اے بشر۔ ۔۔۔ سعدیہ سحر
اے بشر
اے بشر
تو خاک کا پتلہ ھے
خاک سے اٹھا ھے
خاک میں مل کر
پھر خاک ھی ھونا ھے
کرتا ھے کیوں بڑائ
کیا دل میں تیرے سمائ
نفرت کیوں پھیلائ
زندگی سے کسی پل ھے جدائ
رہ جائے گی بس خدائ
اے بشر
تو خاک کا پتلہ ھے
کتنا تو اکڑتا ھے
دولت پہ مرتا ھے
ظلم تو ڈھاتا ھے
حق کو چھپاتا ھے
تقدیروں کے فیصلے خود تو کرتا ھے
موت کے سامنے پر کچھ کر نہیں پاتا ھے
اے بشر
تو خاک کا پتلہ ھے
دنیا جب چھوٹے گی
سانس کی ڈور جب ٹوٹے گی
زندگی جب روٹھے گی
کچھ کر نہیں پائے گا
عاجز ھے تو کتنا
بے بس ھے تو کتنا
اے بشر
تو خاک کا پتلہ ھے
خاک سے اٹھا ھے
خاک میں مل کر
پھر خاک ھی ھونا ھے
سعدیہ سحر……………………………..































نگہت نسیم
نے لکھا؛
April 23, 2008 at 3:27 am
اے بشر
تو خاک کا پتلہ ھے
دنیا جب چھوٹے گی
سانس کی ڈور جب ٹوٹے گی
زندگی جب روٹھے گی
کچھ کر نہیں پائے گا
عاجز ھے تو کتنا
بے بس ھے تو کتنا
اے بشر
تو خاک کا پتلہ ھے
خاک سے اٹھا ھے
خاک میں مل کر
پھر خاک ھی ھونا ھے
بہت عمدہ سعدیہ ۔۔۔ خوش رہو
رانی
نے لکھا؛
April 23, 2008 at 3:25 pm
رانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوش-رھو
انور ظہیر رہیر
نے لکھا؛
April 23, 2008 at 3:56 pm
بہت خوب سعدیہ جی
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 23, 2008 at 7:56 pm
سعدیہ تمھاری نظم کے بارے میں سوچ رہی ھوں .کہ بشر پھر بھی نہیں سمجھتا کہ وہ کیا ھے
سعدیہ سحر نے لکھا؛
April 23, 2008 at 9:33 pm
شکریہ نگہت جب کوئ شاعر تعریف کرتا ھے تو زیادہ خوشی ھوتی ھے ….شکریہ رانی اور انور جی…………
تانیہ ھمارے گھر کے پاس کسی کی وفات ھوئ ….میں سوچ رھی تھی کیا ھے انسان کی حقیقت آج زمین پہ اکڑتا پھرتا ھے اور پل میں منوں مٹی کے نیچے ……
سمجھوتہ
نے لکھا؛
April 24, 2008 at 3:16 pm
کسی کا شعر زیبِ نظر کرتا ہوں۔
ویسے تو آدمی یہ بڑا خاکسار ہے
لیکن وہاں خدا ہے، جہاں اختیار ہے۔
علی
نے لکھا؛
April 24, 2008 at 6:07 pm
سعدیہ کوئ شک نہیں کے اپ کا قلم کافی اچھا چالتا ھے بہت عمدہ
باقی تعریف اگلے سال۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تری تلاش میں نکے تو اندھیاں اُئیں۔ ۔ ۔ مِٹے ہیں پاوَں کے تیرے نشان کدھر جائیں
سعدیہ سحر نے لکھا؛
April 24, 2008 at 8:13 pm
شکریہ سمجھوتا جی ….حسب ِ روایت آپ نے کوئ غلطی نہیں نکالی مجھے یقین تھا کوئ ٹائیپنگ یا املاء کی کوئ غلطی ضرور نکلے گی … بے اختیار لوگوں کے پاس خدا ھوتا ھے بااختیار لوگ تو خود کو خدا سمجھتے ھیں
سعدیہ سحر نے لکھا؛
April 24, 2008 at 8:15 pm
علی شکریہ ….
علی بہت دریا دل ھو …اگلے سال کیوں اگلے جنم میں کرنا باقی تعریف ..سال تو منٹوں میں گزر جاتا ھے —:-ڈ
علی
نے لکھا؛
April 25, 2008 at 12:22 am
سعدیہ چلو اگلے جنم ھی۔ ۔ ۔ انتظار کر لو گی آپ؟
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 25, 2008 at 6:00 pm
سعدیہ دیکھا یوں بھی لوگ ھوتے ھیں خود کو ھی دعا دے کر چلے جاتے ھیں اچھی بات ھے لیکن رانی ھم پھر بھی آپ کو اپنی اس محفل میں خوش آمدید کہتے ھیں اور ساتھ میں یہ امید بھی ھے کہ اگلی دفعہ دعا کا تعفہ ھم سب کے لیے بھی ھو گا.
اکمل سید
نے لکھا؛
April 26, 2008 at 4:15 pm
سعدیہ بی بی
ڈال کر پرق تبشم موت کی جنھکار پر
”گردپا،” لکھ دے غرور وقت کی تلوار پر
یون بھی اک احساس
اکمل سید
نے لکھا؛
April 26, 2008 at 4:17 pm
یون بھی اک احساس ملتا ہے جہان ذات میں
جس طرح جگنوہو صحرا کی اندھیری رات میں
خاور چودھری
نے لکھا؛
April 27, 2008 at 9:20 am
یہی سچ ہے مگر بشر کو ماننے میں کچھ دقت ہوتی ہے