Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

حفاظتی پیش بندی

حفاظتی پیش بندی ۔ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک

عزیز و مہربان دوستو’ ساتھیو ۔
ڈنمارک سے ایک مختصر سی کہانی پیش خدمت ہے ۔ امید ہے آپ کے ادبی ذوق لطیف پر پوری اترے گی ۔ میں آپ کی رائے اور تبصرے کا منتظر ہوں ۔
اس کہانی کو اگر آپ عالمی سطح پر مختلف ملکوں کے درمیان “ سرحدی تنازعات “ کے تناظر میں پڑھیں گے تو ممکن ہے آپ میرے مفہوم کو بہترطور پر سمجھ سکیں گے ۔
آپ سب کا خاکسار ۔ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملک بھر میں یہ خبر ایک بم کے دھماکے سے کم نہیں تھی۔ ’’ آخر کیوں ! ‘ ایسا کیوں؟‘‘
لاری اڈوں سے لے کر کیفے ٹیریوں تک بس ایک ہی سوال تھا جو عوام الناس کے ہونٹوں پر تھا۔
’’یہ سب کچھ کیوں کیا جا رہا ہے؟‘‘
وزیراعظم کی سربراہی میں ‘ عجلت میں بلائے گئے کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں تمام وزراء نے متفقہ طور پر ملک بھر میں’’ ہنگامی حالت‘‘ کے نفاذ کا اعلان کر دیا تھا۔ اور یہ سب کچھ ’’حفاظتی پیش بندی‘‘ کے زمرے میں قرار دیا جا رہا تھا۔
’’حفاظتی پیش بندی‘‘ کے نفاذ نے ملک بھر کے عوام کو بہت حد تک ایک عجیب سی غیر یقینی میں مبتلا کر دیا تھا۔ کیونکہ پڑوسی دشمن ملک کی سرکار اس حفاظتی پیش بندی کو اپنے لئے ایک کھلی دھمکی سمجھ سکتی تھی اور اس کے جواب میں کچھ بھی کر سکتی تھی۔
حفاظتی پیش بندی لاگو ہونے کے ساتھ ہی ملک بھر میں ایک طرح کے خوف کی لہر نے عوام الناس میں ایک ایسی کھلبلی مچا دی کہ وہ کھل کر اظہار بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اپنی آنکھوں میں سوال لئے ہر کوئی ایک دوسرے کو یوں دیکھنے لگا تھا گویا حکومتی اقدامات کا ذمہ دار وہی ہو۔
عوام الناس میں صاحبانِ عقل و شعور بھی اگرچہ اس بات پر متفق تھے کہ اس ’’حفاظتی پیش بندی‘‘ کے نفاذ کے لئے حکومت کے پاس کوئی ٹھوس جواز نہیں تھا۔ لیکن یہ دانشور طبقہ بھی محض قیاس آرائیوں میں اضافے کا سبب بن رہا تھا اور پھر ——- ‘ دشمن پڑوسی ملک نے بھی اپنے ہاں اسی طرح کی ’’حفاظتی پیش بندی‘‘ کا اعلان کر دیا جس سے پہلے ملک کے عوام الناس کی بے چینی اور غیر یقینی میں اضطرابیت کا مزید اضافہ ہو گیا۔
دونوں ملکوں کے عوام الناس اپنی اپنی حکومتوں کے ان اقدامات سے نہ صرف ناخوش تھے بلکہ ان اقدامات کو اپنے اپنے ملک میں سیاسی و سماجی غیر یقینی اور اس وجہ سے افراتفری کی صورتِ حال کا جواز بنار ہے تھے۔ دونوں ملکوں کے اِن لوگوں نے اپنے اپنے ملک میں سرکار کی لاگو کردہ ’’حفاطتی پیش بندیوں‘‘ کے خلاف مظاہرے کئے۔ انہوں نے اپنی اپنی حکومت کے ان اقدامات کے خلاف مظاہروں کے دوران جو پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے ان پر ایک ہی طرح کا مطالبہ لکھا تھا۔’’حفاظتی پیش بندی منسوخ کرو!‘
اپنے اپنے ملک میں یہ لوگ ایک ہی مقصد کے لئے مظااہرے کر رہے تھے۔ ان کے مطالبات یکساں تھے۔ اور اُن کی روزمرہ کی گفتگو کا موضوع بھی ایک ہی تھا۔ ان دونوں ملکوں کی حکومتوں نے اپنے اپنے عوام پر الزام لگایا کہ وہ دشمن کے لئے کام کر رہے ہیں۔ چنانچہ دونوں ملکوں کی حکومتی مشینریاں حرکت میں آگئیں اور انہوں نے اپنے اپنے ہاں ایسے احتجاجی مظاہرے کرنے والوں کو ‘‘حفاظتی پیش بندی‘‘ کے قانون کے تحت حراست میں لے لیا۔
دونوں ملکوں کی حکومتوں کے اپنے اپنے ہاں ان تازہ اقدامات سے ‘ عوام کے طیش و غصے میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ وہ جو بہت زیادہ خفگی اور غصے میں تھے اور پہلے سے حراست میں نہیں لئے گئے تھے انہوں نے پھر مظاہرے کئے اور جلوس نکالے۔ اب کی بار انہوں نے جو پلے کارڈ اور بینرز اُٹھا رکھے تھے اُن پر جلی حروف میں جو نعرے لکھے ہوئے تھے وہ آپس میں ملتے تھے—— ’’ہم گرفتار شدہ مظاہرین کی رہائی ما مطالبہ کرتے ہیں!‘‘
دونوں ملکوں کی حکومتوں نے اپنے اپنے ہاں ان نئے مظاہرین کو بھی جیلوں میں بند کر دیا۔ لیکن حکومتوں کے یہ اقدامات عوام کی بے چینی اور سیاسی اضطرابیت میں مزید اضافے کا سبب بن گئے اور اب ہر دو ملک کے لوگوں نے‘سرِ عام نہ صرف اپنی اپنی جگہ پرحکومتی اقدامات کی مذمت کرنا شروع کر دی بلکہ انہوں نے اپنے اپنے ملک میں سرکاری عمارتوں وغیرہ کی دیواروں پر ’’حفاظتی پیش بندی‘‘ کے خلاف اور گرفتار کے گئے لوگوں کی رہائی کے حق میں نعرے لکھنے کی تحریکیں شروع کر دیں ۔
اب جب دونوں ملکوں کے طول وعرض میں’’حفاظتی پیش بندی‘‘ کے خلاف آوازیں اُٹھنے لگیں تو دونوں ملکوں کے وزیر اعظموں نے اپنی اپنی کابینہ کا اجلاس طلب کیا۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے ان اجلاسوں کے بعد‘ دونوں ملکوں کے وزراء اعظم نے اپنے اپنے عوام کو ٹیلی ویژن اور ریڈیوپر ایک ہی وقت پر خطاب کرتے ہوئے اپنی اپنی تقریر میں واشگاف الفاظ میںاعلان کیا کہ وہ اپنے عوام کی طرف سے مظاہرے کئے جانے کی وجوہات کو خوب سمجھتے ہیں۔ اور انہیں مظاہرین کی نیک نیتی پر قطعاً کوئی شک و شبہ نہیں‘ لیکن شر اور جنگ کے خطرات حاوی ہوں تو محض مثبت خیالی اِن خطرات پر قابو پانے کے لئے کافی نہیں ہوتی۔
دونوں ملکوں کے وزراء اعظم نے اپنے اپنے عوام کو اپنی اپنی بھاشا اور زبان میں بتایا کہ وہ ان اقدامات کا احترام کریں جو حکومت نے ان کے اپنے تحفظ و مفادات میں کئے ہیں۔ ان دونوں وزرائے اعظم نے اپنے اپنے ہاں ’’ حفاظتی پیش بندی‘‘ کے نفاذ میں جو دلیلیں پیش کرکے اپنے اپنے مؤقف کو تقویت دی اُن دلیلوں کا لب لباب یہی تھا۔
’’ہم اپنے آپ میںامن جو اور امن گر ہیں‘ ہم جو شانتی و بھائی چارے اور اخوت پر ایمان رکھتے اور اسے دھرم مانتے ہیں۔ ہم دینا کے محض چھوٹے سے حصّے پر حکمرانی کرتے ہیں‘ بد قسمتی سے ہمیں ناگوار حقیقتوں کی طرفداری کرنی ہوگی اوریہ عمل ہم نے خوش قسمتی سے شروع کر دیا ہے‘ کیونکہ اسی میںہی ہماری بقا اور ہمارے ملک کی سالمیت کی ضمانت ہے ۔ # # #

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

8 تبصرے »

  1. خاور چودھری PAKISTAN نے لکھا؛

    April 24, 2008 at 3:46 pm

    ملک صاحب
    آداب عرض
    آپ نے اس عہد کم سواد کی تاریخ رقم کردی ہے۔۔۔۔ میں‌اسے عہد موجود کا نوحہ کہتا ہوں۔۔
    چلتے رہیے اور جلتے رہیے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ دونوں عمل کناروں تک پہنچاتے ہیں۔۔۔کہتے ہیں کسی کے لیے دو لمحے سوچنا بھی عبادت ہے اور آپ نے اپنا بیشتر وقت دوسروں کے لیے سوچنے میں گزارا ہے۔۔۔۔
    اللہ آپ کو جزائے خیر دے

  2. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 11:51 am

    نصر جی بہت ھی پُر تاثر تحریر اور حقیقت پسندانہ تجزیہ ارد گرد کے حالات کا ، ایسے میں مجھے فراز کے چند اشعار یاد آ رھے ھیں ۔پڑھنے والوں کی نظر کرتی ھوں

    ڈوبنے والا تھا اور ساحل پہ چہروں کا ہجوم
    پل کی مہلت تھی میں کس کو آنکھ بھر کے دیکھتا
    تو بھی دل کو اک لہو کی بوند سمجھا فراز
    آنکھ گر ھوتی تو قطرے میں سمندر دیکھتا

  3. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 1:38 am

    محترمہ نگہت نسیم صاحبہ و محترم خاور چودھری صاحب
    سلام مسنون ۔
    آپ دونوں کے مہربانہ خیالات کے لیے ممنون ہوں ۔ اللہ آپ دونوں کو خوش رکھے ۔ آمین ۔

    نگہت جی اشعار کا شکریہ ہماری جانب سے بھی ایک شعر سن لیجئے ۔

    اے موج بلا اُن کو بھی ذ را دو چار تھپیڑے ہلکے سے
    کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں ۔

    وسلام ۔

  4. سمجھوتہ AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 7:59 pm

    برادرم عالی قدر نصر صاحب۔
    سلام و احترامات۔آپکی تمثیل پڑھی۔ تمثیل کیا دنیا نامہ تھا۔ آپکی نظر ایک قرطاس خراشی پیش کر رہا ہوں۔ ۔۔۔۔۔بصد احترامات۔

    میں کیوں نہ کچھ بھی کہ سکا

    اے خواب و خیال و گماں میرے
    میری سوچ کے حسیں شاہکار
    تو جب تلک اک خیال تھا
    میں نے تجھ کو چاہا کیا بہت
    کئی پہر تجھ سے میں بولتا
    کئی درد تو میرے بانٹتا
    توسنور سنور کے میری سوچ میں
    اتر گیا دل بے خبر میں تھا چار سو
    جو میر ے گمان و گیان میں
    اک جنوں کی صورت پکڑ گیا
    جو رہا نیاز کی شکل میں
    تو کبھی حال میں مجھے لے گیا
    ہوا آنکھ سے بھی ادا کبھی
    تو زبان سے بھی نکل گیا
    تجھے جانتا ہے تمام شہر
    میری ذات کے اعتبار سے
    فقط خواب قیس کے طور پر!

    پھر نجانے، ایسا بھی کیا ہوا
    وہ جو خیال تھا میری سوچ کا
    اک جسم اسکو عطا ہو ا
    اک وجود اسکو بھی مل گیا
    وہ یوں کہ تو مجھے مل گیا
    جو حد امکان میں نہ تھا کبھی
    وہ خواب سچ میں ڈھل گیا
    جوٹ سچ میں بدل گیا۔۔۔
    میری آنکھ حیرت میں ڈھل گئی
    میرے سامنے میرا شاہکار
    تھا کھڑا منتظرمیری بات کا۔

    میرے ہونٹ لرزاں تو ہو سکے
    پہ نہ منہ سے لفظ نکل سکا۔۔۔۔
    میں توسوچتا ہی یہ رہ گیا
    آیا میں تجھے کہوں مرحبا
    یا یہ پوچھ لوں اے میرے گماں۔۔۔۔۔
    تجھے کب کیا گیا خلق تھا
    میری سوچ میں تو‘ تو تھا ہی تھا
    کیوں وہ مہرباں تھا میرے خواب پر
    کہ اسے وجود میں ہے ڈھال کر
    جو بے نیاز ہے ہر اک چیز سے
    میرے خواب کو کیا معتبر!
    یاکہیں خد ا نے میری سوچ سے
    ترے خال و خد تو نہیں لئے؟

    پہ یہاں عقیدہ میرے دین کا
    تھا مجھے خموش کرا گیا۔۔۔۔
    گو جنوں ہے باقی نہ حال ہے
    پرمیں پھر بھی سوچتا رہ گیا۔
    پھر یہ میں نے خود سے یہ کہ دیا
    کہ خلاق ہے جو جہان کا
    ہے وہی مصور میری سوچ کا
    یوں میں نے خود کو بچا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔

  5. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    April 27, 2008 at 2:51 am

    محترم و مکرم برادرم سمجھوتہ صاحب دائم اقبالہ‘

    آپ کی توجہ اور ذرہ نوازی کے لیے انتہائی مشکور ہوں ۔ آپ جیسے محترم بھائیوں کی جانب سے ہمت افزائی ہی در اصل مجھے لکھنے کی تحریک عطا کرتی ہے ۔ میں آپ کی توجہ کا بطور خاص انتظار کرتا ہوں اور اس کے لیے ممنون ہوں کہ آپ کی “ نگاہ “ میں ہوں ۔

    آپ نے جو نظم “ میں کیوں نہ کچھ بھی کہہ سکا “ پیش کی ہے اس کے پہلے ہی مصرعے نےمجھے جناب ن م راشد کی ایک طویل نظم “ گماں کا ممکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو تُو ہے میں ہوں“ کی یاد دلا دی ۔ ان دونوں نظموں میں “ خواب و خیال و گماں “ اور “ سوچ کے حسیں شاہکار“ جیسے استعارے آپس میں کتنی خوبصورت مشابہت رکھتے ہیں ۔ ن م راشد صاحب ہمارے بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اُن کی تو خیر بات ہی کیا لیکن صاحب آپ کی نظم میں
    “ آپ کی سوچ کے حیسن شہکار “ کا جس طرح اچانک ظہور نظم کے اختتام پر سامنے آتا ہے
    اس سے “ خواب و خیال اور گماں “ کے حقیقی خالق کی جو تصویر ابھرتی ہے اور جس کے سبب آپ “ شاعر “ جو خود کوبچا لیتے ہیں وہ ‘ اور وہ “ خالق “ دونوں کچھ یوں ہو جاتے ہیں کہ معاملہ اس ابدی حقیقت کو سامنے لے آتا ہے کہ “ تو من شدی من تو شدی ۔“میری رائے میں یہی ابدیت ہے ۔
    آج بلاگ کی اس دنیا میں ایک دو اور جگہوں پر بھی آپ کی تحریریں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ مانا کہ اور بھی غم ہونگے محبت کے سوا‘ لیکن محفل سے آپ کی اس طرح کی لمبی یا مختصر غیر حاضری ہمیں اچھی نہیں لگتی ۔ آخر کوئی تو ہمیں راہ دکھانے والا ہمارے ساتھ ہونا چاہیے ۔
    بصد خلوص و احترام آپ کا خاکسار

  6. سمجھوتہ AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 27, 2008 at 6:44 am

    مکرمی و محترم برادرم نصر ملک صاحب۔
    احترامات۔
    بندہ ایک انتہائی نا اہل اور اجہل انسان ہے، جس کا جناب ن۔میم راشد جیسے سورج کے ساتھ تقابل کی کوئی سبیل بنتی نظر نہیں آتی۔ یہ ایک آوارہ صریر کی چند خراشیں تھیں جو میں نے جرم و جراء ت کر کے آپکی خدمت میں ارسال کردیں، لیکن جہاں آپکی محبت سے مجھے اپنے قد سے بڑھ کر پذیرائی کا امکان تھا، ساتھ ہی وہاں اپنی کم مائیگی کا ادراک اس خوف کو سر پر بٹھائے ہوا تھا کہ کہیں خاموش رہنے کا حکم نہ مل جائے۔۔۔۔
    آپ جیسے عالم اور فرض شناس قلمکار کی تحریروں پر مجھ نا بلد کے کے تبصرے کیا وقعت رکھتے ہیں، لیکن تھوتھا چنا باجے گھنا کے مصداق، کچھ نہ کچھ کہتا بھی رہتا ہوں۔ آپکی محبت اور پذیرائی کا تہہ دل سے مشکور و ممنون ہوں۔ آپنے درست کہا کہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا، اور اب کے سوچا تھا کہ صرف محبت کا دکھ ہی نباہیں گے، تا کہ کہیں روح فیض تو ہم سے خوش رہ سکے۔ پر کریں کیا کہ پتہ چلا کہ تمام دکھ اسی محبت کے پیدا کردہ ہیں۔ یہی محبت چاہتی ہے کہ اسکے ساتھ باقی دکھ بھی بانٹ لئے جائیں کیونکہ اس وصل کی راحت کو پانے کے لئے ہمیں مسدود کوچہ و بازار سے کئی جسم اٹھانے پڑتے ہیں۔ایسے میں ذہن تو اپنے اپنے مدعا کی طرف ہی مبذول رہتا ہے، لیکن ہاتھ اور آنکھ کوچہ و بازار رہتے ہیں مصروف۔ ایسے میں مجھے اپنے عم مرحوم جناب علامہ شاد گیلانی جو اپنے عہد کے سید الجفار بھی تھے ولی کامل بھی، انکا یک شعر یاد آرہا ہے۔۔۔۔

    یہ مذاق ہے مشیت کا آدمیت سے
    کہ عشق دے کہ اسے عقل بھی عطا کر دی۔

    بہر کیف بندہ غیر حاضری پر معافی کا طلبگار ہے، اور آپ سے نیاز مندی کا سلسلہ قائم رہے گا۔۔انشاءاللہ
    والسلام مع الاکرام

  7. صعرفراز ھئسساین کاےانی GERMANY نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 8:49 pm

    Jiss kii Lathii Aussi Kii Behans.

  8. محمدحسن PAKISTAN نے لکھا؛

    May 10, 2008 at 11:03 pm

    السلام علیکم و مزاج ہمایوں….
    امید ہے کہ مزاج بخیر ہونگے . میں ایک جاہل مطلق انسان ہوں .پہلی مرتبہ اس ویب پر وزٹ کیا تھا اور یہ جان کر بے انتہا خوشی ہو

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو