تھا۔
سید یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ” میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں بہت ہی زیادہ ،، رومانٹک ،، ہوں ۔
اسلامی جمہوریہ پاکستانی کے جمہوری وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا سرعام یہ اعتراف مبصرین کے نزدیک پاکستانی عوام کے ان حوصلوں اور جذبوں کو مزید تقویت دے گا اور انہیں دو آتشہ بنا دے گا جو وہ بھارتی اداکاراؤں کے لیے اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور امید کی جانی چاہیے کہ اب پاکستان کی سرکار اپنے ہاں بھارتی فلموں کی عام نمائش کی نہ صرف اجازت دے دے گی بلکہ لتا منگیشکر اور ایشوارائے جیسی عظیم فنکاراؤں کو باقاعدہ سرکاری طور پر ایوان وزیر اعظم میں مدعو کرکے محفل موسیقی منعقد کرائے گی اور اس کی صدارت کے لیے مولانا فضل الرحمٰن جیسے سکہ بند ”دیو بند ” کو اعزاز بخشے گی ۔ تاکہ انھیں بھی پتا چلے کہ ” دیو بند ” کے ” دیو ” کے ساتھ ساتھ بھارت میں اور کیسی کیسی ” دیویاں ” پائی جاتی ہیں بس انہیں پہچاننے والی آنکھ چاہیے ۔ کیا کہیں آپ اس تجویز پر؟

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

11 تبصرے »

  1. علی شاہ نے لکھا؛

    March 31, 2008 at 1:21 am

    نصر جی

    آپ تو پیچھے ہی پڑ گئے گیلانی کہ، کیا ہوا جو موصوف زرا رومانٹک ہیں۔ اور پھر لتا اور ایشوریہ غیر تھوڑی ہیں۔ خیبر سے لے کر مہران تک تو انہی دونوں ک ڈنکا بجتا ہے.
    مجھے حیرت اس بات کی ہے کہ پسندیدہ گلوکارہ لتا ہیں، ناھید اختر نہیں۔ بھہی حد ہوتی ہے طوطا چشمی کی۔

  2. آویز جرمنی نے لکھا؛

    March 31, 2008 at 1:29 am

    جناب محترم نصر ملک۔
    کلاس ون کی جیل میں لیپ ٹاپ پر ، فلمی گیت اور ڈی وی ڈی ۔گھر کا ماحول اور تربیت کی عکاسی ہے ۔ جواس کے شعور میں ہے وہ ہی اس کی پسند ہے ۔
    ہمارے سیاست دانوں کو تو ویسے بھی اپنے ملک کی کوئی چیز پسند ہی نہیں آتی۔
    نہ ڈاکڑوں پر بھروسہ ۔ نہ کسی بنک پر بھروسہ ۔نہ انجنئیروں پر بھروسہ۔ نہ عوام پر بھروسہ ۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
    سر درد کے علاج کے لئے یورپ و امریکہ کے ڈاکٹر ۔تفتیش کےلئے یواین او۔شاپنگ کے لئے دوبئی۔دولت کو محفوظ رکھنے کے لئے سوئیس بنک ۔ بنگلہ کوٹھی بنانے کے لئے انگلینڈ ۔ سڑکیں پل بنانے کے لئے کوریا ۔ بندرگاہ بنانے کےلئے چین ۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔
    اب ۔۔۔۔۔رقص و موسیقی کے لئے انڈین ایکٹریسیں ۔اس کو کہتے ہیں روشن خیال سیاستدان ۔ روشن خیال جمہوریت ؟
    پیازکے چھلکے کے نیچے پیاز ہی نہ نکلے تو اور کیا نکلے ؟

  3. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    March 31, 2008 at 1:40 am

    محترم شاہ جی ۔ سلام مسنون
    ہم اور کسی کے پیچھے پڑیں اور وہ بھی حضرت گیلانی کے‘ ہماری کیا بساط ۔آپ کی حیرت کو میں سمجھتا ہوں ۔ لتا کے گلے میں بولتے “ بھگوان “ کا گلا تو ہم نے گھونٹ دیا ناھید اختر کو “ ہم دیکھیں تو “ کیوں “ دیکھیں “ ۔ ہے جمالو کی دھن پر رقص کرنے والے “ قومی ہیجڑے “ غزل کے گیسو کیسے سنوار سکتے ہیں ۔ ان سے امید ہی کیا کی جا سکتی ہے کہ اپنوں کے لیے بھی چاہت و پیار کے دو الفاظ بول سکیں ۔ جنہیں جیلوں میں گیت سننے فلمیں دیکھنے اور “ میں باغی ہوں “ کے نعرے لگاتے ہوئے کتابیں لکھنے کی وافر آزادی ہو معلوم نہیں وہ جیلوں سے باہر نکل کر یہ رونا کیوں روتے ہیں کہ ان سے بان بٹوایا گیا ۔ وسلام ۔

  4. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    March 31, 2008 at 10:50 am

    ویسے چوایئس بری نہیں رضا گیلانی کی ، محنت کی ھے انہوں نے اپنی سلیکشن بنانے میں اور ویسے ھی قومی اسمبلی میں خواب بھی دیکھائے تھے خود کو ھیرو سمجھتے ھوئے ، علی اب ھمارا وزیراعظم اتنا آوٹ ڈیٹڈ بھی نہیں ھے جو ناہید اختر کو یاد رکھتا ھاں نور جہاں کو بھولنے پر میں نہیں اٰسے بخشنے والی اور اس بات پر میں اٰسے کم علم اور طوطا چشم بھی کہوں گی ، اور بقول آویز جی کہ ہمارے سیاست دانوں کو تو ویسے بھی اپنے ملک کی کوئی چیز پسند ہی نہیں آتی۔ کتنے ستم کی بات ھے ک یہی سچ ھے ۔

  5. خاورچودھری PAKISTAN نے لکھا؛

    March 31, 2008 at 12:36 pm

    “لذت بے آزار“ کا فایدہ کیا ؟ گیلانی صاحب خیر سے جاگیردار بھی ہیں اور بادشاہ بھی۔۔۔۔ قوالیاں سنتے سنتے جب آدمی کا جی اکتا جائے تو لتا کی سریلی آواز میں‌گاننے سننے اور ایشوریہ رائے کے بدن کی موسیقی دیکھنے میں کیا مضائقہ ہے۔۔۔۔۔ان سے پہلے والے سید صاحب تو یہاں تک کہہ گئے ہیں‌کہ “ عشقیہ خطوط بھیجنے کے لیے نانی کا برقعہ استعمال کر تا تھا “اور یہ بھی انھی نے فرمایا تھا کہ “ملکہ برطانیہ کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں میری ماں اور باپ دونوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرکے انعام پایا“
    آویز جی کی باتیں‌من کو لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویسے نصر صاحب! مولانا فضل الرحمان کچھ زیادہ ہی خوش قسمت واقع ہوئے ہیں۔۔۔۔ جیسے اپنے نام کے پہلے حرف “ف“ کا فائدہ نشست کے ضمن میں انھیں‌ہوا ہے۔۔۔۔کیا خیال ہے آپ کا؟

  6. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    March 31, 2008 at 5:47 pm

    جو میں نے کہنا تھا وہ اپ سب نے کہہ دیا. اب میں کیا کہوں. اچھا ھے چپ ھی رھوں.ورنہ بات دور تلک جایے گی

  7. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    April 1, 2008 at 1:16 am

    آویز جی ، نگہت صاحبہ ، خاور جی اور تانیہ صاحبہ ۔
    خاور جی آپ کا کہنا بجا ہے ۔ گیلانی صاحب کو جاگیرداری اور بادشاہ گری تو ورثے میں ملی ہے اور گدی نشینی ان کا موروثی پیشہ ہے ۔ اب یہی وہ قبیلہ ہے جو “ خانقاہوں “ کے تقدس کو پامال کرتا ہے ۔ آپ نے جن بڑے سید صاحب کی طرف اشارہ کیا ہے وہ تو پیدا ہی عشق کرنے کے لیے ہوئے ہیں ۔ اور خود اُن کے بقول اُن کے والدین “ نامی فنکار “ تھے ۔ تبھی توآپ دیکھتے ہیں کہ اب ملک میں “ عزت سادات بھی گئی ۔ “ مولانا فضل الرحمٰن پر رحمٰن کا فضل جاری و ساری ہے اور بیشک اس میں اُن کے نام کے پہلے حرف “ ف “ کا بھی بہت اثر ہے ۔ آخر
    “ فضلہ “ بھی تو ایک خاص جگہ پر رکھا یا اکٹھا کیا جاتا ہے ۔ معاف کیجیئے گا ۔
    آویز جی ، آپ کی باتوں سے تو اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہیں ۔
    نگہت جی ۔ نورجہاں کو کوئی فراموش نہیں کر سکتا ۔ کوئی ہواؤں کا مسافر ہو یا سمندروں کا راہی یا پھر پا پیادہ وہ تو سبھی کے دلوں میں بستی ہیں ہاں واقعی کچھ طوطا چشم ایسے ہیں جنہیں نورجہاں کی فنی عظمت کا اندازہ نہیں لیکن کیا کیا جائے کہ یہی لوگ آج وطن عزیز میں آرٹ و ثقافت کی وزارتوں کے مسندوں پر بٹھائے جا رہے ہیں ۔
    تانیہ جی، آپ سے کیا کہا جائے “ اک چُپ تے سو سُکھ ! “ آپ کی خامشی نے سبھی کچھ تو کہہ دیا ہے ۔ خوش رہیں ۔ وسلام

  8. خاورچودھری PAKISTAN نے لکھا؛

    April 1, 2008 at 11:56 am

    ملک صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلام
    خدا گواہ ہے بڑے دنوں بعد ہنسنے اور خوش ہونے کا موقع پیدا ہوا ہے ۔۔۔ آپ کا جواب پڑھ کر میں دیر تک آپ کی حسِ ظرافت کی داد دیتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم توحضرتِ غالب کے عقیدت مند ہیں اور “مولویوں“ سے وہی بیر رکھتے ہیں جو چچا غالب کو تھا۔۔۔۔۔البتہ علما کے قدر دان ہیں‌چاہے وہ کسی بھی علم کے ماہر ہوں۔۔۔۔۔۔ اَب آپ نے “ف“ سے جو فائدہ ظاہر کیا ہے اس کے بعد تو کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں۔۔۔۔۔۔
    مجھے آپ نے خوش ہونے کا موقع فراہم کیا۔۔۔۔اللہ آپ کو جزا دے

  9. قدیر احمد PAKISTAN نے لکھا؛

    April 1, 2008 at 1:00 pm

    میرا خیال ہے کہ ہمیں سیلیبریٹریز کے ذاتی کردار کو زیادہ توجہ نہیں دینی چاہیے . ہاں اگر وہ کرپٹ ہوں اور کوئی ایسا کام کریں جو ملک کو نقصان پہنچائے تو اس پر گرفت ہونی چاہیے .

  10. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    April 3, 2008 at 4:40 am

    محترم خاور بھائی ۔ سلام وآداب ۔
    اللہ آپ کو سدا ہنستا مسکراتا رکھے ۔ خوش رہیں ۔ شاد وآباد رہیں ۔
    وسلام ۔

  11. سرفراز حسین کیانی نے لکھا؛

    April 4, 2008 at 8:49 pm

    Zahrdarri and Co Belang Ghillani Nat a new Thing . And Sharri Rahman What A New Model . They Cannat do anything for Pakistan ” I am so sarry for Pakistan and bad for Islam Sharri Rahman She is and she can work in Model Club.

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو