April 30, 2008 at 8:04 pm |
راقم : تانیہ رحمان |
بحثو مباحثہ, شاعری, مزاح میں شائع کیا گیا
دوستوں آپ کی ہلکی پھلکی تحریر جو کہ اشعار کی صورت میں ھونی چاہیے۔اور اگر آپ کی اپنی ھو تو کیا بات ھے۔
ایک حسین نظرخوبصروت خیال چاہیئے
حضور آپ کیا فرماتےھیں۔ اظہار چاہئے
یوں تو لکھنے والے بہت ھیں لیکن
ھمیں زراھٹ کے آپ کا انداز چاہئے
مستقل لنک
April 29, 2008 at 4:18 pm |
راقم : تانیہ رحمان |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
پچھلے دنوں اسمبلی میں کہیں جوتا چلا تو کہیں گھونسہ چلا ٹی وی میں اور اخبارات نے بتایا یہ سب حسبِروایت اورایک حسب معمول واقعہ ھے پاکستان کی تاریخ میں یہ کوز پہلا واقعہ نہیں ھے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
April 29, 2008 at 1:31 am |
راقم : تانیہ رحمان |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ میں شائع کیا گیا
ابھی ٹی وی پہ ایک فلم دیکھی . ایک فمیلی کی کہانی تھی جس کی حکمران ساس ھوتی ھے .گھر کا تمام اختیار اس کے ھاتھ میں ھوتا ھے ..ھر فیصلہ ھر لفظ حرفِ آخر ھوتا ھے . بہو سے کوئ مشورہ نہیں لیتی اس کے خیال میں اس کے پاس زندگی بھر کا تجربہ ھے گھر کیسے چلانا ھے گھر اس نے بنایا ھے وہ گھر سے زیادہ محبت کرتی ھیں بیٹا ان کا ھے وہ اپنی محبت میں بہت سے فیصلے ایسے کرتی ھیں جو سب کے حق میں اچھے نہیں .ھوتے.وہ ھر فیصلہ بہتری کے لیے کرتے ھوئے بہت زیادتی کر جاتی ھیں مگر ساسوماں کو اس کا احساس نہیں ھوتے .بہو.بیٹا خاموش رھتے ھیں مگر دل میں ماں سے خفا ھوتے ھیں ..دلوں میں نفرتیں بھڑتی جاتی ھیںً گھر میدانِ جنگ بن جاتا ھے دلوں میں دوریاں آجاتی ھیں . انھیں اپنی کی ھوئ زیادتیوں کا احساس بہت دیر بعد ھوتا ھے
پتا نہیں کیوں ساس کو دیکھ کر مجھے صدر مشرف کا خیال کیوں آیا ..جنرل صاحب کا خیال ھے اگر وہ صدارت چھوڑیں گے تو پاکستان پہ پتا نہیں کیا کیا آفت نازل ھو جائیں گی ان کا وجود پاکستان کی سلامتی کے لیے بہت ضرروی ھےچلیں مان لیا جنرل مشرف نے پاکستان پہ بہت احسان کیے ھیں پاکستان کو بہت مشکل وقت سے نکالا آپ کا نام پاکستان کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا آپ نے عوام کی بہت خدمت کی ان کو پتھر کے دور میں جانے سے بچایا ..فوج میں بہت کام کیا اب آپ آرام کریں اور عوام کو موقعہ دیں کہ وہ آپ کے احسانوں کا بدلہ اتار سکیں آپ کی خدمت کر سکیں …وقت کا تقاضہ ھوتا ھے ھر انسان کو اپنی جگہ چھوڑنی ھوتی ھے وقت کے ساتھ اپنا عہدہ دوسرے کو دینا ھوتا ھے ..جو وقت کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا اسے پھر وقت خود سمجھاتا ھے
مستقل لنک
April 27, 2008 at 7:35 pm |
راقم : نگہت نسیم |
سیاست, شاعری میں شائع کیا گیا
کل کی ایک اھم خبر تھی کہ عراق میں دس سال تک کے بچے جبراً جنگ لڑ رھے ھیں اور اٍس خبر نے ھم سب کو ھی متاثر کیا ھے ۔ یہ بات اور بھی تکلیف دہ ھو گئی ھے کہ اٍس وقت تین لاکھ سے زائد بچے جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم ھے اور »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
April 27, 2008 at 9:06 am |
راقم : خاور چودھری |
سیاست میں شائع کیا گیا
باشی بننے کی خواہش
ترکمان باشی صفرمرادنیازوف ترکمانستانیوں کے باشی یعنی باپ ہیں۔۔۔یہ خطاب انھوں
نے خود اپنے لیے منتخب کیا تھا۔۔۔۔۔اب وہ اس دنیا میںنہیں رہے ہیں۔۔۔ان کی زندگی میںان کی تصویریں ہرچوراہے،اسکول،گلی اور محلے میں موجودتھیں۔۔۔۔قدآدم اور کہیں کہیںآسمان سے باتیںکرتے ہوئے ان کے پورٹریٹ ہمہ وقت قوم کی آنکھوںمیں رہتے۔۔۔اہم شاہراوں اور مقامات پر ان کے مجسمے نہ ہوں یہ ناممکن تھا۔۔۔ملکی مصنوعات یہاں تک کہ شراب کی بوتلوں پر بھی ان کی تصویرتھی اورسب سے حیرت ناک بات یہ کہ ہر اخبار اپنی پیشانی کے ساتھ ان کی تصویرباقاعدگی سے شائع کرنے کاپابندتھا۔۔۔۔بات یہاں ختم نہیںہوتی بلکہ انھوں نے روح نامہ کے نام سے کتاب لکھ رکھی تھی جس کا اطلاق پوری قوم پر ہوتا تھا ۔۔ اگر کوئی شخص اس کتاب کی ہدایات پر عمل نہ کرتا سزاکامستحق ٹھہرتا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نہ رہے اور ان کی جگہ کسی اور نے لی۔۔۔۔آنے والے نے سب سے پہلے اخبارات سے ان کی تصاویرہٹاکراپنی تصاویرلگانے کاکام شروع کیا۔۔۔۔۔یقینا یہ عمل آگے بڑھا ہے۔۔۔۔۔۔۔
مجھے یہاں یہ بات اس لیے یادآئی ہے کہ ہمارے یہاں جنرل پرویز مشرف کو بھی قوم کا باپ بننے کی شدید خواہش تھی۔۔۔خودنمائی کی دھن میں جو کچھ اس آمر مطلق نے کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیںاور اسی کی تتبع میںایک طفیلیے چودھری پرویز الٰہی نے وہ کا م کیا جو آج یقینا ان کے لیے باعث اذیت ہو گا۔۔۔۔ترکمان باشی کی تصویریںتو مرنے کے بعد اتری ہیں مگر ان کی تصاویران کی زندگیوںمیں اتاری جاری ہیں۔۔۔۔۔۔پنجاب میں سرکاری اسکولوں کے طلبامیں مفت تقسیم ہونے والی کتابوں سے جنرل پرویز مشرف اور چودھری پرویزالٰہی کی تصا ویر اتارنے کاکام ڈی سی اوز کی نگرانی میں شروع ہو چکا ہے۔۔۔۔۔چکوال اور اٹک میں یہ کام زروں سے جاری ہے اور ممکن ہے چند روز تک باقی صوبوں میں بھی اس نیک کام کا آغاز ہوجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے باپ بننے کی خواہش
مستقل لنک
April 26, 2008 at 3:41 pm |
راقم : تانیہ رحمان |
بلاگنگ, علم و ادب میں شائع کیا گیا
دوستوں نگہت کےکہنے پر اپنی عمر بھر کی کمائی آپ سب کی نزر۔ امید کرتی ھوں کہ طبیعت پر گراں نہیں گزرے گی۔کیونکہ جانتی ھوں بلاگ میں اتنی لمبی تحریر سہی نہیں ۔عمر بھر کی کمائی۔
آًًماں آماں کہاں ھو ۔ارے کیا ھوا کیوں اتنا شور مچائے جا رہی ھے ،کیا قیامت ٹوٹ پڑی۔آماں نے دالان سے چیخ کر کہا۔آماں ابا کہاں ھیں ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
April 25, 2008 at 5:20 am |
راقم : نگہت نسیم |
بلاگنگ, شاعری میں شائع کیا گیا
سنو جس کمرے کی بات ہمیشہ مجھ سے کرتے ھو
وہی کمرا ھے نا جہاں تم روح اپنی تلاش کرتے ھو »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
April 24, 2008 at 2:30 am |
راقم : نصر ملک |
علم و ادب میں شائع کیا گیا
حفاظتی پیش بندی ۔ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
عزیز و مہربان دوستو’ ساتھیو ۔
ڈنمارک سے ایک مختصر سی کہانی پیش خدمت ہے ۔ امید ہے آپ کے ادبی ذوق لطیف پر پوری اترے گی ۔ میں آپ کی رائے اور تبصرے کا منتظر ہوں ۔
اس کہانی کو اگر آپ عالمی سطح پر مختلف ملکوں کے درمیان “ سرحدی تنازعات “ کے تناظر میں پڑھیں گے تو ممکن ہے آپ میرے مفہوم کو بہترطور پر سمجھ سکیں گے ۔
آپ سب کا خاکسار ۔ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
April 23, 2008 at 10:42 pm |
راقم : شمس جیلانی |
بلاگنگ, شاعری میں شائع کیا گیا
نہ روٹی ہے نہ بجلی ہے نہیں نکلوں میں بھی پانی
فریجا ئل حکومت ہے ،پریشانی ، پریشانی
ہے ایجنڈا شیا طیں کا نہ چلنے دیں گے اس کو
دعا کیجئے ، دعا کیجئے ، خدا سے، شمس ؔ جیلانی
اس پہیلی میںشیاطین کے نام سے ۔۔۔ خالی جگہ پر کیجئے
مستقل لنک
April 23, 2008 at 2:32 am |
راقم : تانیہ رحمان |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
اے بشر
اے بشر
تو خاک کا پتلہ ھے
خاک سے اٹھا ھے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک